• 425
    Shares

ایک اسرائیلی عدالت نے جمعہ کو ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی عبادت پر پابندی کو برقرار رکھا ہے۔ ماتحت عدالت کے فیصلے پر فلسطینیوں اور مسلم دنیا نے شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔

 

آریہ لیپو نامی ایک اسرائیلی عالم کی جانب سے گذشتہ ماہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں عبادت کرنے پر دو ہفتوں کی پابندی لگائی گئی تھی لیکن منگل کو بیت المقدس کی ایک عدالت نے اس پابندی کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ لیپو کی سرگوشی میں کی جانے والی عبادت ’پولیس کی ہدایات کی خلاف ورزی نہیں تھی۔‘

یہودیوں کو الاقصیٰ کمپاؤنڈ میں جانے کی اجازت ہے لیکن وہ وہاں پر عبادت نہیں کرسکتے اور نہ ہی رسومات میں ادا کرسکتے ہیں۔اسرائیلی پولیس نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی جس پر بیت المقدس کی ضلعی عدالت کی جج آریہ رومانوف نے جمعہ کو پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ افسران نے ’وجوہات کی بنا پر کارروائی‘ کی تھی۔

رومانوف نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص تھا جس نے لیپو کی عبادت کا مشاہدہ کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کھلم کھلا عبادت کر رہے تھے اور میں پولیس کمانڈر کے فیصلے کو بحال کرتی ہوں۔‘

فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ اردن مصر اور سعودی عرب کے حکام نے ماتحت عدالت کے فیصلے کی مذمت کی تھی۔

مسلمانوں کے نزدیک اسلام کا تیسرا سب سے مقدس مقام بیت المقدس ہے اور یہودیوں کے لیے دو قدیم عبادت گاہوں کے مقام کے طور پر قابل احترام ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔