مسلمان ماں کی ہندو بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ کیوں نہیں ملا؟

26

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں وراثت کا ایک ایسا معاملہ سامنے آیا جس میں اسلام قبول کر لینے والی ماں کی جائیداد میں ان کی ہندو بیٹیوں کے حصے پر تنازع کھڑا ہو گیا۔احمد آباد کی ایک عدالت نے ایک مسلمان ماں کے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی مراعات میں ہندو بیٹیوں کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔اس خاتون کی تینوں بیٹیوں نے عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے والد کی وفات کے بعد ان کی بیوہ والدہ کو ہمدردی کی بنیاد پر نوکری ملی تھی۔

اس لیے ان کی والدہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی مراعات پر ان کا بھی حق ہے۔احمد آباد سے اس بارے میں معلومات دیتے ہوئے ان لڑکیوں کے وکیل بی پی گپتا کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی جانب سے حصے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘اس پر مقامی عدالت نے کہا کہ چونکہ آپ کی والدہ مسلمان ہیں اور ان کا بیٹا بھی مسلمان ہے، اس لیے اس پر صرف بیٹے کا حق ہے کیونکہ ریٹائرمنٹ کے بعد کی جائیداد ماں کی ہی تھی، لہٰذا یہ بیٹے کے حق میں ہی جائے گی۔’یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ماں نے اپنے سروس ریکارڈ میں اپنے بیٹے کو ہی نامزد کیا تھا۔

ایڈووکیٹ بی پی گپتا نے کہا کہ عدالت نے نامزدگی کے بارے میں ضرور کہا لیکن یہ بھی کہا کہ بیٹیاں ہندو ہیں اور ماں مسلمان ہے، اس لیے وہ قانون کی نظر میں خاتون کی بیٹیاں تو ہیں، لیکن قانونی وارث نہیں ہیں۔

مسئلہ کیا ہے؟

اس معاملے پر وکیل بی پی گپتا نے بتایا کہ اس خاتون کا شوہر پبلک سیکٹر میں کام کرتا تھا۔اس وقت ان کی دو بیٹیاں تھیں اور خاتون اس وقت حاملہ تھیں جب شوہر کی وفات ہوئی۔ ’اس خاتون کو ہمدردی کی بنیاد پر نوکری ملی۔‘

لیکن اس کے بعد خاتون گھر سے چلی گئیں اور تینوں لڑکیوں کی دیکھ بھال دادا دادی نے کی۔ وکیل کا کہنا ہے کہ ’بعد میں اس خاتون نے اسلام قبول کر لیا اور ایک مسلمان مرد سے شادی کر لی۔‘

اس شادی سے انھیں ایک بیٹا ہوا۔

اس کے بعد سنہ 1990 میں تینوں بیٹیوں کی جانب سے ان پر وراثت اور کفالت کا دعویٰ کیا گیا اور وہ مقدمہ جیت گئیں۔سنہ 2009 میں خاتون کی وفات ہوگئی۔ مگر مرنے سے قبل انھوں نے اپنے بیٹے کو سروس بُک میں نامزد کیا تھا۔

اس کے بعد بیٹیوں کی جانب سے ماں کے ریٹائرمنٹ پر ملنے والی مراعات، پروویڈنٹ فنڈ، گریچویٹی، انشورنس اور دیگر فوائد پر اپنے شیئر کا دعویٰ کیا گیا اور کہا گیا کہ وہ ان کی بائیولاجیکل بیٹیاں ہیں اور پہلے درجے کی وارث ہیں۔اس کے ساتھ تینوں بیٹیوں نے اپنی والدہ کے اسلام قبول کرنے اور بیٹے کو جانشین بنانے کو بھی چیلنج کیا۔

اس پر عدالت نے ان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کی تبدیلی مذہب، رجسٹریشن نکاح اور سروس ریکارڈ میں نامزدگی کے حوالے سے دی گئی دستاویزات درست ہیں۔

ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ اگر متوفی مسلمان ہے تو اس کا پہلے درجے کا وارث غیر مسلم نہیں ہو سکتا۔
عدالت میں دیے گئے فیصلے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے وکیل بی پی گپتا کا کہنا ہے کہ ’مرنے والے مسلمان کے وارث صرف مسلمان ہی ہو سکتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی یہی بات صادق ہے کیونکہ متوفی خاتون نے اسلام قبول کیا تھا اور اس کی بیٹیاں ہندو ہیں۔ اگرچہ مدعی مرنے والی خاتون کے وارث ہیں لیکن میراث میں ان کا کوئی حق نہیں ہے۔’

اس معاملے میں، عدالت نے گجرات ہائی کورٹ کی نینا فیروز خان پٹھان عرف نسیم فیروز خان پٹھان کیس کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ’محمڈن قانون تمام مسلمانوں پر لاگو ہوتا ہے۔‘ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ہندو جانشینی ایکٹ کے مطابق بھی ہندو بیٹی کا مسلمان ماں کی جائیداد میں کوئی حق نہیں ہے۔

انڈیا کے معروف آئینی ماہر پروفیسر فیضان مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ جہاں تبدیلی ہوتی ہے وہاں ’رشتہ ختم سمجھا جاتا ہے۔‘وہ ایک مثال دے کر بتاتے ہیں کہ ’فرض کریں یہاں اگر ماں ہندو ہوتی اور بیٹیاں مسلمان، تب بھی جائیداد پر بیٹیوں کا حق نہیں ہوتا۔‘

مسلم قانون اور ہندو جانشینی ایکٹ 1956 جائیداد میں حقوق کے بارے میں کیا ہے؟

ہندو جانشینی ایکٹ 1956 نے باپ کی جائیداد میں بیٹی کو قانونی حق دیا ہے۔ہندومت کے علاوہ یہ قانون سکھ، جین اور بدھ مذاہب کے افراد پر بھی نافذ العمل ہے۔کسی شخص کی موت کے بعد اس کی جائیداد کیسے تقسیم ہوگی، یہ اس قانون میں بتایا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس کی دفعہ 14 میں خواتین کو یہ حق دیا گیا ہے۔

البتہ اس سے پہلے اگر کسی شخص نے اپنی وصیت میں کسی لڑکی یا عورت کو حصہ نہیں دیا ہوتا تھا تو اس لڑکی یا عورت کو آبائی جائیداد میں مردوں کے مقابلے کم حصہ ملتا تھا۔

اس کے بعد ہندو جانشینی (ترمیمی) ایکٹ 2005 لایا گیا اور اس کی دفعہ 6 میں ترمیم کی گئی۔اس ترمیم کے ذریعے بیٹیوں اور بیویوں کو جائیداد میں بیٹوں کے مساوی حقوق دیے گئے۔اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اگر والد کی وفات 2005 سے پہلے ہوئی تو بھی عورت کو جائیداد میں برابر کا حق ملے گا۔

لیکن اگر کسی ہندو کا وارث سکھ، بدھ مت اور جین کے علاوہ کوئی دوسرا مذہب اختیار کرتا ہے تو اسے جائیداد میں کوئی حق نہیں ملے گا۔

وصیت کیے بغیر عورت مر جائے تو تقسیم کیسے ہو

گی؟
قانون میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کسی عورت نے اپنے والد سے جائیداد حاصل کی ہے تو وہ اس کے بچوں کو دی جائے گی۔اگر اس عورت کی اپنی اولاد نہ ہو تو جائیداد عورت کے والد کے دوسرے ورثا کے پاس جائے گی اور اگر یہ جائیداد شوہر کے ذریعے ملی ہے تو جائیداد شوہر کے وارثوں کو جائے گی۔ ایسے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو وصیت کرنی چاہیے۔

مسلم لا میں وصیت کے بارے میں کیا کہا گیا؟
مسلم لا کے بارے میں بتاتے ہوئے فیضان مصطفیٰ بتاتے ہیں کہ یہاں وصیت کو دو ایک کے تناسب سے تقسیم کیا گیا ہے۔یعنی بیٹے کا حصہ دو گنا اور بیٹی کا حصہ آدھا۔فرض کریں کہ ایک شخص کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے اور جائیداد کے تین حصے ہیں تو دو حصے بیٹے کے نام ہوں گے اور ایک حصہ بیٹی کو دیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں آبائی جائیداد کو نہیں مانا جاتا اور اسلام پہلا مذہب ہے جس میں شروع سے ہی بیٹی کو وارث تصور کیا گیا ہے۔اسلام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عورت کو اس کے باپ، شوہر اور بیٹے کی جائیداد میں حصہ دیا جائے۔(بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)