مسلمانوں کے لئے ملک کے حالات مشکل، لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں:مدنی

دیوبند:28مئی(یواین آئی) اترپردیش کے ضلع سہارنپور میں واقعہ دارالعلوم دیوبند میں جمعیتہ علما ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے مجلس منتظمہ کے سالانہ اجلاس میں موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے لئے ملک کے حالات مشکل ضرور ہے لیکن مایوس نہ ہوں۔جمعیتہ علما کا دو روزہ مجلس منتظمہ کا اجلاس کا آج آغاز ہوا۔دیوبند کے عیدگاہ میدان میں اجلاس کے پہلے سیشن سے خطاب دوران مولانا مدنی جذباتی ہوگئے اور کہا کہ ملک میں آج مسلمانوں کا جینا مشکل ہوگیا۔ ہمیں ہمارے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا گیا ہے۔ ہم ظلم برداشت کریں گے لیکن ملک پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ آج ملک کے جو حالات ہیں ان سے مسلمانوں کومایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جمعیتہ ان کے وقار اور حقوق کی لڑائی لڑنے کومیدان میں موجود ہے۔

ہمیں نفرت پھیلانے والوں کے دام میں نہیں پھنسنا ہے اور نفرت کا جواب محبت،امن اور آہم آہنگی کومضبوط کرکے دینا ہے۔
مولانا نے کہا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتین ہیں۔ جبکہ سماج اور ملک اپنے جگہ قائم و دائم رہتے ہیں۔ ہم انتہا پسند فاششٹ طاقتوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے اور اپنے آبا واجد کی طرح قوم اور اس کے قائم اقدار کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ جمعیتہ ملک میں تعلیم کی ترسیل، امن و امان اور آپسی بھائی چارہ قائم کرنے، ناانصافی اور تفریق کے خلاف کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔جمعیتہ صدر نے مسلمانوں سے کسی بھی قسم کی مشتعل کرنی والی باتوں اور امور پر دھیان نہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسے باتوں کا جواب صبر اور امن سے دیں۔مولانا مدنی نے موقف اپنا کہ آج نام نہاد حب الوطنی کے نام پر قومی یکجہتی کو زک پہنچانے کی کوشش ہورہی ہے۔ جمیعتہ کا ماننا ہے کہ یہ مسلمانوں کا نقصان نہیں ہے بلکہ ملک کی یکتا اور سالمیت کا نقصان ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ سماج مخالف،جمہوریت مخالف اور شہریوں کے درمیان عدم مساوات اور تفریق پیدا کرنے والی پالیسیوں اورسرگرمیوں کو روکاجائے۔


سابق ممبر آف پارلیمنٹ نے کہا مسلمان اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے ملکی مفاد کا پوری ایمانداری و دیانت داری کا تحفظ کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ملک میں بھلے ہی اقلیت ہیں لیکن جو افراد آج اقتدارکی کرسی پرفائز ہیں ان کے مقابلے میں ہم اکثریت میں ہیں۔قابل ذکر ہے کہ مولانا کے خطاب سے پہلے دارالعلوم کے ناظم مفتی عبدالقاسم نعمانی، مغربی بنگال حکومت کے وزیر صدیق اللہ چودھری بھی خطاب کیا۔اجلاس میں ورکنگ باڈی کی میٹنگ میں یکساں سول کوڈ، گیان واپی مسجد تنازع،متھرا میں شری کرشن جنم بھومی،شاہی عیدگاہ تنازع سمیت دیگر موجودہ مسائل کی وجہ سے مسلمانوں کے سامنے پیدا چیلنجز پر تبادلہ خیال ہوگا اور کچھ اہم قرار دادیں منظور کی جاسکتی ہیں۔اجلاس کے پہلے دن ملک میں بڑھتی نفرت کی روک تھام، اسلاموفوفیا کے واقعات اورمسلم ۔غیر مسلم کی مشترکہ منچ’جمعیتہ سد بھاونا منچ‘ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس تعلق سے قرار دادیں منظور کی گئیں۔