مساجد کے سائے میں مسلمانوں کے مسائل حل اورمستقبل کو بہتر بنانے کی سمت ایک امید افزاء پہل ،آئندہ پانچ سال میں ان مسائل پرتوجہ دینا ضروری ہے

ممبئی،5جنوری(یواین آئی)ملک کے مسلمانوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے اوران کے مستقبل کو بہتر بنانے کی سمت میںایک امید افزاءپہل کی گئی ہے اور مساجد کے سائے میں مسلمانوں کو متحد کرکے ان مسائل کا بہتر حل نکالنے کا ایک جامع اور ٹھوس منصوبہ ’مسجد۔ون‘مہم کے تحت تیار کیا گیا ،جس میں ملک بھر کے تمام مسالک اور فرقوں کے مسلمانوں کے نمائندے شامل ہیں اور بھر پورتعاون بھی حاصل ہے ،اس بات کا اظہار آج یہاں آل انڈیا مسلم ڈیولپمنٹ کونسل (اے آئی ایم ڈی سی ) کے جنرل سکریٹری محمد امتیاز نے کیا اور کہا کہ اگر اپنے محلے کی سطح پر این جی اورنجی ٹرسٹوں کے ذریعہ اس منصوبے پر عمل کیا گیا تو خاطرخواہ نتائج سامنے آسکتے ہیں ،جیسا کہ ریاست کرناٹک اور مہاراشٹر کے کئی شہروںمیں عمل جاری ہے۔اگر آئندہ پانچ سال میں ان مسائل کے حل کے لیے توجہ نہیں دی گئی تو مسلمانوں کو پانچ سوسال تک انتظارکرنا پڑسکتا ہے۔

انہوںنے مزید کہا کہ گزشتہ سال بنگلور میں اے آئی ایم ڈی سیکی تشکیل ایک قومی کانفرنس کے دوران عمل میں آئی تھی،جس کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے ماضی ،حال اور مستقبل کے مسائل کی شناخت کی جائے اور ان کے حل کے لیے ملک بھرکے مسلمانوں کی ترقی کے لیے اہم رول اداکیاجائے ،مذکورہ کانفرنس میں ملک بھرسے علماء،سیاسی لیڈر،پیشہ ور،دانشور،صنعت کارمختلف تنظیموں کے سربراہ اور تعلیمی وسماجی تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی اور ایک جامع منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا گیا،اکتوبر 2018میں ہوئی کانفرنس کے بعد سے ملک گیر سطح پر ’مسجد ۔ون‘مہم کی شکل میں پہل کی گئی ہے۔اس موقع پر کونسل کی خاتون رکن عظمیٰ ناہید،ایم ایل اے امین پٹیل ،جامع مسجد کے مفتی اشفاق ،جمعیتہ علماءکے مولانا ندیم صدیقی،صحافی جاویدجمال الدین،سماجی کارکن سلیم الوارے ،ڈاکٹر عظیم الدین،ملی کونسل کے راشد عظیم ،این جی اوز کی چیئرپرسن غزالہ آزاد،انورسیّد اور کارپوریٹر جاوید جنجاوشہر کی سیکڑوںمساجد سے وابستہ ٹرسٹیاںاور ائمہ مساجد وعہدیداران نے شرکت کی اور اپنی آراءاور مشوروں سے نوازا۔

محمد امتیاز نے ہندوستانی مسلمانوں کی آبادی اور اس کے تناسب سے اعلیٰ ملازمتوں ،تعلیمی میدان میں پسماندگی ،سماجی اور رہائشی مسائل کی تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کا مقصد ہے کہ مسلم فرقے کو سماجی،تعلیمی ،اور معاشی طورپرایک ترقی یافتہ فرقے بنایا جائے،جبکہ اس تعلق سے قابل اور باصلاحیت اور مالی طورپر خوشحال مسلمانوں کے تعاون سے ان کی زندگی کو بہتر بنایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی معاشرے میں اتحاد اور ہم آہنگی کا فروغ کیا جائے جوکہ ایک پُرامن معاشرے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

انہوںنے مزیدکہا کہ مسجد۔ون کے تحت ہمارا مشن ہے کہ معاشرے کے قابل اور باصلاحیت معززین اور صاحب حیثیت افراد کو ایک ساتھ لاکر ان کی ہر قسم کی مددحاصل کی جائے ۔انفرادی طورپر اورغیرسرکاری تنظیموں اور نجی ٹرسٹیوں کی مددسے محلے اور علاقے کی مسجد کو مسلمانوں کا مرکز بنایا جائے۔جوکہ مستقبل میں مسلمانوں کی ترقی اور بہتری کے مراکز کی شکل میں پہنچانی جائیں ۔امتیاز سیّد نے مسجد ۔ون منصوبے کے بارے میں تفیصل پیش کی اور کہا کہ آل انڈیا مسلم ڈیولپمنٹ کونسل کا مقصداوراغراض میں یہ شامل ہے کہ مسلمانوںکی مساجد کو ترقی اور بہتری کے لیے استعمال کیا ہے اور ان مراکز کے ذریعے مسجد کے آس پاس کے علاقے میں رہائش پذیر مسلمانوں کے درمیان مسجد ایک نیٹ ورک کا کام کریں ۔اور مستقبل میں ریاستی اور قومی سطح پر ان کے درمیان آپسی رابطوںمیں اضافہ ہوتاکہ ایک دوسرے کے مسائل حل کرنے میں آسانی پیدا ہوسکے ۔اس کے تحت سرکاری اسکیموں اور پالیسی کا نفاذ اور ان کے فائدہ حاصل کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں جبکہ ان کی

سماجی ،تعلیمی ،اقتصادی ،روزگار،رہائش ،ان کی صلاحیت ،ہنراور قابلیت اور صنعتوں اور تجارت کی ترقی کی سمتوںمیں کام کیا جائے۔مسلمانوں کی تفصیل جمع کرکے اس کا ڈاٹا تیار کیا جانا اور نوجوانوں کی بہتر رہنمائی کے لیے منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔
مذکورہ کانفرنس کے آغاز میں مفتی اشفاق احمد نے اے آئی ایم ڈی سی کے اغراض ومقاصد سے آگاہ کیا جبکہ کونسل کی واحد خاتون ممبر عظمیٰ ناہید نے ملک کے موجودہ حالات میں منصوبہ بندی کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے ان مسائل کی جانب سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی تو مستقبل میں مسائل میں اضافہ ہونے کا زیادہ اندیشہ ہے۔

HAJJ ASIAN

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me