بنگلورو۔دورس مضمرات ساتھ ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے مذکورہ کرناٹک اسٹیٹ بورڈ برائے اوقات نے تمام مساجد اور درگاہوں کے لئے ریاست میں ایک سرکولر جاری کیاہے کہ رات10بجے سے صبح6بجے کے درمیان میں لاؤڈ اسپیکرس کا استعمال نہ کریں اور کہاکہ ان ڈھانچوں کے اردگرد پیدا ہونے والی سوتی آلودگی کی سطح”انسانی صحت پر مضر اثرات اور نفسیاتی تناؤ کی وجہہ بن رہا ہے“۔

مذکورہ سرکولر جس کی اجرائی9مارچ کے روز عمل میں ائی ہے کہ بورڈ نے کہاکہ ”رات کے وقت میں لاؤڈ اسپیلرس کا استعمال نہیں کیاجانا چاہئے‘ جس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ رات10بجے سے 6بجے صبح کے وقت میں“

جرمانہ
مزید”سلائنس زون“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سرکولر میں کیاگیاہے کہ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیاجائے گا”مذکورہ علاقے جو اسپتالوں‘ تعلیمی اداروں‘عدالتوں کے 100میٹرس کے اردگرد پر مشتمل ہے اس کو سلائنس زون قراردیاگیاہے“۔

سرکولر میں لکھا ہے کہ”جوکوئی بھی ساؤنڈ ایمپلائفائریاپھر شورکرنے والے پٹاخون کے استعمال‘ لاؤڈ اسپیکر یا پی ا ے ایس کا سلائنس زون میں استعمال انوائرمنٹ (پروٹوکشن) ایکٹ 1986کے قوانین کے تحت جرمانہ کا سبب بنے گا“۔

مذکورہ فیصلہ بورڈ کی 327ویں میٹنگ جو 19ڈسمبر2020کو منعقد ہوئی تھی کرناٹک میں سوتی آلودگی پر قابوکے مقصد سے سخت فیصلے لئے گئے ہیں۔ مذکورہ بورڈ نے سدارامیہ حکومت کے دوران اس ضمن میں اٹھائے جانے والے فیصلوں پر ہی عمل کرنے کا درگاہوں کے متولیوں اور مساجد کمیٹیوں کو اشارہ دیاہے

مساجد میں اہم مواقعوں او رنماز کے اوقات میں لاؤ ڈ اسپیکرس کا استعمال کیاجاتا ہے۔ نماز جمعہ کی اذان اور خطبات کے علاوہ عیدین کی نمازوں کے موقع پر بھی لاؤڈ اسپیکرس کا استعمال عام بات ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں