قبلہ اول کی بے حرمتی کے بعد ایک لاکھ فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ میں ۲۷؍ ویں شب نماز تراویح ادا کی
اسرائیل کو مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور قبلہ اول کی قیمت چکانی ہوگی: حماس
مقدس شہر القدس کے وقار ، عزت و آبرو اور حیثیت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض:اردگان
مظلوم مسلمانوں کے حقوق کو تلف ہونے سے بچانے کےلیے اٹھ کھڑے ہوجائیں: طالبان

بیت المقدس ۔۹؍مئی: بیت المقدس میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب دوبارہ جھڑپیں شروع ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں مزی 50 افراد زخمی ہوئے ہیں۔بیت المقدس میں ایک مقامی طبی کارکن نے بتایا کہ القدس میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان تازہ جھڑپوں کے بعد کے اسرائیلی پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔ہلال احمر فلسطین کے مطابق تازہ جھڑپوں میں القدس اور اس کے اطراف میں ۵۳ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے۸کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ہلال

احمر کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینی شہریوں‌پر آنسوگیس کی شیلنگ، دھاتی گولیوں اور صوتی بموں کا استعمال کیا گیا۔فلسطینی ہلال احمر کے ترجمان نے بتایا کہ ہفتے کی شام پرانے بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ الشیخ جراح، باب العامود اور باب الزاھرہ کے مقامات پر فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔سنیچر کو مسجد اقصیٰ میں روزہ داروں پر حملے کے بعد لاکھوں فلسطینی پیدل مسجد اقصی کی طرف کوچ کرنے لگے، اسرائیلی پولیس نے انہیں روکنے کی بہت کوششیں کی لیکن فلسطینی عوام تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اور نعرے لگاتےپیدل مسجداقصی کی طرف چل پڑےتقریباً ایک لاکھ سے زائد فلسطینیوں نےمسجد اقصیٰ میں نماز عشاء اور تراویح پڑھی اور قبلہ اول کی حرمت اور اس کی حفاظت کےلیے ’مسجد اقصی ہم تم پر قربان ‘ کے نعرے لگائے گئے۔ درایں اثنا یورپی یونین نے ہفتے کے روز اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ القدس میں فلسطینیوں پرحملوں کا سلسلہ بند کرے اور پولیس کو تشدد سے روکے۔یورپی یونین کے ترجمان نے کہا کہ تشدد، اور تشدد پر اکسانا دونوں ناقابل قبول ہیں۔ جرائم کا ارتکاب کرنے والے تمام عناصر اور فریقوں‌کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ یورپی یونین اسرائیل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ القدس میں جاری حالیہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اسرائیل سے ٹھوس اور فوری اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے۔اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس کے بیرون ملک سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ، فلسطینی نمازیوں پر تشدد اور القدس میں جرائم کا حساب دینا ہوگا۔ایک بیان میں ڈاکٹر ابو مرزوق نے کہا کہ ہم قبلہ اول کے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور قابض دشمن کے خلاف نئے محاذ کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے غرب اردن اور اندورن فلسطین کے فلسطینی باشندوں پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی اور بیرون ملک موجود فلسطینیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ القدس کے عوام کی نصرت کے لیے اقدامات کریں اور القدس کے عوام کے دفاع اور قابض دشمن کے ساتھ مقابلے کے لیے اپنی قوت مجتمع کریں۔انہوں‌نے مسجد اقصیٰ کے مرابطین کی قربانیوں کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ القدس کے باشندوں نے اپنی اورالقدس کے دفاع کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں۔ خیال رہے کہ جمعہ کے روز بیت المقدس میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں۲۰۰ سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔بیت المقدس میں جھڑپوں کے بعد عرب ممالک نے بھی اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ادھر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اسلامی ممالک اور پوری دنیا کو ، مسجدِ اقصیٰ اور فلسطینیوں کے گھروں پر اسرائیلی حملوں کے خلاف موئثر کاروائی کرنے کی دعوت دی ہے۔صدر ایردوان نے جاری کردہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ ” میں سب سے پہلے اسلامی ممالک اور اس کے بعد پوری دنیا کو مسجد اقصی، القدس اور فلسطینیوں کے گھروں پر اسرائیلی حملوں کے خلاف موئثر کاروائی کرنے کی دعوت دیتا ہوں”۔” قدس پوری دنیا ہے اور وہاں کے مسلمان پوری انسانیت ہیں” کے زیرِ عنوان جاری کردہ ٹویٹ میں صدر اردگان نے کہا ہے کہ "مقدس شہر القدس کے وقار ، عزت و آبرو اور حیثیت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے”۔انہوں نے کہا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ سمیت القدس کی تمام عبادتگاہوں اور مسلمانوں پر کئے جانے والے حملے، ہم پر حملے کا مفہوم رکھتے ہیں۔ تین سماوی ادیان کے مقدسات کے حامل القدس کو بے ضمیر، غیر اخلاقی ، غیر قانونی اور بے ادبانہ حملوں سے آلودہ کرنے والے ظالموں کے خلاف آواز بلند کرنا ہر اس فرد کا فرض ہے کہ جسے انسان ہونے کا دعوی ہو۔صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ اسرائیل حکومت کے حملوں پر خاموشی اختیار کرنے والا یا پھر ضروری طرزِ عمل ظاہر نہ کر کے بلواسطہ شکل میں حملوں کے ساتھ تعاون کرنے والا ہر شخص وہاں ڈھائے جانے والے مظالم میں شریک ہے۔وہیں افغان طالبان نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ’’المناک اطلاعات مل رہی ہیں کہ اسرائیلی صہیونیوں اور غاصبوں نے مظلوم فلسطینی مسلمانوں کےخلاف ظلم کی نئی لہر شروع کردی ہے۔فلسطینی علاقوں میں عوام کے گھروں پر زبردستی پر قبضہ کررہا ہے، مسجد اقصی اور مسجد صخرۃ میں نمازیوں پر اسرائیلی وحشی فوجوں کی جانب سے فائرنگ اور حملے ہورہے ہیں۔امارت اسلامیہ اس وحشت اور ظلم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، فلسطینی مسلمانوں سے اپنی حمایت کا اظہار کرتی ہے اور اسلامی ممالک، اسلامی تعاون تنظیم، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو بتلاتی ہے کہ اسرائیل کے اس ظلم کی روک تھام کریں اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے حقوق کو تلف ہونے سے بچانے کےلیے اٹھ کھڑے ہوجائیں‘‘۔ بشکریہ ممبئی اردو نیوز