ابوحسان پوترک

ہندوستان میں مسلمانوں کی آئندہ نسل کو اسلام اور ایمان سے پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ وابستہ رکھنے کے لئے جوجو کوششیں انجام دی جارہی ہیں اور دی جاتی رہیں گی ،اس میں سب سے موثر اور نتیجہ خیز کوشش مساجد سے منسلک جزوقتی دینی مکاتب ہیں۔
پچھلے دیڑھ سوسال سے مغرب کی جانب سے برپا الحادی تحریک کے نامبارک اثرات سے مسلمان نوجوانون کو محفوظ رکھنے میں ان مکاتب کا کردار غیر معمولی رہا ہے ۔گو مکاتب نے اس تحریک کو شعوری طورپر ہدف نہیں بنایا تھا مگر اہل مکاتب کی مثبت اور مخلص کوششوں کا یہ ثمرہ ہے کہ اللہ نے مسلم نوجوانوں کو ملحد بنانے کی منظم اور شعوری سازشوں کو اتنے بڑے پیمانے پر اور تیز رفتاری سے کامیاب ہونے نہیں دیا جس کی وہ توقع اور امید کرتے تھے ۔

لیکن اب الحادی تحریک کے وہ رجحانات گھروں محلوں اور شہروں میں دکھائی دینے لگے ہیں ۔خدا کے وجود سے لیکر تمام امور غیبی اور احکام شرعی جن کو تسلیم کرنا اسلام اور ایمان پر قائم رہنے کے لئے ضروری ہے ۔سوالات اور شکوک وشبہات کی زد میں ہیں۔نوجوان لڑکے روز بروز لبرل اور لڑکیاں فیمینسٹ ہوتی جارہی ہیں ۔ابھی اس مصیبت کا پوری طرح نوٹس لیا بھی نہیں گیا تھا کہ دوسری سمت سے یعنی اندورنی مشرکانہ برہمنی تحریک نے اپنے پنجے اور دانت دکھانے شروع کردئے ہیں ۔ان دہرے مسائل کا مقابلہ کرنے کے لئے جس ادارے کی طرف ملت اسلامیہ امید سے دیکھا جاسکتا ہے وہ صرف اور صرف مکاتب ہیں ۔

مکاتب کو ان دونوں چیلنجوں کا سامنا پوری بیداری اور منصوبہ بندی سے کرنا ضروری ہے ۔ اس کے ٖ لئے درج ذیل امور پر توجہ کی ضرورت ہے ۔
۱۔ مساجد کے ٹرسٹیوں کو مسجد کے دائرہ عمل میں وسعت پیدا کرنی ہوگی اور نماز کی ادائیگی کے ساتھ تعلیم وتربیت کے عمل کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا ۔
۲۔سرپرستوں کی ذہن سازی کرنی ہوگی کہ ان کی اولاد ان کی ذمہ داری ہے قوم کی نہیں ،لہذا اس کی تعلیم کے لئے مناسب انتظامات کرنا ان کے واجبات میں شامل ہیں ۔۵ سال سے ۱۸ سال تک اپنے بچوں کو مکتب کی تعلیم سے وابستہ رکھنا اور ان کی تعلیمی وتربیتی احوال سے باخبر رہنا ان کا اخلاقی فرض ہے ،۔
۳۔نظمائے مدارس اور مکاتب کو پہلے سے چل رہے نظام تعلیم وتربیت پر اس لحاظ سے غورکرنے کی ضرورت ہے کہ
۱۔کیا اس نظام میں ۵سال سے ۱۸ سال کی عمر کے بچوں کی تعلیم وتربیت کو ملحوظ رکھا گیا ہے ؟
۲۔کیا طلبہ کی بدلتی عمر اور تعلیمی تقاضوں کے لئے ہمارا نظام ونصاب کافی ہے ؟
۳۔کیا ہمارے تعلیمی نظام میں بچے کی ۱۔ایمانی ۲۔عملی ۳۔اخلاقی ۴۔نفیساتی ۵۔روحانی ۶۔سماجی ۷۔جنسی تربیت کا پورا نظام موجود ہے ؟
۴۔کیا الحاد اور شرک کی طرف سے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری تعلیمی اور تربیتی عنوانات کا احاطہ کیا گیا ہے؟
۵۔کیا یہ نظام تعلیم خداکی بندگی اور انسانیت کی نفع بخشی کے حوالے سے مسلم فرد کی تعمیر و تشکیل کا فریضہ انجام دے سکتا ہے ؟
اگر ہاں ! تو الحمدللہ اس کو جاری رہنا چاہئے ۔اور اگر نہیں تو اس ضرورت کی تکمیل کے لئے کسی لیت ولعل کے بغیر بھر پور کوشش کے لئے کمر کس لینا چاہئے۔
۴۔اہل خیر حضرات کو اپنی ماہانہ آمدنی سے چند فی صد مسجد میں جاری محلے کے مکتب کے لئے امداد کے طورپر مقرر کرنا ہوگا ۔تاکہ سرمائے کی قلت کی وجہ سے تعلیم وتربیت کے ضروری تقاضوں میں مصالحت سے کام لینا نہ پڑے ، وسائل تعلیم ،اساتذہ کی معیاری تنخواہوں اور نظم وضبط پر ہونے والے ضروری اخراجات بسہولت پورے ہوسکیں ۔اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ اہل خیر حضرات مدرسے کے اکاونٹ سے اپنے اکاونٹ کو منسلک کردیں ۔اور ماہانہ ادائیگی کی تاریخ اور مقدار مقرر کرلیں ،بینک ازخود مقرر رقم مدرسے کے اکاونٹ میں منتقل کردے گا۔
۵۔ مدرسین کے انتخاب کے طریقہ کار اور معیار پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔مدرسہ نے تعلیم وتربیت کے جو اہداف ومقاصد مقرر کئے ہیں ان کی تکمیل کی واحد صورت ماہر،بیدار ذہن ،جفا کش اور مخلص اساتذہ ہیں ،اساتذہ کے انتخاب میں مقاصد واہداف کے لئے کارگر اور معاون افراد کا تقرر یقینی بنایا جائے ۔ اگر ایسے اساتذہ ملنا مشکل ہو تو جن اساتذہ میں فی الجملہ ایسی صلاحیت موجود ہو مگر موقع نہ ملنے کی وجہ سے وہاں تک پہنچنے سے عاجز رہے ہوں ایسے افراد کا عارضی تقرر کرکے ان کی تربیت اور ٹریننگ کا معقول انتظام کیا جانا چاہئے ۔

نیز ایسے اساتذہ کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جانی چاہئے جو اس طرح کے غیر معمولی کاموں پر مقرر کارکنان کو دی جاتی ہیں ۔معاشی لحاظ سے انھیں یکسو کرنا کام کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے ۔دینی کارکنان کو ہمیشہ قربانیوں پر مجبور کرنا قربانی کی روح کے بھی خلاف ہے اور اجتماعی ذمہ داریوں کی عام قدروں کے بھی منافی ،کام کی عظمت کا تقاضا ہے کہ اس سے منسلک ہر فرد کی قدر وقیمت کا پورا لحاظ رکھا جائے ۔