مسجد الاقصاء پر فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان تازہ جھڑپیں

یروشلم۔اسرائیلی پولیس اور فلسطینی نوجوانوں کے درمیان میں یرشلم کے مقدس مقام پر جو مسلمانوں او ریہودیوں دونوں کے لئے ہی کافی اہمیت کا حامل ہے جمعہ کے روز یہودی کے اس مقام پر عارضی طور پر دورے کو روک دینے کے باوجود تازہ جھڑپیں پیش ائی ہیں‘ جس جو فلسطینیوں کی اشتعال انگیزی کے طو رپر دیکھا جارہا ہے۔

فلسطینیوں او راسرائیل پولیس کے درمیان میں مسلسل جھڑپیں اس مقام پر پچھلے ایک ہفتہ سے ایسے وقت میں پیش آرہی ہیں جو علاقے میں اسرائیل کے اندر جان لیوا حملے پیش ائے ہیں جس کے بعد مغربی کنارہ میں گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔

غزہ پٹی سے اسرائیل میں تین راکٹ داغے گئے ہیں۔سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے دوفلسطینی عینی شاہدین کے بموجب فلسطینی نوجوانوں نے صحن کی طرف آنے والی گیٹ کی جانب بڑھ رہے پولیس والوں پر پتھر اؤ کیا۔

ہنگامہ خیز صورتحال میں پولیس صحن میں داخل ہوئی‘ ربر کی گولیاں اور اسٹن گرنائیڈس فائر کیا۔

فلسطینی ریڈ کریسنٹ میڈیکل سروسیس نے کہا کہ 9فلسطینی زخمی ہوئے ہیں‘ دو کی حالت بہت زیادہ خراب ہے

یروشلم کے پرانے شہر میں مسجد الاقصاء اسلام کا تیسرا مقدس مقام ہے۔وسیع وعریض مقام پر تعمیر یہودی کا یہ مقدس مقام جس کو وہ ماؤنٹ مندر کہتے ہیں۔ اس مقام پر ہونے والے فلسطینی اسرائیل تشدد دیگر علاقوں تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

ہزاروں کے قریب نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد کے لئے بعدازاں اس مقام پر جمع ہوئے تھے

فلسطین او راس کا ہمسایہ اردن جو اس مقام کے محافظ ہیں نے اسرائیل پولیس کی نگرانی میں یہودی کی بڑی تعداد کو یہاں کا دورہ کرنے کی اجازت دیے کر دیرینہ انتظامات کی وہ خلاف ورزی کررہے ہیں۔

اسی جگہ پر یہودیوں کو نماز ادا کرنے پر دیرینہ پابندی کو حالیہ عرصہ میں برخواست کیاگیا ہے جس کی وجہہ سے فلسطینیوں پر اس بات کاخوف ہے کہ اسرائیل اس جگہ پر یاتو قبضہ کرسکتا ہے یا اس کو تقسیم کرسکتا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جوں کا تو ں موقف پر قائم ہے اور غزہ پر حکمرانی کرنے والے اسلامک دہشت گرد گروپ حماس پر تشدد کا الزام لگایاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے سکیورٹی فورسیس یہودی اور مسلمانوں کی عبادتوں‘ نمازوں میں خلل ڈالنے والی طاقتوں کو ناکام بنانے کے لئے کاروائیاں کررہے ہیں۔

اس سے قبل یہودی کے جمعہ سے شروع ہونے والے دورے مسلمانوں کے مقدس ماہ صیام کے آخری دس دنوں کے دوران روک دئے گئے تھیاس سال مقدس ماہ صیام یہودی پاس اوور اور بڑی عیسائیوں تعطیلات کے ساتھ شروع ہوا جس کی وجہہ سے تین عقائد کے ہزاروں لوگ کروناوائرس کی وجہہ سے عائد تقریبا تحدیدات کو ہٹائے جانے کے بعد پرانے شہر میں جمع ہوئے ہیں۔