نئی دہلی ، یکم فروری( ایجنسیز)مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے آج لوک سبھا میں عام بجٹ 22-2021 پیش کر دیا، اور اس کے ساتھ ہی کسان، مزدور، غریب، متوسط طبقہ سبھی کی امیدیں ٹوٹ گئیں۔ اگر کسی کو اس بجٹ سے فائدہ ہوا ہے تو وہ سرمایہ دار طبقہ ہے، لیکن کئی ٹریڈ یونین نے بھی اس بجٹ کو انتہائی مایوس کن قرار دیا ہے۔

اس درمیان قابل غور بات یہ ہے کہ بجٹ 2021 سے اقلیتی طبقہ پوری طرح سے غائب ہو گیا ہے، یا پھر یوں کہیں کہ مرکز کی مودی حکومت نے مسلمانوں کو پوری طرح سے فراموش کر دیا۔

مرکزی بجٹ کے تعلق سے اپوزیشن پارٹی لیڈران اور معاشی ماہرین کے رد عمل لگاتار سامنے آ رہے ہیں، اور بیشتر نے بجٹ کو مایوس کن ہی قرار دیا ہے۔ خصوصی طور پر تعلیم اور ملازمت کے شعبہ میں کوئی خیر خواہ قدم نہ اٹھائے جانے سے لوگ حیرت میں ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ حیرانی کی بات جو اس بجٹ میں دیکھنے کو ملی، وہ یہی ہے کہ اقلیتی طبقہ کے تعلق سے نرملا سیتارمن نے ’دل بہلانے‘ کے لیے بھی کوئی بات نہیں کی۔ اس سے زیادہ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ جو لوگ اس بجٹ کو غریب اور مزدور مخالف قرار دے رہے ہیں انھوں نے اس طرف دھیان ہی نہیں دیا کہ یہ بجٹ ’اقلیت مخالف‘ بھی ہے۔

دراصل مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے آج جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں نہ تو انکم ٹیکس سلیب میں کوئی چھوٹ دی ہے اور نہ ہی تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا ہے، نہ ہی جی ایس ٹی کے تعلق سے کوئی آسانی فراہم کی ہے اور نہ ہی کسانوں کے لیے کوئی آسانی میسر کی ہے، حتیٰ کہ غیر منظم سیکٹر کے لیے بھی کوئی اچھی خبر نہیں دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ 22-2021 کی چہار جانب سے تنقید ہو رہی ہے۔