مساجد بند کئے جانے سے مسلمانوں میں بے چینی،سرکار اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے مولانا۔محمد عاطف سنابلی
ممبئی6 اپریل (یو این آئ )کرونابیماری کے تیزی سے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے حکومت مہاراشٹر کافی فکرمند ہے جس کی بنیاد پر حالات کو دیکھتے ہوئے شہریوں اور انسانوں کی بھلائی اور اس بیماری کے پھیلاؤ کو کنٹرول میں کرنے کے لئے روز بروز حسب ضرورت سخت سے سخت ترین ہدایات اور گائیڈلائنس جاری کرنے پر مجبور ہے ہم حکومت کے تمام مفید فیصلوں کااحترام واستقبال کرتے ہیں اور حمایت بھی کرتے ہیں اور اہالیان شہر سے ان ہدایات پر عمل اوران کی مکمل پابندی اور حکومت کے ساتھ تعاون کی اپیل کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار نامور عالم دین مولانا محمد عاطف سنابلی خطیب وامام جامع مسجد اہل حدیث خیرانی روڑ نے کیا۔
آپ نے کہا کہ مسجدوں کو مکمل طور پر بند کردینا اور جماعت کے ساتھ نمازوں کی ادائیگی پر پابندی عائد کرنا بہر حال مبنی برانصاف نہیں ہے، دین پسند طبقہ میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے.

مسجدوں کی ویرانی مسلمانوں لئے بڑادردناک اور کربناک منظر ہے،یہ عبادت گاہیں ہمارے لئے ہمارے گھروں سے زیادہ اہم ہیں،یہ ہماری دینی، روحانی اوربنیادی ضرورت ہیں، عبادت گاہوں اور مذہبی لوگوں کا رشتہ بڑاگہرا اورجذباتی ہوتا ہے، اس لئے حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ مسجدوں ک وبند کرنے کا فیصلہ واپس لیں اور اس میں با جماعت نما زپڑھنے کی اجازت دیں جہاں کورونا کے خاتمے کے لئے اجتماعی دعا بھی ہوگی۔

مولانا نے فرمایا کہ چنددنوں مسلمانوں کا مقدس ترین مہینہ رمضان المبارک شروع ہوجائے گا جس میں بچے، بوڑھے، نوجوان سبھی لوگ کافی انہماک ولگن سے اللہ کی بندگی اور خیر ونیکی کے بہت سارے کام کرتے ہیں، غریبوں اور مجبوروں کی مدد کے لئے دہانے کھول دئے جاتے ہیں، گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی تمام مسلمانوں کا مسجدوں سے دورہونا بہت بڑی محرومی اور بدنصیبی ہے. اس لئے حکومت مہارشٹرا سے اپیل ہے کہ وہ دوبارہ سے اپنے فیصلہ پر غور کرے اور جاری کردہ تمام ہدایات کی سختی کے ساتھ پابندی کے ساتھ جمعہ، جماعت، نماز اور تراویح کی اجازت دے، تحریری طور پر ذمہ داران مساجدسے ضمانت لے کہ سوشل ڈسٹینسنگ، ماسک، سینیٹائزر اور دیگر تمام احتیاطی تدابیر کی پابندی کے ساتھ عبادتیں انجام دیں، پابندی نہ کرنے صورت مسجد کو تالا لگایا جائے۔

تمام ملی اور دینی تنظیموں کے ذمہ داران سے اپیل ہے کہ وہ اس مسئلہ کو حساسیت کے ساتھ لیں اور عرب ممالک سعودی، کویت، دبئی اور تمام خلیجی ممالک کی گائیڈ لائنس اور طریقہ کار سے حکومت کو آگاہ کریں اور حکومت سے رمضان کی بابرکت گھڑیوں سے پوری امت کو فیضیاب ہونے کے لئے مسجدوں کی پابندی ہٹانے کا پرزور اور ذمہ دارانہ مطالبہ کریں اور سبھی لوگ اپنے اپنے لوگوں کی طرف سے اس بات کا عہد لیں کہ تمام تر ہدایات اور گائیڈ لائنس پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور پابندی نہ کرنے کی صورت ہم خود مسجدیں بند کروائیں گے وہ اس مسئلہ میں حکومت سے مفید اور مؤثر ہدایات اور گائیڈ لائنس کی پابندی کا مطالبہ کریں ۔