مشرقی انگلینڈ کے شہر برائٹن میں لیبیا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر ’تلوار کے ذریعے‘ جہاد کرکے دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔عرب نیوز کے مطابق ابوبکر دیغائز نامی اس شخص کے دو بیٹے شام میں لڑتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔پراسیکیوٹر بین لائیڈ نے عدالت کو بتایا کہ ابوبکر نے 2020 میں برائٹن کی ایک مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جہاد تلوار سے کیا جاتا ہے اور یہ لازم ہے۔‘

وکیل نے عدالت کو ویڈیو دکھائی جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ’اس کا مطلب ہے کہ آپ پر جہاد فرض ہے۔ جہاد ایک منہ سے نکلی ہوئی بات نہیں ہے یہ قیامت کے دن تک لازم ہے۔‘وکیل نے کہا کہ ’یہ خطاب خطا نہیں تھی۔ کیس بہت سادہ ہے۔ اس کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے جہاد کرنے کا کہہ رہے تھے۔‘’یہ تقریر ان کو اسلامی انتہا پسند ظاہر کرتی ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو اسلام کی خاطر تشدد کےلیے اکسا رہا ہے۔‘

ابوبکر نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا بلکہ بتا رہے تھے تلوار کے ذریعے جہاد سے اپنا دفاع کیسے کیا جاتا ہے۔
جج نے ابوبکر کی فوری گرفتاری کا حکم دے کر 25 فروری کو سزا سنانے کا حکم دیا۔تاہم انہیں اس شرط پر ضمانت دی گئی کہ وہ اپنے گھر پر رہیں گے اور ہفتے میں تین بار پولیس سٹیشن حاضری دیں گے۔انہیں برائٹن کی مسجد اور مسلم کمیونٹی سنٹر جانے سے منع کرتے ہوئے پاسپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔