• 425
    Shares

عمر بڑھنے کے ساتھ خواتین کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی آتی ہے مگر کیا اس طرح کی حیاتیاتی گھڑی مردوں میں بھی ہوتی ہے؟

ایک نئی طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ مردوں میں خواتین جیسا اثر تو دیکھنے میں نہیں آتا مگر باپ بننے کی صلاحیت 50 سال کی عمر کے بعد تنزلی کا شکار ہوجاتی ہے چاہے تولیدی ٹیکنالوجی کا ہی سہارا کیوں نہ لیا جائے۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کی گئی۔

سینٹر فار ری پروڈکٹیو اینڈ جینیٹکس ہیلتھ کی تحقیق میں 50 سال سے زائد یا کم عمر مردوں کا جائزہ لینے پر دریافت کیا گیا کہ جب مرد 50 سال سے زیادہ عمر کے ہوجاتے ہیں تو آئی وی ایف یا دیگر ٹیکنالوجیز کا سہارا لینے پر بھی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آجاتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں مردوں اور خواتین میں تاخیر سے اولاد کے حصول کا رجحان عام ہورہا ہے جو مختلف مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق باپ کی عمر بچے کی صحت پر بھی اثرات مرتب کرسکتی ہے اور اس حوالے سے ایک امریکی تحقیق کا حوالہ دیا گیا جس کے مطابق باپ کی عمر 45 سال سے زیادہ ہونے سے ماں میں حمل کے دوران ذیابیطس، قبل از پیدائش اور neonatal seizures کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق میں شامل جوڑے کسی حد تک بانجھ پن کے شکار تھے اور آئی وی ایف یا دیگر ٹیکنالوجیز کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے۔

تحقیق میں 4271 مرد اور 4833 خواتین کو شامل کیا گیا تھا اور دریافت ہوا کہ 50 سال سے زائد عمر کے مردوں کے ہاں بچے کی پیدائش کا امکان 33 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ زیادہ عمر کے مردوں میں ڈی این اے متاثر ہونے کی شرح زیادہ ہوتی ہے اور اس سے آئی وی ایف کا اثر بھی گھٹ جاتا ہے جبکہ اسقاط حمل کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اسی طرح عمر بڑھنے سے اسپرم کی حرکت اور تعداد پر بھی بدترین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ خواتین کی تولیدی صحت کے لیے یہ اثر بہت تیزی سے نمودار ہوتا ہے جبکہ مردوں میں یہ بتدریج آگے بڑھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمر کو کم تو نہیں کیا جاسکتا مگر مرد طرز زندگی کے ذریعے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو منفی اثرات سے بچا سکتے ہیں جس کے لیے ڈاکٹروں سے مشورہ کیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے Acta Obstetricia et Gynecologica Scandinavica میں شائع ہوئے

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔