مدھیہ پردیش کی یہ خبر۰۰۰۰ اتواریہ؍ شکیل رشید

598

خبر ہے کہ مدھیہ پردیش کے بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر ۹۲ مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس بار بی جے پی نے ۳۸۰ مسلمانوں کو ٹکٹ دیے تھے ۔ کانگریس کے جوگڑھ تھے ان میں بی جے پی کے ۲۰۹ مسلم امیدوار دوسرے نمبر پر رہے ، یعنی انہوں نے کانگریس کی ہار میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ اور کم از کم ۲۵ وارڈوں میں بی جے پی کے مسلم امیدواروں نے کانگریس کے ہندو امیدواروں کو شکست دی ۔۔۔

ایم پی بی جے پی کے ترجمان ہتیش باجپائی نے بی جے پی کے مسلم امیدواروں کی کامیابی کو ہندوستان کے ترقی کے سفر میں تمام برادریوں کو شامل کرنے کی کوشش کی کامیابی؍ جیت قرار دیا ہے ۔ یہ خبر پڑھ کر میں بڑی دیر تک یہ نہیں سمجھ پایا کہ اس خبر پر خوش ہوا جائے یا مایوسی کا اظہار کیا جائے ۔ اتنی بڑی تعداد میں بی جے پی کے ٹکٹ پر مسلم امیدواروں کی کامیابی بہتوں کی نظر میں خوشی کی بات ہی ٹھہرے گی ۔

لوگ اسے خوش کن خبر ثابت کرنے کے لیے دلیل دیں گے کہ بی جے پی کے لیے مسلمان اب ’ ناقابلِ قبول‘ نہیں رہے ہیں ، وہ اب مسلمانوں کو بھی ٹکٹ دے رہی ہے اور مسلمان کامیاب بھی ہورہے ہیں ۔ بات بڑی حد تک درست بھی ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کامیابی واقعی مسلمانوں کی کامیابی ہے ؟ کیا واقعی بی جے پی مسلمانوں کے لیے اپنے کواڑ کھول رہی ہے ؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو یہ بات بہت واضح ہے کہ بی جے پی نے مسلمانوں کو اپنی سب سے بڑی سیاسی حریف کانگریس کوشکست دینے کے لیے استعمال کیا ہے ۔

نہ ہینگ لگی نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آگیا ۔۔۔ کانگریس کے سامنے بی جے پی کے مسلمان امیدوار کھڑے ہوئے ، وہ ہارتے تو بی جے پی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں اگر جیت جاتے تو بی جے پی کو کانگریس کو مزید گہرائی میں دفن کرنے کا ایک اور موقع مل جاتا ۔ بی جے پی کے مسلم امیدواروں نے یہی کیا ، وہ جیتے اور کانگریس کے تابوت میں مزید کئی کیلیں ٹھونک دیں ۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اب جہاں جہاں کانگریس مضبوط ہوگی بی جے پی مضبوط مسلم امیدواروں کو اس کی شکست کے لیے استعمال کرنے کا یہ تجربہ دوہرا سکے گی ، بلکہ دوہرائے گی ۔ گویا یہ کہ اب کانگریس کو شکست دینے کے لیے مسلمان ایک مہرا بنائے جائیں گے ۔

رہی بات اس سوال کی کہ کیا اس سے مسلمانوں کا کوئی فائدہ ہوگا، تو ہمارے سامنے ماضیٔ بعید اور ماضیٔ قریب کی کئی مثالیں موجود ہیں جنہیں اگر سامنے رکھا جائے تو خوب اندازہ ہوجائے گا کہ بی جے پی کے مسلم قائدین نے کبھی عام مسلمانوں کا کوئی فائدہ نہیں کیا ہے ۔ سکندربخت سے لے کر مختار عباس نقوی تک کی کارکردگیاں دیکھ لی جائیں حقیقت سامنے آجائے گی ۔

ہاں یہ ضرورکیا گیا کہ مسلم بھاجپائیوں کے ذریعے مسلمانوں کے معاملات بگاڑے گیے، ان کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیااور معاشی تعلیمی اور سماجی سطح پر انہیں جس قدربھی ممکن تھا، پچھڑے سے بھی پچھڑا بنانے کی کوششیں کی گئیں ۔ لہٰذا لگتا نہیں ہے کہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے مسلمان اپنی قوم کا کوئی بھلاکرسکیں گے ۔

ویسے بھی ایم پی ’ہندوتوا کی تجربہ گاہ‘ ہے ، وہاں اس طرح کے تجربات کیے جاتے رہے ہیں اور کیے جاتے رہیں گے اور انہیں سارے ملک میں دوہرایا بھی جائے گا ۔ ۔۔۔ لیکن ان تجربات سے مسلمانوں کو نقصان ہی ہوگا فائدہ نہیں ۔ اس خبر سے ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کہیں مسلمان ڈر کر بی جے پی کی طرف تو نہیں بڑھ رہے ہیں ؟ اس سوال پر پھر کبھی غور کریں گے ۔