مسلمانو ں کے خلاف جاری منافرت کی مہم اور سیاسی مفاد کے لیے مذہب کا غلط استعمال ملک سے سراسر دشمنی اور بغاوت:جمعیۃ علماء ہند

1

 کلکتہ /نئی دہلی، 11 دسمبر (یو این آئی)ملک میں مسلمانوں پر ہونے والے حملے کی واردات میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہاکہ مسلمان اور اس کی مذہبی شناختوں پر حملہ عمومی شکل اختیار کرتاجارہا ہے، ایسے وقت میں جمعیۃ علماء ہند کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہو گی اور اسے آگے آکر حالات کا مقابلہ کرنا ہو گا، نیز ایسے لائحہ عمل طے کرنے ہو ں گے جن کے ذریعہ باہمی منافرت کی فضا ختم کی جاسکے اور یہ غلط فہمیوں کے ازالے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

جمعیۃ بھون کلکتہ میں قومی مجلس عاملہ کا دوروزہ اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مجلس عاملہ نے اپنے اجلاس میں کافی غورو خوض کے بعد یہ طے کیا کہ سیرت ودیگر زیر بحث مسائل اور عناوین پر رسالے اور مختصر ویڈیوز تیار کرنے کے لیے جمعیۃ علماء ہند کے قدیم شعبہ ’دعوت اسلام‘ کا احیا کیا جائے اور اس سلسلے میں مستقبل کے پلان تیا ر کیے جائیں۔نیز اہانت رسول کے مرتکبین کے لیے باضابطہ سزا دلانے سے متعلق قانونی اقدام کا جائزہ لیاگیا اور طے ہوا کہ سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے جو عرضی دائر کی گئی ہے، اس پر ہر ممکن کوشش کی جائے۔

مجلس عاملہ نے ایک اہم تجویز میں برسراقتدار پارٹی کی سرپرستی میں جاری منافرتی مہم اور سیاسی مفاد کے لیے مذہب کے غلط استعمال کو ملک سے سراسر دشمنی اور بغاوت قرار دیا۔تجویز میں کہا گیا ہے کہ”سیاسی اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے مذہب اور مذہبی علامتوں کا استحصال، ہماری ملکی سیاست کا انتہائی قابل مذمت مزاج بنتا جارہا ہے۔سیاست میں وقتی مفاد او رالیکشن میں ووٹ بٹورنے کے لیے اکثریتی طبقے کو خوش کرنااور جذباتی نعروں کے ذریعہ اس کی حمایت حاصل کرنا اور مسلمانوں اور ان کے حقیقی مطالبوں سے صرف نظر کرنا بھی اسی سیاسی ہتھکنڈے کا حصہ ہے۔“

مجلس عاملہ نے آگے تجویز میں مسلم دشمن عناصر کی سرکار کی حمایت اور حوصلہ افزائی پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ”مسلمانوں کو برانگیختہ کرنے کے لیے شعائر اسلام، مساجد، نماز اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی توہین کے واقعات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں اور سرکار اور انتظامیہ کی طرف سے ایسے عناصر کی حمایت و حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔دوسری طرف مسلمانوں کو اشتعال دلاکر انھیں دیوار سے لگانے اور الگ تھلگ کرنے کی کوشش طویل مدت سے جاری ہے۔ حالاں کہ مسلم اور اسلام دشمنی کے اعلانیہ او راجتماعی اظہارکے باعث عالمی سطح پر وطن عزیز کی بدنامی ہو رہی ہے اور اقوام عالم میں ہندستان کی متعصب، تنگ نظر، مذہبی انتہا پسندشبیہ بن رہی ہے، اس کی وجہ سے مختلف ممالک کے ساتھ ہمارے قدیمی تعلقات پر منفی اثرات پڑرہے ہیں اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ہندستان مخالف عناصر کو اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کا موقع مل رہا ہے۔“

”ایسی صورت حال میں ملک کی سالمیت اور ترقی کے حوالے سے جمعیۃ علماء ہند، برسر اقتدار پارٹی کو متوجہ کرنا چاہتی ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات اور پالیسیوں سے بازآئے جو کہ جمہوریت، انصاف اور مساوات کے تقاضوں کے خلاف ہیں،نیز صرف اور صرف مسلم اور اسلام دشمنی پر مبنی ہیں۔یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ اکثریت کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرکے اپنے تسلط کو قائم رکھنا ملک کے ساتھ وفاداری اور محبت کے بجائے سراسر دشمنی اور بغاوت ہے۔

”بر سر اقتدار طبقے کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانو ں کے خلاف نفرت پھیلانے والے عناصر کی مذموم حرکتوں کی وجہ سے ملک کی ترقی کے اقدامات پر پانی پھر گیا ہے اور ان کی ا فادیت پس پشت چلی گئی ہے، یہ ملک مسلمانوں کو نظر انداز کرکے کبھی بھی خوشحال اور ترقی یافتہ نہیں بن سکتا۔ جمعیۃ علماء ہند نے انصاف پسند اور ملک دوست افراد، جماعتوں اور گروہوں سے اپیل کی ہے کہ”رد عمل اور جذباتی سیاست سے کنارہ کشی کرتے ہوئے متحد ہو کر شدت پسند اور فسطائی طاقتوں کا سیاسی اور سماجی سطح پر مقابلہ کریں اورملک میں بھائی چارہ، باہمی روداری او رانصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن جد وجہد کریں۔“

”امت کے نوجوانوں اور طلبہ کی تنظیموں کو ہم خاص طور سے متنبہ کرنا چا ہتے ہیں کہ وہ اندرونی و بیرونی وطن دشمن عناصر کے براہ راست نشانے پر ہیں، انھیں مایوس کرنے، بھڑکانے اور گمراہ کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے، ہمارے سامنے سیکڑوں مسلم نوجوانوں کی مثال ہے جنھیں جہاد کے نام پر دھوکہ دے کر پھنسایا گیا یا دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگاکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔اس لیے بالخصوص مسلم نوجوانوں کو چاہیے وہ جہاد کے نا م پر کسی فریب کا شکار نہ ہوں اور اپنے قائدین پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی باتوں پر عمل کریں۔“

”وقت کا شدید تقاضا ہے کہ ہم اپنی بگاڑی گئی شبیہ کو بدلیں اور ملکی، ملی و دینی شعور کی ہم آہنگی کے ساتھ، جسمانی، ذہنی و ر وحانی طور سے تندرست، بہادر، جاں نثار، انسانیت دوست، او رملک کے وفادار شہری کا ایسا نمونہ پیش کریں جس پر ہمارے ملک و قوم کو ناز ہو۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو ایسے خطوط پر منظم کرنا چاہیے کہ ملک میں رونما ہونے والے آفات و حوادث یا بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے میں وہ سب سے آگے ہوں۔“