سائنسدانوں کی ایک ٹیم کے مطابق انہوں نے ایسی مردانہ مانع حمل دوا تیار کی ہے جو چوہوں میں 99 فیصد مؤثر تھی اور اس کے قابل مشاہدہ نقصان دہ اثرات بھی سامنے نہیں آئے۔توقع ہے کہ انسانوں پر اس دوا کا تجربہ رواں برس کے آخر میں کیا جائے گا۔

یہ نتائج امیریکن کیمیکل سوسائٹی کے موسم بہار کے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے اور مردوں کے لیے۔۔۔ پیدائش پر قابو پانے کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو بڑھانے کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔یونیورسٹی آف منیسوٹا کے گریجویٹ طالب علم ایم ڈی عبداللہ النعمان جو نتائج پیش کریں گے، نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ 1960 کی دہائی میں جب سے پہلی بار خواتین کے لیے مانع حمل کی گولی کی منظوری دی گئی تھی، اس وقت سے محققین مردوں کے لیے گولی بنانے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متعدد مطالعوں سے معلوم ہوا ہے کہ مرد اپنی مخالف جنس کے ساتھ ضبط پیدائش کی ذمہ داری بانٹنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن اب تک صرف دو موثر آپشن دستیاب ہیں: کنڈوم یا نس بندی۔نس بندی کی سرجری مہنگی ہے اور ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی۔خواتین والی گولی ماہواری میں خلل ڈالنے کے لیے ہارمونز کا استعمال کرتی ہے، اور مرد کے لیے اسی قسم کی گولی نے مردانہ جنسی ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کو نشانہ بنایا۔تاہم اس نقطہ نظر کا مسئلہ یہ تھا کہ اس سے وزن، ڈپریشن اور کولیسٹرول میں اضافے جیسے ضمنی اثرات پیدا ہوئے جنہیں کم کثافت والے لیپوپروٹین کے نام سے جانا جاتا ہے، جو دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔

خواتین کی گولی کے سائیڈ افیکٹ بھی ہوتے ہیں جن میں خون جمنے کا خطراہ بھی شامل ہیں – لیکن چونکہ مانع حمل نہ ہونے کی صورت میں خواتین کو حاملہ ہونا پڑتا، اس لیے خطرہ مختلف ہوتا ہے۔

غیر ہارمونل

پروفیسر گنڈا جارج کی لیب میں کام کرنے والے نعمان نے ایک غیر ہارمونل دوا تیار کرنے کے لیے ’ریٹنوئک ایسڈ ریسیپٹر (آر اے آر) الفا‘ نامی پروٹین کو اپنا ہدف بنایا۔جسم میں وٹامن اے کو مختلف شکلوں میں تبدیل کیا جاتا ہے، جس میں ریٹنوئک ایسڈ بھی شامل ہے، جو خلیات کی نشوونما، نطفے کی تشکیل اور ایمبریو کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ریٹینوئک ایسڈ کو یہ افعال انجام دینے کے لیے آر اے آر ایلفا کے ساتھ تعامل کرنے کی ضرورت ہے، اور لیب تجربات سے چوہوں میں وہ جین نہیں تھا، جو آر اے آر ایلفا بناتے ہیں۔

اپنے کام کے لیے نعمان اور جارج نے ایک مرکب تیار کیا جو آر اے آر ایلفا کے عمل کو روکتا ہے۔

انہوں نے ایک کمپیوٹر ماڈل کی مدد سے بہترین مالیکیولر سٹریکچر کی نشاندہی کی۔

نعمان نے کہا کہ ’اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ چابی والا سراخ کیسا ہے تو پھر ہم ایک بہتر چابی بنا سکتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں کمپیوٹیشنل ماڈل آتا ہے۔‘

ان کا کیمیکل، جس کو وائی سی ٹی 529 کہا جاتا ہے، کو دو دیگر متعلقہ ریسیپٹرز آر اے آر بیٹا اور آر اے آر گاما کی بجائے خاص طور پر آر اے آر ایلفا کے ساتھ تعامل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ تاکہ ممکنہ سائیڈ افیکٹس کو کم سے کم کیا جاسکے۔

مارکیٹ میں دستیابی کے لیے پانچ سال؟

وائی سی ٹی 529 جب چار ہفتوں کے لیے نر چوہوں کو دیا گیا تو، اس نے نطفوں کی تعداد میں زبردست کمی کی اور ملاپ کے ٹرائل میں حمل کی روک تھام میں 99 فیصد مؤثر تھا۔محققین نے وزن، بھوک اور مجموعی سرگرمی کی نگرانی کی، کوئی ظاہری منفی اثرات نہیں ملے، اگرچہ چوہے یقیناً سر درد یا موڈ میں تبدیلیوں جیسے سائیڈ افیکٹ کی اطلاع نہیں دے سکتے۔

جارج نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور میل کاؤنٹراسیپٹیو انشی ایٹو سے مالی اعانت حاصل کرنے والی یہ ٹیم 2022 کی تیسری یا چوتھی سہ ماہی تک انسانی تجربات شروع کرنے کے لیے ’یور چوائس تھراپیوٹک‘ نامی کمپنی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔اس گولی کو مارکیٹ میں لانے کے لیے پانچ سال یا اس سے کم وقت کا اندازہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں پرامید ہوں کہ یہ بہت تیزی سے آگے بڑھے گی۔‘انہوں نے مزید کہا کہ:’اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ یہ کام کرےگی… لیکن اگر ہم نے انسانوں میں بھی کوئی اثر نہ دیکھا تو مجھے واقعی حیرت ہوگی۔‘

مستقبل میں مردوں کی مانع حمل گولیوں کے بارے میں ایک مستقل سوال یہ رہا ہے کہ کیا خواتین مردوں پر بھروسہ کریں گی کہ انہوں نے گولی استعمال کی ہے۔لیکن سروے سے پتا چلا ہے کہ زیادہ تر خواتین کو درحقیقت اپنے ساتھیوں پر اعتماد ہوگا، اور مردوں کی نمایاں تعداد سے معلوم ہوا ہے کہ وہ اس دوا کے استعمال کے لیے تیار ہیں۔

میل کاؤنٹراسیپٹیو انشی ایٹو ، جو اس دوا کے لیے فنڈ ریزنگ اور وکالت کر رہی ہے کا مؤقف ہے کہ: ’مرد مانع حمل ادویات اختلاط کے طریقہ کار اضافہ کریں گی، نئے آپشنز فراہم کریں گی جس سے مرد اور خواتین کو اجازت مل جائے گی کہ وہ جس طرح چاہیں مانع حمل کو استعمال کریں۔‘