مسلمانوں کی اندھی دشمنی۔اندھیرا ہی اندھیرا

4

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز۔ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد۔ فون:9395381226

انتہائی افسوس کی بات ہے کہ مسلم دشمنی کی بھاری قیمت ہندوستان کو چکانی پڑرہی ہے۔ ابھی تک مسلم ممالک نے ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا بلکہ بعض ممالک میں تو ان کی سرزمین سے اُن غیر مسلم شہریوں کوملازمتوں سے برخواست کرنے اور انہیں وطن واپس بھیج دینے کی وارننگ دی تھی جو سوشیل میڈیا کے ذریعہ مسلمان اور اسلام کے خلاف نفرت انگیز مہم چلارہے تھے۔ ہندوستان نے اس کی وضاحت کی اپنے سفیروں کے ذریعہ اپنے موقف کا اظہار کیاجبکہ کوویت کی کابینہ نے باقاعدہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے او آئی سی سے اس سلسلہ میں ردعمل کی خواہش کی تھی۔ کوویت میں مقیم ہندوستانی سفیر نے اگرچہ کہ اپنے بیان میں کہا کہ کوویت نے تیقن دیا تھا کہ وہ ہندوستان کو اندرونی معاملات میں دخل نہیں دے گا تاہم مسلم ممالک کو یہ احساس کروایا کہ بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے۔ ابھی ہندوستان کروناوائرس اور عرب ممالک کی ناراضگی سے نمٹ ہی رہا تھا کہ US Commission on International Religious Freedom نے ہندوستان کو اپنی رپورٹ میں اُن ممالک میں شامل کیا جہاں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو خطرہ لاحق ہے۔

USCIRF کے وائس چیرمین نے کمیشن کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں شہریت ترمیمی بل سے لاکھوں مسلمانوں کی گرفتاری‘ ملک بدر اور ان کے بے گھر ہونے کے اندیشے ہیں‘ اور اس نے این پی آر کا ملک گیر سطح پر منصوبہ بنایا ہے‘ مودی حکومت نے حالیہ عرصہ کے دوران مسلم آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔USCIRF کی رپورٹ میں بی جے پی قائدین کے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں امریکی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ حکومت ہند کے اداروں اور عہدیداروں پر تحدیدات عائد کرے جومذہبی آزادی کو متاثر کررہے ہیں۔ ان افراد کے اثاثہ جات کو Freezed کرے اور امریکہ میں ان کے داخلہ پر پابندی عائد کرے۔ USCIRF کی یہ رپورٹ یقینا ہندوستان کیلئے لمحہ فکر ہے۔ کیوں کہ بین الاقوامی سطح پر اس کی امیج خراب ہوئی ہے۔

جیسا کہ کوویت کی حکومت کی کابینہ نے او آئی سی سے اپیل کی ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے فوری اور ضروری اقدامات کریں۔ کوویت کے وزیر اوقاف و اسلامی امور Abdullah Al-Shrea نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ وقت ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دینی بھائیوں کی اذیت رسانی کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جو لوگ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور ان کے حقوق کو پامال کرتے ہیں کیا وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے مسلمان ان جرائم کے خلاف خاموش رہیں گے؟ اور وہ سیاسی قانونی اور معاشی طور پر ان کے خلاف کاروائی نہیں کریں گے۔ فروری میں دہلی فسادات میں مسلمانوں کی ہلاکت ان کے کاروبار کو چن چن کر نشانہ بنایا جانے کے خلاف عالمی سطح پر ردعمل ظاہر ہوا ہے۔ دہلی پولیس نے ان فسادات پر قابو پانے کے لئے کوئی کاروائی نہیں کی۔ اس کے بعد کروناوائرس کے پھیلاؤ کے لئے تبلیغی جماعت کے مرکز کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے تبلیغی اجتماع کو Corona Terrorism، کرونا جہاد کا نام دے کر اُسے سوشیل میڈیا پر وائرل کیا گیا جس سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا ہوا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بیشتر اسلامک ممالک میں روٹی روزی کمانے والے غیر مسلم جن کا تعلق جن سنگھ اورآر ایس ایس وغیرہ سے بتایا جاتا ہے‘ سوشیل میڈیا پر انتہائی ناشائستہ، دلآزار کامنٹس پوسٹ کررہے ہیں۔ یو اے ای کی شہزادی ہند القاسمی کی جانب سے شدید ردعمل اور عالم عرب میں روزگار حاصل کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف مہم چلانے والے غیر مسلم شہریوں کے خلاف کاروائی کا اعلان کیا گیا۔ ہندوستان کے کثیر الاشاعت انگلش روزنامہ ٹیلی گراف میں ہندالقاسمی کا 28اپریل کو مضمون ”Hitler alert shows the gulf“ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ہونے و الے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ایک اور ہٹلر کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک اور گاندھی مارٹن لوتھر اور نیلسن منڈیلا کی ضرورت ہے۔

ہندوستان کے سابق سفارت کار تلمیذ احمد نے کہا کہ اگرچہ کہ شہزادی کا یہ مضمون ان کی شخصی خیالات پر مبنی ہے تاہم اُسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ بی آر شیٹی کا اسکام بھی ایسے وقت منظر عام پر آیا جب عرب ممالک بڑی سنجیدگی سے مسلم دشمن سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ایک لمحہ کیلئے ان کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ ایک منصوبہ طریقہ سے ایک عرب ملک کو لوٹاگیا اور اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی۔

بی آر شیٹی کے فراڈ نے متحدہ عرب امارت کی آنکھیں ضرور کھولی ہوں گی۔ لگ بھگ 8بلین ڈالرس کے اسکام نے دوسرے مسلم ممالک کو بھی خواب غفلت سے جگایا ہوگا۔ مگر اس کا یقین نہیں ہے کیوں کہ ان کے لئے معمولی رقم ہے۔ اتنی رقم تو شہزادے پیرس اور امریکہ میں کسینوز میں ایک ایک رات میں ہار جاتے ہیں۔ البتہ شیٹی کا معاملہ اس لئے سنجیدگی سے لیا جاسکتا ہے کہ ایسے وقت یہ منظر عام پر آیا ہے جب ہندوستانی مسلمانوں پر مظالم، امتیازی سلوک، ان کے بائیکاٹ، قاتلانہ حملوں کے واقعات پر OIC نے ردعمل کا اظہار کیا۔ بعض مسلم ممالک کے شاہی خاندانوں کے ارکان نے وارننگ بھی دی‘ اور یہ انکشافات بھی ہوئے کہ کس طرح سے جن سنگھی یا آر ایس ایس کے ارکان مسلم ممالک کی جڑوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں اور اُسی سرزمین پر رہتے ہوئے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ بی آر شیٹی نے اپنے اثرات و رسوخ اور پتا نہیں کن کن حربوں کا استعمال کرکے متحدہ عرب امارات کی شاہی خاندان کا اعتماد حاصل کیا اور ایک میڈیکل ریپرزنٹیٹیو سے سے ترقی کرتا ہوا یہاں کے امیر ترین افراد کی صف میں شامل ہوا۔ کس طرح سے اس نے دولت بھی لوٹی اور ایک مسلم ملک میں آر ایس ایس کے نظریات کو بہت ہی سلیقے کے ساتھ منظم انداز میں عام کیا۔ اس کا اسکام بے نقاب ہوا تو اس کے پس منظر سے بھی واقفیت ہوئی کہ وہ ایک کٹر اور دیرینہ جن سنگھی ہے۔ کوئی بھی جن سنگھی کسی بھی مسلم ملک کی ترقی میں حصہ نہیں لے سکتا۔ جب وہ اپنے وطن میں رہنے والے مسلمانوں کو ایک آنکھ نہیں دیکھ سکتا تو بھلا مسلم ملک کی کامیابی و ترقی کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ شیٹی جیسے اور جانے کتنے سنگھی اور آر ایس ایس کے تربیت یافتہ مسلم ممالک میں اہم اہم عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور کس طرح سے انہوں نے ان مسلم ممالک میں خاموش انقلاب لانے کی تحریک چلائی ہوگی۔ شاید وہ وقت آگیا ہے کہ اب اس قسم کی عناصر کا صفایا ہوجائے۔ اس وقت قطر، کویٹ، یو اے ای کے شاہی خاندان کے افراد بھی، وہاں کی پولیس بھی، آئی ٹی سیل بھی چوکس ہوگئے ہیں۔ وہ اپنی صفوں میں چھپے ہوئے دشمنوں کو چن چن کر تلاش کررہے ہیں تاکہ اور زیادہ نقصان نہ ہونے پائے۔ کسی نے حالیہ عرصہ تک اس بات پر توجہ نہیں دی تھی کہ کس طرح سے مسلمانوں کو خاص طور پر عربوں کو بدنام کرنے کے لئے سوشیل میڈیا کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اب تک کے اطلاعات کے مطابق کئی غیر مسلم شہریوں کو زہر آلود پیامات کو سوشیل میڈیا پر شیئر کرنے کی پاداش میں ملازمتوں سے برطرف کیا جاچکا ہے۔ دو ایسی مثالیں ہم نے پیش کی ہیں‘ ایک تو جیوتی برمن کی جو دبئی لیگل سرویس میں کام کرتی ہیں‘ اگر سوشیل میڈیا پر اس کے کامنٹس دیکھے جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ایک اسلامی ملک کا نمک کھاتے ہوئے وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منظم تحریک چلارہی ہے۔ اس نے باقاعدہ یہ لکھا ہے کہ Rape اور جنسی استحصال ہندوستان کو اسلامی ممالک کی دین ہے۔ اس نے اپنے فرینڈس سرکل سے مسلمانوں کی قتل عام کی خواہش کا اظہار بھی کیا جبکہ اس کا فرینڈس سرکل اس کی تائید میں اور زیادہ زہریلے کامنٹس پوسٹ کرتا ہے۔ قطر میں رہنے والا ایک اور Manas Behura جیل بھیج دیا گیا کیوں کہ اس نے سوشیل میڈیا پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ پوسٹ کئے تھے۔ اور بھی کئی ایسے ہندوتوا کے کارکن مسلم ممالک میں مختلف عہدوں پر فائز ہیں اور وہاں بھیج کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شرانگیزی پھیلارہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کا فرار ہونا بھی مشکل ہے۔ ان کے خلاف کاروائی اور سنگین سزائیں یقینی ہیں۔ یہ ہمارے لئے اس لئے افسوسناک ہے کہ اس سے ہمارا ملک بدنام ہورہا ہے اور اس کے ذمہ دار کون کون ہیں‘ سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہندو راشٹر بنانے کا خواب ان شاء اللہ پورا نہیں ہوگا۔ ہندوستان کی اہمیت اور عظمت اس لئے ہے کہ یہاں تمام مذاہب کے ماننے والے مل جل کر رہیں ورنہ ایک عظیم ملک عالمی برادری سے الگ تھلک ہوکر رہ جائے گا