مساجداورلاک_ڈاؤن بھارت میں کرونا کی کہانی، مولویوں پر الزام تراشی، مساجد پر تالے اور غریب مزدوروں کو بھوکا مارنا

✍🏻 از قلم: سمیع اللّٰہ خان

کرونا وائرس نے عالمی وبائی صورت اختیار کرتے ہوئے پوری دنیا کو فکرمند اور الرٹ کردیا ہے.اس وباء عام سے آدھی دنیا پریشان ہوچکی ہے.اس کے متعلق اکثر انفارمیشن WHO ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے آرہی ہیں جوکہ فری میسن کے حوالے سے چرچا میں رہاہے، اس کے اشتراک سے ماضی میں خود وبائی امراض کو انگیز کرنے کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں، اس ریکارڈ کے تناظر میں تو ابھی کوئی گفتگو نہیں کرینگے، عالمی طاقتوں کی پالیسیاں کیا ہیں یہ بھی ابھی واضح نہیں ، درحقیقت فی الحال ہم جیسے عام انسانوں کے لیے تو یقینًا یہ ایک بیماری اور وباء عام ہے، ہم لوگوں کے پاس فراہم وسائل اور Source Of Information کی روشنی میں تو یہ وباء عام ہے، اور کرونا کو بیماری کی قبیل سے ہی لیکر ہمیں موجودہ صورتحال سے نمٹنا ہوگا
باقی والله اعلم

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

ہمارے ملک بھارت میں بھی کرونا وائرس پایا جارہاہے
اس کی وجہ سے لوگوں میں تشویشناک لہر پائی جاتی ہے جو کہ فطری ہے اور ضروری بھی.کسی بھی وباء عام کو پھیلنے سے روکنا ہر انسان کا اولین فرض ہوتاہے
اس کے لیے ڈاکٹروں اور محکمہء صحت کی طرف سے جاری کی جانے والی ہدایات کو بلا کسی سیاسی اختلاف کے فالو کرنا چاہیے.کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر طرح کی احتیاطی تدبیر اختیار کرنا صرف قانونی اور طبی گزارش نہیں ہے بلکہ یہ شریعت اسلامی کا بھی مطالبہ ہے.جب سے یہ بیماری ہندوستان میں داخل ہوئی ہے شروعات میں یہاں کے حکمرانوں نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ نظرانداز کرتے رہے
کئی سیاسی اور سوشل شخصیات کے علاوه عالمی صحت و میڈیکل کے اداروں نے جب دوسری، تیسری بار Warn کیا تب جا کہ بھارت میں اس بابت وزارت عظمیٰ اور صوبائی کابینہ کی آفیشل میٹنگز شروع ہوئی
تب تک تقریباﹰ ۳۰ مریض پائے جاچکے تھے
لیکن اُس وقت تک ہندوستانی حکومت کے اقدامات اتنے تھے کہ، موبائل فون پر کورونا الرٹ کی کالر ٹون لگا دیے، چند جگہوں پر ہدایات کے پوسٹرز چسپاں کردیے، بس
پھر اس کے بعد مختلف نئے شہروں میں کرونا وائرس پایا جانے لگاپھر عالمی میڈیکل اداروں کی تنبیہ آئی تب جا کر یہاں کے اندھے بہرے حکمرانوں کو ہوش آیا اور وزیراعظم نے قوم سے خطاب کا اعلان کیا وہ بھی دو دن بعد
*پھر خطاب میں کیا کہا؟*
۱ دن کا ملک گیر کرفیو اور شام کو ۵ بجے تالی، تھالی اور گھنٹی بجاؤ
*اس اعلان کے بعد اگلے دن تالی تھالی اور گھنٹیاں بجانے کے عمل میں رجت شرما کے کہنے پر وزیراعظم نے باقاعدہ ” شَنکھ ” بجانے کو بھی شامل کردیا یہ عمل قدیم دیومالائی ہندووانہ رسومات سے قریب تر تھا*
جنتا کرفیو رفتہ رفتہ لاک ڈاؤن کی طرف بڑھ رہا ہے
*لیکن صرف ایک دن کے جنتا کرفیو میں کیا ہوا؟*
کرونا کے خلاف میڈیکل بنیادوں پر بیداری کتنی حاصل ہوئی اس پر تو حکومتی اداروں نے کوئی باضابطہ Analysis پیش نہیں کیا ، لیکن بھاجپا کے وزراء اور ان کی بے شرم میڈیا نے جو شمار کرایا ہے وہ یہ ہے:
۱ دن کے جنتا کرفیو کے آگے پورے بھارت نے نریندرمودی کو سمرتھن کیا
۱ دن کے جنتا کرفیو نے یہ ثابت کردیا کہ نریندرمودی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا سب سے طاقتور لیڈر ہے.۱ دن کے جنتا کرفیو میں شام ۵ بجے جس طرح پورا ملک دروازوں پر تالیاں، گھنٹیاں اور شَنکھ بجا رہ تھا اس سے بھاجپا سرکار کے Organized سسٹم کا پتا چلتا ہے
اور نریندرمودی کے حکم پر جس طرح ہر بڑا چھوٹا آدمی تالی اور تھالی پیٹ رہا تھا اس سے پچھلے دنوں این آر سی، NPR اور CAA کے نام پر جو شبیہ مودی جی اور امیت شاہ جی کی بنائی جارہی تھی اس کی پول کھل گئی ہے بھارت نے بھاجپا، امیت شاہ اور مودی جی کے ساتھ ” اکھنڈتا ” سے کھڑے ہونے کا اعلان کردیاہے.

یہ سارے وہ بیانات اور حصولیابی ہیں جنہیں میڈیا اور حکمران طبقہ دیش اور دنیا میں جنتا کرفیو، لاک ڈاؤن اور ۵ بجے ۵ منٹ کی آڑ میں Circulate کررہاہے،
*صرف کرونا وائرس کی پھیلائے جانے والی سنسنی، اور اس سے بتائے جانے والے موت کے خوف سے اگر باہر آئیں گے، اور عالمی و ملکی صورتحال کا ہر پہلو سے جائزہ لیں گے تو یہ بات واضح ترین ہوتی ہے کہ جب سے کرونا وائرس انڈیا میں آیا تب سے لیکر ۲۲ مارچ کی شام تک ہندوستان کی حکومت نے اس کو سنجیدگی سے لینا تو درکنار بےشرمی کے ساتھ اس بیماری کو اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے، عالمی برادری میں اپنی ظالمانہ، متعصبانہ اور دنگائی شبیہ کو صاف شفاف کرنے کے لیے استعمال کیا*
کوئی ایک میڈیکل اعلان، طبی سہولیات کا اعلان نہیں کیاگیا جوکہ بنیادی ضرورت تھی اس وائرس سے لڑنے کے لیےبہار سمیت کئی ریاستوں میں تو اب تک شروعاتی مرحلے کی بھی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں ہیں.احمدآباد اور لکھنؤ سمیت کئی ہوائی اڈوں پر خود بھاجپا حکومت کی آفیشل ایڈمنسٹریشن آفیشل مشنری نے کرونا وائرس کے مریضوں کو کہیں رقم کی رشوت تو کہیں دبدبے والی رشوت کے عوض آبادیوں اور اجتماعات میں گھسنے دیا
جس وقت وزیراعظم Social Distance کی اپیل کررہےتھے اس وقت مدھیہ پردیش جیسی بڑی ریاست میں بیشمار ایم ایل ایز کے ساتھ دن بھر پورے صوبے کی سڑکوں پر ناچ اور جلوس ہوتا رہا جس میں بڑی تعداد مہمانوں کی باہر سے آئی تھی.لکھنؤ میں مشہور گلوکارہ پارٹی دیتی ہے جس میں حکمران جماعت کے وزیروں سمیت بڑے بڑے سرمایہ دار اور Public Figure موجود ہوتےہیں

یہ بھی پڑھیں:  بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈاور جمعیۃ یوتھ کلب

یہ پارٹی دینے والی خود کرونا وائرس سے متاثر ہوتی ہے، جسے یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کی ایڈمنسٹریشن اجتماعات اور آبادیوں میں کھلا چھوڑ دیتی ہے یہ کرونا جیسے خطرناک مرض کو لے کر تین دنوں تک لوگوں سے ملتی ہے اس سے متاثرہ سانس لیتے ہوئے آبادیوں کو آلودہ کرتی رہتی ہے.پھر اس کے بعد احمدآباد اور کئی کئی شہروں میں شدت پسند ہندوتوا سنگھٹن کے لوگ باقاعدہ سڑکوں پر ہجوم کرتےہیں
*یہ اور ایسے کئی واقعات رونما ہورہےہیں، جس کے ذریعے واضح ہوتاہے کہ حکومتی اداروں کی مجرمانہ غفلت، اور حکمران طبقے کی عدم سنجیدگی اور ہندوتوا کے وائرس زدہ مجمع سے یہ بیماری پھیلنے کا سبب ہے، لیکن مجال ہے کہ مرکزي حکومت نے ایسی خطرناک بیماری پھیلانے والے اپنے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کری ہو، اور بھولے بھالے یا ڈرے سہمے لوگ کہتےہیں کہ مودی گورنمنٹ اس بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کررہی ہے* ایسے لوگ دراصل زمینی حقائق سے نابلد ہوتے ہیں اور میڈیا کی دنیا میں زیادہ جی جی کر کرونائی موت کے ڈر کا شکار ہیں_

*مودی کا میڈیا یہ پروپیگنڈہ کررہاہے کہ* ٹرینیں بند کرکے اور ملک بھر میں ٹرانسپورٹ سسٹم کو منسوخ کرکے بھاجپا حکومت نے بڑا فیصلہ اور بہت ہی سخت قدم اٹھایا ہے، یہ صرف پروپیگنڈہ ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ سسٹم کو منسوخ کرنے کا فیصلہ اسی دن لینا چاہیے تھا جس دن دہلی کے بعد کرونا وائرس مہاراشٹر ممبئی میں بھی پایا گیا تھا، لیکن تعلیم اور انفارمیشن سے نابلد سرکار نے ۲۲ مارچ تک اس کو پھیلنے دیا، کیونکہ اس کے پھیلنے میں خود انہی کا سیاسی فائدہ تھا، جو یہ لوگ اب اٹھا رہےہیں، اس طرح گورنمنٹ کی مجرمانہ پالیسیوں اور بدترین موقع پرست سیاست، بھارت میں کرونا وائرس کو پھیلانے کا سبب بنی، *لیکن کچھ کرونائی نفسیات کی ساری زبانی جمع خرچ یہیں پر ٹوٹتی ہےکہ مساجد پر تالے لگا دو شاہین باغ ختم کرو، گویاکہ* انہیں کوئی اضافی وحی کی گئی ہے کہ کرونا وائرس صرف اور صرف مساجد اور شاہین باغات سے پھیلنے والا ہے
جبکہ انڈیا میں اکثر مساجد اپنے مصلیان کو محدود کررہےہیں اور بیشتر شاہین باغ ملتوی ہورہےہیں
لیکن یہ خبریں یا تو ان کی کرونائی نگاہوں سے اوجھل ہیں یا رہ رہ کر ان کا لاک ڈاؤن غصہ اور بیماری کے میڈیائی مسلط کردہ فرسٹریشن صرف مسلمانوں، مولویوں، علماء، ائمہ مساجد اور غریب عوام پر ہی اتر سکتاہے *ہر ہر بات میں مولوی طبقے کو مورد الزام ٹھہرانا، ائمہ مساجد، علماء اور غریب انسانوں سے ہی احتیاط اور اقدامات کے مطالبات کرنا یہ دراصل ناکام ذہنیت کی کارستانی ہوتی ہے،* کیونکہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں جینے کے عادی ہوچکے ہوتےہیں، کھیت، کھلیان، چوپال اور چبوترے کی وسیع دنیا ان کے تصور اور زاویہء تجزیات سے بہت دور ہوجاتی ہے
پھر ان کی نگاہ میں، گاؤن دیہات، غریب مزدور، عام انسان، مولوی اور امام حافظ اور مؤذن، یہ وہ مخلوق ہوجاتی ہے جس پر ہمیشہ غصہ اتارو، اپنی ڈیجیٹل میڈیائی دنیا کا فرسٹریشن انہی پر اتارو، یہ کرونا کی موجودہ صورتحال میں تصویر کا وہ رخ ہے جسے آپ بہت اچھے سے محسوس کرسکتےہیں
*مطلب حد ہے: کچھ نہیں تو یہ شور مچادیا کہ کرونا وائرس مولویوں کی ہٹ دھرمی، تبلیغی مسلمانوں اور ائمہ مساجد کی ہٹ دھرمی سے پھیل رہا ہے…… مطلب کرونا وائرس نے اپنے لیے چن چن کر مسلمانوں اور مولویوں کو اپنی سواری بنا رکھا ہے کس قدر غیر منطقی اور غیر معقول باتیں ہیں یہ*

یہ بھی پڑھیں:  آپ بہت یاد آئیں گے حضرت

ہم جنتا، کرفیو کے خلاف تھے، لیکن جنتا کرفیو کی عملی مخالفت نہیں کرتے
ہم خود لاک ڈاؤن کے سبب پھنس چکےہیں لیکن لاک ڈاؤن کی مخالفت ہرگزنہیں کرتے

لیکن حقیقت کی نگاہوں سے ہندوستان میں کرونا کا تجزیہ بھی کرتےہیں اور حقیقت یہی ہیکہ موجودہ بھارت کے حکمرانوں کی مجرمانہ پالیسیوں نے بھارت میں کرونا کو انگیز کیا ہے
کرونا سے پہلے ملک میں سیاسی اور سماجی ابتری پھیلی ہوئی تھی اور معیشت قابل رحم تھی، اب سب کچھ کرونائی کے کر کے حکومت احسان جتلانے کے مقام پر آگئی ہے
لیکن اب بھی ہم یہی کہتےہیں حکومت کے محکمہ صحت سے جاری کی جانے والی ہدایات اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا شریعت اسلامیہ کا مطالبہ ہے

*لیکن مساجد کو بند کروانا ہرحال میں غلط ہے، اور موجودہ بھارت میں غلط ترین ہوگا بھارت میں کرونا کے پیش نظر مساجد کے سلسلے میں سب سے بہترین اور سلجھی ہوئی رائے معروف فقیہ مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی کی ہے اس پر عمل کیا جائے*
ایک طرف ہر مسجد میں نمازیوں کی تعداد اس کے رقبے کے لحاظ سے محدود اور فاصلوں کے ساتھ کی جائے ساتھ ہی کسی بھی مسجد سے پنج وقتہ اذانوں کو بند نا کیا جائے بالکل نہیں، *کرونا اذان کی آواز سے نہیں پھیلتا بلکہ اذانوں میں زندگی اور کرفیو کے بعد کی امیدیں ہیں، جنہیں ہر ہر حال میں، ہر چھوٹی بڑی مسجد سے جاری رہنا چاہیے*

*اب رہی بات مکمل ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کی لاک ڈاؤن کا یکطرفہ مطالبہ کرنے سے پہلے کچھ پہلوﺅں پر غور کیجیے:*
ایک دن کے جنتا کرفیو لاک ڈاؤن سے حکمران جماعت نے جو سیاسی فائدہ حاصل کیا ہم اس کو وباء عام کی روک تھام کے لیے برداشت کرلیں گے لیکن دوسرا پہلو بہت نازک ہے
جنتا کرفیو لاک ڈاؤن میں شاہین باغ پر پٹرول بموں سے حملہ ہوا، جامعہ ملیہ اسلامیہ پر فائرنگ ہوئی، کئی جگہوں پر فسادی سنگھیوں نے تشدد کرنا چاہا، پولیس نے زیادتیاں کیں،
یہ صرف ایک دن میں ہوا
جو لوگ حکومت کی طرف سے مکمل لاک ڈاؤن کی اندھادھند تائید کررہے ہیں، ان سے یہ سوال ضرور پوچھیے کہ کیا آپکو پولس اور فورسز کے راج میں انڈیا میں زندگی گزارنے کا تجربہ ہوا ہے؟ اگر اس طویل کرفیو میں جانوں اور عزتوں سے کھلواڑ ہوا تو کیا وہ اس کی ضمانت دیتے ہیں؟ چونکہ لاک ڈاؤن اور کرفیو کی باتیں انڈیا میں کی جارہی ہیں، اور انڈیا کی پولیس و فورس کی حقیقت پوری دنیا جانتی ہے، ایسے میں ہم اپنے آپ کو بغیر کسی ٹھوس معاہدات کے ان لوگوں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیں؟ اگر خدانخواستہ فسادی ذہنیت نے کرفیو کے دوران پولیس ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ملکر شرارت کی تو کرونائی وباؤں سے مرنے والے بہت کم رہ جائیں گے، جو کچھ موجودہ سرکار میں گزشتہ کئی سالوں سے، آگ، نفرت اور خون کا ننگا ناچ ہوا ہے، اس کی روشنی میں یہ سوالات بالکل واجب، اور فطری ہیں، ہوسکتاہے سب کچھ ٹھیک ٹھاک گزر جائے لیکن آنکھ بند کرکے زہر پر اعتماد ہرگزنہیں کیا جاسکتا، اس کی ذمہ داری کون لے رہاہے، ایسے قدآور ملکی لیڈروں کو سامنے آنا ہوگا_
ان سب کے باوجود ہم کرونا کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤنلوڈ کی تائید کردینگے
*لیکن ذرا ہمیں بتائیے کہ:*
مکمل لاک ڈاؤنلوڈ کی صورت میں انڈیا کی پچہتر فیصدی آبادی، جوکہ تقریباﹰ پچاس کروڑ سے زائد لوگ ہیں، جو ایک دو روز یا زیاده سے زیادہ ہفتے بھر کی کمائی اسٹور کرکے اسی پر گزر بسر کرتےہیں
لاک ڈاؤن ہوجانے کی صورت میں یہ آبادی بھکمری سے مرجائے گی
*کیا کرونا وائرس سے مرنے والے بیشتر امیروں اور بھکمری سے مرجانے والے غریبوں کی جانوں کے معیار الگ الگ ہیں؟*
لاکھوں کروڑوں غریب مزدوروں اور انسانوں کو فاقہ کشی اور بھکمری سے بچانے کے لیے کوئی انتظام حکومت نے کیوں نہیں کیا؟ دیگر ممالک نے بھی یقینًا لاک ڈاؤنلوڈ کیا ہے لیکن ان ممالک نے لاک ڈاؤن کی صورت میں عوام کے نقصان کی تلافی کے لیے نا صرف یہ کہ لاکھوں کروڑ روپیے اور ملین کے پیکجز کا اعلان کیا ہے، ساتھ ہی اپنی اپنی رعایا کے لیے کھانے پینے اور روزمرہ کے انتظامات بھی کیے ہیں، لیکن بھارت میں لوگوں کے کاروبار کے نقصانات تو دور کروڑوں غریب انسانوں کے کھانے کا بندوبست تک حکومت نہیں کررہی ہے، اور یہ ذمہ داری بنیادی اور واجبی درجے میں حکومت کی ہی ہے، دو چار فلاحی اور سماجی آرگنائزیشن چند علاقوں میں چند ہزار لوگوں کی کفالت کرسکتےہیں، وہ بھی اس مالی بدحالی کے عہد میں ۱ آدھ مہینے تک، اس کے بعد ان کے بجٹ بھی جواب دے جائیں گے
جب تک حکومتی ادارے اور ہر ضلع، قصبہ، پنچایت، تعلقہ اور تحصیل میں سرکاری ایڈمنسٹریشن اپنی ذمہ داری پر عوام کے لیے کھانے پینے کا بندوبست نہیں کرینگے، اس مسئلے کا دیرپا حل نہیں نکلے گا
اس مسئلے پر اسلامی آرگنائزیشن اور اسکالرز مسلمانوں کو زکوٰۃ اور صدقات کی طرف متوجه کررہےہیں یہ بھی اچھا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم ترین اور مؤثر طریقہ یہ ہیکہ گورنمنٹ سے معاہدہ لیا جائے کہ وہ انسانوں کی خوراک کا سرکاری بجٹ سے انتظام کرے، ہر موقع پر اگر سبھی کچھ بوجھ سوشل تنظیمیں اور ان کے مخلصین اپنے کاندھوں پر اٹھا لیں گے، تو پھر ہندوستان میں، سرکار، گورنمنٹ، پارلیمنٹ، ایڈمنسٹریشن اور سسٹم کیا صرف تالیاں بجوانے اور سرکاری خونریزی برپا کروانے کے لیے ہی ہے کیا؟
عوام اور مسلمانوں اور مولویوں کو، کوسنے دینے والے فیسبکیا مفکرین کو چاہیے کہ پہلے پوری معلومات جمع کریں کہ کرونا بھارت میں کیوں اور کیسے پھیلا، بعدازیں اپنی قوم پر غصہ نکالیں
*جو لوگ کرفیو لاک ڈاؤن کی صورت میں بھکمری سے متوقع مرنے والوں اور پولیس و فورسز کی زیادتیوں کے خطرات کو نظرانداز کرکے یکطرفہ بند کرنے کا مطالبہ کررہےہیں انہیں چاہیے کہ وہ یورپین اور چائنیز ممالک سے اوپر اٹھ کر انڈیا کو اس کی موجودہ صورتحال میں دیکھیں،بہت سارے وائرس ماضی میں بھی آئے ہیں صرف میڈیائی ماحول اور ڈیجیٹل زندگی کے ماحول سے باہر آئیے اور زمینی صورتحال کا جائزہ لیجیے، آپ جب کرونائی ٹینشن کو اپنے دماغ سے الگ کرینگے تو آپکو احساس ہوگاکہ اگر بھارت میں کرونا سے ۱ ہزار اموات کا خدشہ ہے تو غیر مرتب اور بے سلیقہ لاک ڈاؤن اور کرفیو سے ۱۰ ہزار زندگیاں متاثر ہوسکتی ہیں……… اور مساجد پر بالکلیہ تالے ڈالنے سے صرف مسجدیں ہی نہیں ملک کی فضا اور اس کی روحانی سرسبزی بھی ویران ہوجائےگی، اور ممکنہ طورپر انڈین مینجمنٹ کو سخت حالات کا بہانہ کرکے آئندہ مساجد بند کروانے کے لیے ایک نظیر ایک دلیل مل جائےگی_*

یہ بھی پڑھیں:  درد دل

باقی آپ ہر ہر احتیاطی تدبیر اختیار کیجیۓ، مصافحہ، معانقہ نا کریں، سفر نا کریں، حکومت کا محکمہء صحت جو بھی ہدایات جاری کرے اس پر عمل کریں، جو جہاں ہے وہیں ٹھہر جائے، کوسنے والوں اور ڈرانے والوں کی بالکل نا سنیں، ڈیجیٹل اور میڈیائی ماحول کے عادی مفکرین کو معذور سمجھتے ہوئے نظرانداز کیجیۓ، ان سب کے باوجود اس ایمانی یقین پر قائم رہیے کہ ” اینما تکونوا یدرککم الموت ” نیز کائنات پر حکم کی آخری مہر کا قرآنی اصول ” ان الحکم الا لله ” یاد رکھیں، اور اپنی ایمانی لائف لائن کو تازہ رکھیں_

*سمیع اللّٰہ خان*
۲۳ مارچ بروز پیر، ۲۰۲۰
ksamikhann@gmail.com

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me