کورونا کی دوسری لہر اس وقت پورے ملک پر قہر بن کر ٹوٹ رہی ہے، حکومتی ناقص انتظامات کے نتیجے میں سڑکوں پر موت کا رقص ہے اور ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے، ہمیشہ کی طرح مسلم نوجوان خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور انسانیت کی بنیاد پر لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی بیچ میں ایک رائے یہ آئی ہے کی دعوتی مقاصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے مساجد کو کووڈ سینٹر میں تبدیل کر دیا جانا چاہیے۔مسجد کے کسی حصے یا دو منزلہ مسجد میں ایک منزل اگر کرونا سینٹر بنا دی جائے اور دوسری منزل میں نماز جاری رہے، تو اس سے برادران وطن میں ایک مثبت پیغام جائے گا۔ یہ رائے عالم اسلام کے یک عظیم المرتبت فقیہ نے پیش کی ہے اور اسی لیے کچھ علاقوں میں اس پر عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔اس رائے کی تائید میں یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا خیمہ مسجد میں نصب کرنے کی اجازت دی تھی جبکہ وہ زخمی حالت میں تھے۔ لیکن اس حدیث کے بارے میں محدثین کی ایک تعداد اس پر متفق ہے کہ اس حدیث میں مسجد سے مسجدنبوی مراد نہیں ہے، بلکہ جنگ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے قیام کے قریب ایک جگہ نماز کے لیے مخصوص فرما لیا کرتے تھے، احادیث میں اس کو بھی مسجد کہہ دیا جاتا ہے، غزوہ احزاب کے موقع پر حضرت سعد زخمی ہوگئے تھے، احزاب سے فارغ ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کی طرف گئے، وہاں پر آپ نے ایک عارضی جگہ نماز کے لیے منتخب فرمائی تھی، اسی کے قریب حضرت سعد کا خیمہ نصب کیا گیا تھا۔ اس لیے یقینی طور پر یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے کسی حصے کو اس کام کے لیے مخصوص فرمایا ہو۔مساجد کو کووڈ سنٹر بنائے جانے کا مطلب ہے ان مسجدوں کو نماز کے لیے مقفل کردینا۔ یہ وہ مرض ہے جو طبی ماہرین کے مطابق سوشل ڈسٹینسنگ نہ ہونے کی وجہ سے تیزی سے پھیلتا ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک مسجد کے کسی حصے میں کرونا سے متاثر مریض ہوں اور دوسرے حصے میں نماز بھی جاری رہے۔ ان مساجد کے کووڈ سینٹر بن جانے کی صورت میں شاید ہی کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے ادھر کا رخ کرے گا، بلکہ کچھ علاقوں میں قانونی طور پر ان مساجد میں داخلے پر پابندی لگا دی جائے گی۔مساجد کا اصل مقصد ذکر الہی ہے، اگر مسلمانوں کے کسی عمل سے مسجد کے اس مقصد میں رکاوٹ آتی ہے تو یہ قرآن کی رو سے غلط ہوگا۔ جب مشرکین مکہ نے مسلمانوں کوعمرہ کرنے اور حرم میں داخل ہونے سے روک دیا، تو اللہ تعالی نے ان کے اس عمل کو "وسعی فی خرابھا” سے تعبیر فرمایا، حالانکہ مشرکین نے نہ تو مسجد حرام کو منہدم کیا تھا اور نہ ہی اس پر تالے لگائے تھے، لیکن مسلمانوں کو ذکر الہی سے روکنے کی پاداش میں وہ مسجد حرام کو ویران کرنے کے جرم کے مرتکب قرار پائے۔ مساجد کو طبی مراکز میں تبدیل کرنا کسی بھی طور ذکر الہی میں شامل نہیں ہو سکتا، جب کہ ایسا سننے میں آرہا ہے کہ ان مساجد میں نمازیں معطل کردی گئی ہیں، اگر نہیں کی گئی ہیں، تو لامحالہ کرنی پڑیں گی۔سورہ توبہ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ: "اللہ کی مسجدوں کو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور روز جزا پر ایمان لائیں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں”۔ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ: "مساجد کا مقصد اصلی اقامت صلاۃ ہے، ایمان شرط ہے اور زکات کی ادائیگی ایمان میں خلوص کا پیمانہ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو لوگوں نے مسجد نبوی میں بلند آواز سے گفتگو کی، حضرت عمر نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ترفعان أصواتكما في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ تم اللہ کے رسول کی مسجد میں آوازیں کیسے بلند کر رہے ہو؟ حضرت تھانوی فرماتے ہیں کہ مسجدوں میں آوازیں بلند کرنے کا عدم جواز صرف مسجد نبوی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ "فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسَاجِدَنَا” کی بنا پر ہر مسجد کا یہی حکم ہے۔ حضرت تھانوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک اثر نقل فرمایا ہے کہ "مساجدهم عامرة وهي خراب” قرب قیامت میں مسجدیں آباد ہوں گی لیکن درحقیقت ویران ہوں گی۔ (خطبات حکیم الامت ج 4 آداب المساجد)اس اقتباس سے واضح ہو جاتا ہے کہ مسجد کے مقصد اصلی کے علاوہ دوسرا کام کرنا مساجد کو ویران کرنے کے مرادف ہے۔ مسجدوں کو طبی مراکز میں تبدیل کرنے کے بعد مساجد کے آداب کی رعایت کرنا بھی ناممکن ہے۔ شریعت میں اس تعلق سے اتنی تاکید ہے کہ مسجد میں گمشدہ سامان کا اعلان نہیں کیا جاسکتا ہے، معتکف کے علاوہ کسی کو بھی مسجد میں خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہے، معتکف کو بھی اس صورت میں اجازت ہے جب کہ وہ سامان تجارت مسجد میں نہ لایا ہو۔روایت کے مطابق مساجد کا بظاہر آباد ہونا اور حقیقت میں ویران ہونا اسی وقت ممکن ہے جب مسجدوں میں ذکر الہی سے ہٹ کر کوئی دوسرا کام کیا جائے، خواہ وہ کتنا ہی مفید کیوں نہ ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے چند روز پہلے مسجد نبوی کے تعلق سے یہ حکم دیا تھا کہ لوگوں کے گھروں کے دروازے جو مسجد میں کھل رہے ہیں ان کو بند کر دیا جائے، صرف ابوبکر صدیق کا دروازہ باقی رکھا جائے۔ اس حکم سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے مسجد میں غیر ضروری آمدورفت کو بھی ناپسند فرمایا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بدر کے قیدیوں کو مسجد میں رکھا گیا تھا، دیگر مواقع پر بھی قیدیوں کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا جاتا تھا، غیر مسلم وفود کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا جاتا تھا، لیکن مسجد کا اصل مقصد یعنی نماز اور ذکر الہی متاثر نہیں ہوتے تھے، بلکہ غیر مسلم قیدی اور مہمان مسلمانوں کی روزمرہ مشغولیات دیکھ کر اسلام سے متاثر ہوتے تھے اور حلقہ اسلام میں داخل ہوجاتے تھے۔ لیکن کووڈ سینٹر بنائے جانے کی صورت میں مسلمانوں کا غیر مسلم مریضوں کے سامنے اپنی عبادات میں مصروف رہنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ایسی صورت میں صرف اتنی بات رہ جاتی ہے کہ غیر مسلم مریضوں کے ذہن میں یہ بات رہے گی کہ ان کی دیکھ ریکھ ایک مسجد کے تحت ہو رہی ہے، لیکن اس مثبت پیغام کے لیے مساجد کا استعمال کرنا ضروری نہیں ہے، مسلمانوں کے پاس شہر در شہر، قریہ در قریہ مدارس کی عمارتیں بھی موجود ہیں، بڑے شہروں میں مسلمانوں نے اپنے اسکول قائم کیے ہوئے ہیں۔ اگر دعوتی مقصد یا حقیقی طبی ضروریات کی بنا پر طبی مراکز قائم کرنے ہی ہیں، تو مدارس اور اسکولوں کی عمارتوں کو استعمال کیا جانا چاہیے۔ جن علاقوں میں یہ سہولت نہیں ہے، وہاں مسجد انتظامیہ کے تحت مقامی شادی ہال وغیرہ عمارتوں میں طبی مراکز کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ یقینا ملک کی صورتحال دگرگوں ہے، لیکن خدانخواستہ ابھی یہ نوبت نہیں آئی ہے کہ مساجد کے علاوہ ہر عوامی بلڈنگ فل ہوچکی ہو اور اب صرف اور صرف مساجد ہی جان بچانے کا آخری راستہ بچا ہو۔