’مسجدوں میں لاؤڈاسپیکر تیز بجے تو پولیس سے شکایت کریں‘، راج ٹھاکرے کی عوام سے اپیل

0 17

ممبئی :مہاراشٹر میں لاؤڈاسپیکر پر تنازعہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مہاراشٹر نونرمان سینا چیف راج ٹھاکرے لگاتار مساجد میں لاؤڈاسپیکر کی تیز آواز کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ اب انھوں نے مہاراشٹر کی عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر لاؤڈاسپیکر کی آواز مقررہ پیمانے سے زیادہ ہو تو پولیس میں شکایت کریں۔ ریاست میں لوگوں کو لکھے دو صفحات کے خط میں انھوں نے ایم این ایس کارکنان سے یہ یقینی کرنے کی بھی گزارش کی کہ یہ خط ریاست کے ہر گھر تک پہنچے۔

راج ٹھاکرے نے عوام سے کہا ہے کہ سبھی اس بات پر دھیان دیں کہ دن کے وقت لاؤڈاسپیکر کی آواز 55 ڈیسیبل اور رات میں 45 ڈیسیبل سے زیادہ نہ ہو۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو فوراً پولیس میں شکایت کریں۔ خط کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق رہائشی علاقوں میں لاؤڈاسپیکر کی آواز 55-45 ڈیسیبل (جو کہ کچن مکسر کی آواز کے برابر ہے) کے برابر ہونی چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو دستخط مہم چلائیں جس میں بتایا جائے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کیا جا رہا اور پھر مقامی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کریں۔

دراصل راج ٹھاکرے لاؤڈاسپیکر تنازعہ پر عوامی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انھیں امید ہے کہ جو کام الٹی میٹم کے باوجود پورا نہیں ہو پایا، اسے عوامی حمایت سے کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق راج ٹھاکرے اس ایشو کو لے کر کافی سنجیدہ ہیں اور وہ عوامی حمایت سے اسے عوامی تحریک کی شکل دینا چاہتے ہیں۔ راج ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ اذان کو لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ سے کسی دوسرے کو سنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے دھیمی آواز میں بجایا جانا چاہیے۔