مرکز نظام الدین کی چابیاں مولانا سعد کو دینے کا حکم، دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کی سرزنش کی

913

نئی دہلی: سٹی پولیس نے پیر کو دہلی ہائی کورٹ سے کہا کہ نظام الدین مرکز جوکووڈ۔19 وباء کے دوران تبلیغی جماعت کا اجتماع کے لئے مارچ 2020 میں بند کردیا گیا اس کی کنجیاں جماعت کے امیر مولانا سعد کو حوالہ کرنے میں اس کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

دہلی پولیس کے وکیل نے استدلال پیش کیا کہ اس کو نظام الدین بنگلے والی مسجد کے حقیقی مالک سے متعلق دستاویزات فراہم نہیں کئے گئے اور جس فرد سے اس نے قبضہ حاصل کیا تھا جو مولانا محمد سعد ہیں انہیں کنجیاں حوالے کرسکتی ہے۔

پولیس نے عدالت کے روبرو ادعا کیا کہ مولانا سعد فرار ہیں جب کہ مرکز کی انتظامی کمیٹی کے ایک رکن نے دعویٰ کیا کہ وہ وہیں موجود ہیں اور کنجیاں حاصل کرنے وہ ایجنسی کے روبرو پیش ہوسکتے ہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس جسمیت سنگھ نے کہا ”آپ (پولیس) نے کسی فرد سے قبضہ حاصل کیا۔

اس فرد کو آپ قبضہ دے دیں۔ میں یہاں جائیداد کی ملکیت کے لئے ایک ایف آئی آر کا فیصلہ کرنے کے لئے نہیں ہوں، یہ معاملہ میرے روبرو پیش نہیں ہے۔ آپ دیکھیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے مگر کنجیاں حوالہ کردیں۔ آپ ان کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔“

ہائی کورٹ، مسجد، مدرسہ کاشف العلوم اور ایک ہاسٹل پر محیط نظام الدین مرکز کی وباء کے آغاز کے بعد مسدودی پر اس کی کشادگی کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی وقف بورڈ کی دائر کردہ ایک درخواست کی سماعت کررہی ہے۔ ہائی کورٹ نے مئی میں عبوری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے مرکز کے مخصوص علاقوں کی کشادگی کی اجازت دی تھی جو تبلیغی جماعت کے اجتماع کے بعد بند کردئیے گئے تھے۔ مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں مکمل احاطہ کی کشادگی کی مخالفت کی تھی۔

اس ماہ کے اوائل میں پولیس نے نظام الدین بنگلے والی مسجد کی ملکیت سے متعلق دستاویزات پیش کرنے کی دہلی وقف بورڈ کو ہدایت دینے کے لئے ایک درخواست داخل کی تھی۔

دہلی پولیس اور مرکز کی جانب سے پیش کرتے ہوئے وکیل رجت نائر نے استدلال پیش کیا تھا کہ جائیداد کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے حقیقی مالک سامنے نہیں آیا ہے اور دہلی وقف ایکٹ کے تحت متولی کو آگے آنا ہوگا نہ کہ دہلی وقف بورڈ جو اس کیس میں درخواست گزار ہے۔