سماعت اور گویائی سے محروم طبقہ نہ ہماری طرح بولتا ہے اور نہ ہماری طرح سنتا ہے مگر اللہ رب العزت نے اس طبقے کے انسانوں کو عظیم مہارتوں سے نوازا ہے۔ ان مہارتوں کے ذریعے وہ مخاطب ہوتے ہیں اور مخاطب کرتے ہیں، بات سمجھتے ہیں اور بات سمجھاتے ہیں۔

حرمین شریفین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے مسجد حرام میں اس طبقے کے لوگوں کو مطلوب تمام خدمات فراہم کرنے کا بہترین انتظام کیا ہے۔

سماعت اور گویائی سے محروم افراد کے واسطے اہل کار بھرتی کیے گئے ہیں جو ٹکنالوجیکل، ٹیکنیکل، سیکورٹی اور انسانی شعبوں کے حوالے سے اعلی ترین خدمات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مذکورہ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد پورے سکون اور اطمینان کے ساتھ حرم مکی کے اندر عبادت کر سکیں۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے مسجد حرام اور مسجد نبوی میں زائرین اور معتمرین کے واسطے بہترین خدمات کی فراہمی کی خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔

مسجد حرام کی انتظامیہ کی جانب سے ہر نماز کے بعد بصارت ، سماعت اور گویائی سے محروم افراد کے لیے مخصوص مقامات کی صفائی اور سینی ٹائزیشن کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان افراد کو آب زمزم اور ان کی سلامتی اور تحفظ کے لیے ساز و سامان فراہم کیا جاتا ہے۔ ان افراد کے نماز کی جگہاؤں کو معطر رکھنے کا انتظام بھی ہے۔

مزید برآں اس طبقے کے خصوصی مُصلّے میں اشاروں کی زبان کے ماہر مترجم موجود ہوتے ہیں جو ان کے لیے خطبوں، درس اور فتوؤں کا ترجمہ کرتے ہیں۔ اسی طرح سماعت اور گویائی سے محروم افراد کے لیے ایک جگہ مختص کی گئی ہے جہاں وہ اشاروں کی زبان کے ذریعے قرآن کریم کی تلاوت اور حفظ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ جگہ مسجد حرام میں گیٹ نمبر 93 سے ملحق ہے۔

حرم مکی میں ان افراد کے لیے اشاروں پر مشتمل بورڈز بھی آویزاں ہیں جو ان کی نقل و حرکت میں مدد گار ہوتے ہیں۔ ان افراد کے درمیان قرآن کی تفسیر "معانی القرآن” کی سی ڈی بھی تقسیم کی جاتی ہے جو اشاروں کی زبان پر مشتمل ہوتی ہے۔

اشاروں کی زبان کے ماہر یحیی اللہیبی 18 برس سے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ سعودی پریس ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ انہیں اس قابل افتخار خدمت کا موقع ملا۔ اللہیبی کے مطابق مسجد حرام میں اشاروں کی زبان کی خدمات سے دنیا بھر سے آنے والے افراد مستفید ہوتے ہیں جو سماعت سے محروم ہوتے ہیں۔ اللہیبی نے بتایا کہ "ایک مترجم کی حیثیت سے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ سماعت سے محروم شخص کب میرے اشاروں کو واضح طور پر سمجھ پا رہا ہے۔ بعض مرتبہ خطبوں اور دروس کے دوران سماعت سے محروم افراد فرطِ جذبات میں رونا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں اشاروں کے ذریعے پہنچائی گئی بات سمجھ میں آ رہی ہے”۔