نئی دہلی،24 فروری (یواین آئی) مرکزی کابینہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری میں صدر راج لگانے کی سفارش کی ہے۔مرکزی حکومت نے یہ قدم پڈوچیری میں وزیراعلی وی نارائن سامی کی قیادت والی حکوتم کے گرنے اور بھارتیہ جنتا پارٹی اور اتحادی پارٹیوں کے ذریعہ حکومت بنانے کا دعوی پیش نہ کئے جانے کے بعد اٹھایا ہے۔


اطلاعات و نشریات کے وزیر پرکاش جاوڈیکر نے بدھ کو کابینہ کی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ کسی بھی پارٹی نے پڈوچیری میں حکومت بنانے کا دعوی پیش نہیں کیا ہے اس لئے مرکزی کابینہ نے وہاں صدر راج لگانے کی سفارش کی ہے۔پڈوچیری کے لیفٹننٹ گورنر کا اضافی کام کاج سنبھال رہے تلنگانہ کے گورنر ٹی سندر راجن نے بھی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سفارش کی تھی اور اسے اب صدر کے پاس بھیجا جائےگا۔


مسٹر جاوڈیکر نے کہا کہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند جلد ہی اس مسئلے پر غور کریں گے اور اس کے بعد اس بارے میں صدرسکریٹریٹ کی جانب سے اطلاع دی جائےگی۔واضح رہے کہ مسٹر نارائن سامی گزشتہ پیر کو اعتماد کے ووٹ ہار گئے تھے جس کے بعد انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔ پڈوچیری میں تمل ناڈو ،کیرالہ، مغربی بنگال اور آسام کے ساتھ اپریل – مئی میں الیکشن ہونے ہیں۔