حیدر آباد میں اردو کیلی گرافی کے لیے شہرت حاصل کر چکے انل کمار چوہان اب مسجدوں پر قرآن کی آیتیں نقش کر کے ہندو-مسلم یکجہتی کی ایک بہترین مثال پیش کر رہے ہیں۔ انھیں اردو اور عربی کیلی گرافی میں مزہ آتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انتہائی تندہی کے ساتھ انھیں مسجد کی دیواروں پر قرآنی آیتوں کی نقاشی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انل کمار چوہان 20 سالوں سے زیادہ عرصہ سے کیلی گرافی کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’’مجھے اردو زبان نہیں آتی تھی، لیکن اردو میں جو تحریریں ملتی تھیں، میں اس کی نقل کیا کرتا تھا۔ دھیرے دھیرے مجھے لفظوں کی پہچان ہوئی اور اس طرح میں نے اردو زبان پڑھنا اور لکھنا سیکھ لیا۔‘‘

انل کمار چوہان کو کیلی گرافی کا جنون اردو میں دکان کے لیے سائن بورڈ کی پینٹنگ کرنے کے ساتھ پیدا ہوا۔ اپنے سفر کے بارے میں چوہان کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اردو زبان کی اچھی سمجھ ہو گئی۔ جلد ہی اس جذبے اور ہنر کو لوگوں نے پہچاننا بھی شروع کر دیا۔ قرآنی آیتوں کو مسجد کی دیوار پر لکھنے کا موقع پہلی بار نور مسجد میں ملا، اور پھر یہ سلسلہ آگے بڑھتا چلا گیا۔ انل کمار چوہان کی کیلی گرافی صلاحیت سے متاثر ہو کر ایک شخص نے مسجد نور کی دیواروں کو قرآن کی آیتوں سے بھرنے کی گزارش کی تھی۔ شروع میں یہ کچھ مشکل ضرور لگ رہا تھا، لیکن پھر دھیرے دھیرے چیزیں آسان ہو گئیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے انل کمار چوہان کے ذریعہ مسجد کی دیواروں پر قرآنی آیات کی نقاشی کی مخالفت کی، لیکن چوہان نے اپنے کام کو جاری رکھنے کے لیے حیدر آباد میں جامعہ نظامیہ یونیورسٹی سے اجازت طلب کی۔ اس طرح انھیں کامیابی ملی اور اب تک چوہان 100 سے زائد مسجدوں کی دیواروں پر قرآنی آیات لکھ چکے ہیں۔ اب ان کے کام کی تعریف ہندو اور مسلمان دونوں کر رہے ہیں۔ ان کے فن کا نمونہ جامعہ نظامیہ یونیورسٹی کی لائبریری میں بھی بطور خاص رکھا گیا ہے، جہاں انھوں نے ’سورۃ یٰسین‘ کو انتہائی خوبصورت انداز میں پینٹ کیا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ شروع میں بھلے ہی چوہان کی کچھ لوگوں نے مخالفت کی ہو، لیکن اب انھیں ہر جانب سے تعریف ہی ملتی ہے۔