• 425
    Shares

نئی دہلی، 24اگست (یوا ین آئی) ملک میں مسلمانوں کی تقدیر اور تصویر بدلنے کے لئے مسلمان اپنے درمیان سے رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ کا انتخاب نہ کریں بلکہ لیڈر بنائیں کیوں کہ رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ پارٹی سے بندھے ہوتے ہیں جب کہ قائد آزاد ہوتا ہے۔ یہ بات آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بہار کے صدر اور رکن اسمبلی اختر الایمان نے یہاں ’ہندوستان کے ذات پات پر مبنی سیاسی نظام میں کمزور طبقات کا استحصال اور اس کا حل‘کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں نے آج تک صرف رکن اسمبلی یارکن پارلیمنٹ ہی منتخب کرتے آئے ہیں کسی ایسے فرد کو قائد نہیں بنایا جو ان کے مسائل کو صحیح جگہ اٹھاسکیں، ان کو حل کرواسکیں۔ انہوں نے کہاکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں نے صرف حکومت بنانے کے لئے ووٹ دیا ہے اپنے مسائل کو حل کرانے کے لئے نہیں ووٹ دیا۔ اس لئے یہاں کی سیکولر پارٹیوں نے مسلمانوں سے تعلقات ووٹ لینے کی حد تک ہی رکھا۔ کیوں کہ مسلمانوں کا حکومت میں ہونا اور مسئلہ کا حل دونوں الگ بات ہے۔

 

انہوں نے کہاکہ لیڈر شپ اور قیادت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ بہار میں اگر یادو سماج کا بول بالا ہے اور ہر شعبے میں یادو نظر آتے ہیں تو اس کا سہرا لالو پرساد یادو ہی کے سر جاتا ہے۔ کیوں کہ یادو سماج نے اپنے اندر سے قائد پیدا کیاجس نے یادو کے لئے کام کیا۔ اسی طرح کانشی رام اور محترمہ مایاوتی نے دلت سماج کو اٹھانے کا کام کیا کیوں کہ دلتوں نے انہیں اپنا قائد تسلیم کیا اور ان کی آواز پر لبیک کہا۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو سیاسی استحصال روکنے کے لئے سیاسی طور پر ہی لڑنا ہوگا اور اس لڑائی کے لئے سیاسی طور پر متحد اور منظم ہونا ہوگا ورنہ مسلمان ہمیشہ کی طرح ووٹ بینک کی طرح ہی استعمال کئے جائیں گے اور پھر دودھ سے مکھی کی طرح پھینک دئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ آزادی کے بعد بھی سرکاری ملازمت میں مسلمانوں حصہ داری 20 فیصد سے زائد تھی لیکن آج تین چار فیصد سے زائد نہیں ہے۔ جب کہ ایس سی، ایس ٹی اور پسماندہ طبقات کی ملازمت میں بہت اضافہ ہوا ہے کیوں کہ ان کے یہاں لیڈر شپ ہے۔ لیڈر شپ ہی حکومت کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر اور متعلقہ پلیٹ فارم پر اواز اٹھاتی ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے قدیم ہندوستان میں استحصال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑا طبقہ چھوٹے کا طبقہ کا ہمیشہ سے غلام رہا ہے۔ مذہبی استحصال حوالے سے ان کی زندگی جہنم بنائی گئی تھی جب ہندوستان میں اسلام آیا تو اس نے مساوات کا درس دیا اور کچھ تبدیلی آئی لیکن یہاں اسلام بھی ذات پات کے نظام میں جکڑے سماج کی زنجیروں کو کاٹ نہ سکا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ آج ہندوستان میں مسلمانوں کے درمیان بھی یہی ذات پات کا نظام رائج ہے جو ہندوؤں میں ہے۔
انہوں نے بھی لیڈر شپ کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے کہاکہ آپ کو اپنے اندر سے لیڈر شپ پیدا کرنی ہوگی کیوں کہ ایم ایل اے ایم پی کا آپ ووٹ لیکر منتخب ہوجاتے ہیں لیکن قائد آپ کے مسائل حل کرتے ہیں، آپ کے بارے میں سوچتے ہیں،۔

 

آل انڈیا مجلس اتَحاد المسلمین بہار یوتھ ونگ کے صدر ایڈووکیٹ عادل حسن آزاد نے کہاکہ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کاآغاز آزادی کے وقت سے شروع ہوگیا تھا جب 341میں صدارتی ایگزی ٹیو آرڈر کے ذریعہ مسلمانوں کو نکال دیا گیا تھا۔ اگر اس وقت کے ہمارے اکابرین چاہتے تو اسے روک سکتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ میٹنگ میں ذات پات پر مبنی مردم شماری میں مسلمانوں کی ذات پات کو شامل کرنے کے ساتھ سیمانچل کے مسائل پر بھرپور گفتگو کی گئی اور ہمارے قائد اختر الایمان نے سرجاپوری کو او بی سی میں شامل کرنے سمیت پورنیہ میں ایرپورٹ چالو کرنے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کشن گنج شاخ کے فنڈ جاری کرنے، سیمانچل کے خصوصی درجہ دینے، پورنیہ میں پٹنہ ہائی کورٹ کی بینچ ؎قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ دیگر لوگوں کے ساتھ کوچا دھامن کے ایم ایل اے اظہار اصفی نے بھی اظہا رخیال کیا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔