!-- Auto Size ads-1 -->

اس وقت مہاراشٹر میں راج ٹھاکر اور بھاجپا کی مسلم دشمن اور نفرت انگیز سیاست کی وجہ سے ہندوتوا عفریت کا ماحول بن رہا ہے بظاہر یہ لوگ صرف لاؤڈاسپیکر کا نام لے رہے ہیں کہ لاؤڈاسپیکر ہٹاؤ، لیکن اس کے در پر درہ کئی قسم کی گھٹیا سازشیں سامنے آ رہی ہیں .

لاؤڈاسپیکر کے خلاف ماحول بنانے کےبعد مساجد کے ذمہ داران کو مجبور کیا جارہاہے کہ وہ لاؤڈاسپیکر کے لیے پولیس اسٹیشنوں سے اجازت نامے حاصل کریں،

اب مہاراشٹر کی کئی جگہوں سے ہمیں یہ خبریں موصول ہورہی ہیں کہ جب لاؤڈاسپیکر کی اجازت کے لیے کچھ مساجد کے ذمہ داران نے کوششیں کیں تو ان سے مساجد کےمتعلق ایسے کاغذات اور سوالات کیے جارہےہیں جن سے بالکل واضح ہےکہ بڑی تعداد میں مساجد کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ جائیں گے،اور یہی وجہ ہےکہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ لاؤڈ اسپیکر کی اجازت مانگنے پولیس اسٹیشن نہ جائیں، اور اب جبکہ اجازت نامے کے لیے لوگ گئے تو انہیں احساس ہورہاہے کہ یہاں تو مساجد کا ہی اجازت نامہ منسوخ کرنے کا جال ہے.

ایسے میں گھبرانے یا پریشان ہونے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے، فی الحال آپ پورے مہاراشٹر میں عید تک اس معاملے کو ہرحال میں ملتوی رکھیں، لاؤڈاسپیکر کی بنیاد پر کسی طرح کی کوئی بھی کاغذی کارروائی اپنی مساجد سے متعلق پولیس اسٹیشن میں نہ کریں، رمضان کے مہینے اور عید کے تہوار کا حوالہ دےکر فی الحال دس پندرہ روز کے لیے اسے ٹال دیں،

مہاراشٹر اور ممبئی کے سینئر ذمہ داران، ائمہ و علماء اس سلسلے میں فکرمند ہیں، ہم لوگ آپس میں مربوط ہیں رابطے میں بھی ہیں، ان شاءالله عید بعد اس ہندوتوا جال سے آسانی سے نکلنے کی اسٹریٹجی واضح کی جائے گی،اور سب کو بتایا جائےگا کہ کیا کرناہے، اور ہم سب بآسانی ان شاءالله اس جال سے نکل آئیں گے، تب تک آپ اسے ٹال دیں، کسی طرح کی کوئی کاغذی کارروائی نہ کریں… کیونکہ وہ آگے انہی کاغذات میں آپکی مسجد کو الجھا دیں گے_

و مکرو و مکر اللہ، والله خیر المٰکرین

✍: سمیع اللہ خان

ksamikhann@gmail.com