مدھیہ پردیش میں ملنے والے ڈائنوسار کے انڈے جن کی ’شِو لِنگ‘ کے طور پر پوجا ہوتی رہی

43

انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع دھر میں زمین پر گھومنے والے عظیم الجثہ جانوروں اور سمندری مخلوقات کے علاوہ کروڑوں سال پہلے اگنے والے پودوں کے فوسل بکھرے پڑے ہیں۔حال ہی میں مدھیہ پردیش کے ایکو ٹورزم بورڈ کی ایما پر ملک بھر سے معروف سائنسدان یہاں پہنچے اور انھوں نے پورے علاقے کی تحقیق کے بعد اپنی رپورٹ تیار کی ہے۔

ایکو ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر سمیتا راجورا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس رپورٹ کو مرتب کر کے یونیسکو کو بھیجا جائے گا تاکہ باگھ اور دھر کے بڑے علاقے کو ’ایکو ہیریٹیج‘ کا درجہ مل سکے اور اس علاقے کے ورثے محفوظ کیا جا سکے، اس کے ساتھ تحقیق کو بھی آگے بڑھایا جا سکے۔

‘سوسائٹی آف ارتھ سائنسز’ کی رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران زمین پر اور نیچے جو کچھ ہو رہا تھا اس کے شواہد ایک بڑے علاقے میں بکھرے ہوئے ہیں، یہ وہی وقت ہے جب مبینہ طور پر ڈائنوسار زمین پر گھوما کرتے تھے۔

ماہرین ارضیات اور ارتھ سائنس سے وابستہ ماہرین کا خیال ہے کہ ڈائنوسار کی مختلف نسلیں مختلف اوقات میں پیدا ہوئیں اور ختم ہوگئیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس علاقے میں نہ صرف ڈائنوسار بلکہ اس سے بھی بڑے ‘ٹائٹانوسارس’ بھی فوسلز کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔

دھر کے علاقے میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ کبھی شدید زلزلے سے زمین تباہ ہوئی تو کبھی آتش فشاں کا پھٹنا اس کی تباہی کی وجہ بنا۔ پھر سمندر کا پانی جب زمین پر آیا تو ایک بار پھر تباہی ہوئی اور انواع و اقسام کے جاندار کی نسلیں معدوم ہو گئیں۔

دہلی یونیورسٹی کے شعبہ پیلیونٹولوجی یا قدیم حیات کے پروفیسر گنٹوپلی وی پرساد نے بی بی سی کو بتایا: ’دکن کے سطح مرتفع کا سلسلہ شدید آتش فشاں کے پھٹنے سے نکلنے والے لاوے کی وجہ سے بنا ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ کبھی زلزلے، کبھی آتش فشاں اور کبھی سمندر کے پانی نے زمین پر زندگی کا خاتمہ کیا، جس کا ثبوت کناروں کی چٹانوں اور زمین کی پرت میں موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تباہی در تباہی کے باوجود زمین پر زندگی کا آغاز ہوتا رہا۔‘

پرساد کا کہنا ہے کہ دھر کے علاوہ اس کے شواہد وادی نرمدا کے کنارے پر موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی نرمدا کے ایک ہزار کلومیٹر کے دائرے میں ڈائنوسار سمیت کئی معدوم ہونے والی مخلوقات کے فوسلز پھیلے ہوئے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے ساتھ بھی کبھی سمندر تھا
اب تک پوری دنیا میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈائنوسار کی تمام اقسام کی زندگی کا دورانیہ دو سے تین لاکھ سال ہے۔ اس دور میں دوسری مخلوقات بھی ہوئیں۔ مدھیہ پردیش کے اس علاقے میں ڈائنوسار کے ساتھ ساتھ دوسرے جانداروں کے فوسل بھی بکھرے پڑے ہیں۔ کئی سمندری مخلوقات کے فوسلز کی دریافت سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ یہ علاقہ کبھی گہرے سمندر کا حصہ تھا۔


دھر ضلعے میں زمینی سطح پر 300 انڈوں کے فوسل اور ڈائنوسار کی مختلف اقسام کے 30 گھونسلے ملے ہیں۔ اب تک سائنسدانوں نے کبھی بھی اس علاقے میں کھدائی کا کام منصوبہ بند طریقے سے نہیں کیا ہے۔

دھر میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ابھی تک صرف زمین کی سطح جو فوسل ملے ہیں وہ کروڑوں سال کی معلومات دے رہے ہیں۔ اگر منظم طریقے سے تحقیق کی جائے تو زمین کے بارے میں اور بھی بہت سے راز کھل سکتے ہیں۔دھر میں صورتحال کچھ یوں ہے کہ یہ فوسلز اپنے ہی کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں یا چرواہوں کو ملتے رہے ہیں۔

آخر گول پتھر کیا ہیں؟
مہتاب منڈلوئی دھار کے باگ کے علاقے میں رہتے ہیں جہاں زیادہ تر فوسلز زمین پر بکھرے پڑے ہیں۔ ہم اس کے گاؤں پہنچے اور انھوں نے گفتگو کے دوران جو کچھ بتایا وہ کافی دلچسپ تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گاؤں والے اپنے جانوروں کو لے کر جنگل میں چرانے جاتے ہیں۔ اگر میں اپنے بارے میں بات کروں تو میں نے سب سے پہلے ڈائنوسار کے انڈے تلاش کیے تھے۔ میں نے یہ وشال سر کو دیے، جو اس علاقے پر تحقیق کر رہے ہیں۔ انھوں نے مجھے اور دوسرے لوگوں سے کہا کہ اگر ایسے انڈے یا دانت ملیں تو انھیں بتائيں، میں سوچتا تھا، مجھے تو کچھ علم نہیں، شروع میں اتنا بڑا انڈا پتھر میں پیوست ملا۔ پھر میں نے مزید تلاش شروع کی۔ مجھے ایک دانت بھی ملا جو میں نے وشال سر کو دے دیا تو انھوں نے کہا کہ یہ ایک آبی جانور کے دانت کا فوسل ہے، شارک کے دانت کا فوسل ہے۔ اس کے بعد مجھے ایک دانت ملا جو ڈائنوسار کا تھا۔‘

دھر کے مختلف علاقوں میں واقع دیہات کے لوگوں کو ہمیشہ سے گول بڑے پتھر ملتے رہے ہیں۔ لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا ہیں اور کتنے اہم ہیں۔

باگ میں ہم نکتہ بائی سے ملے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’بچے ہمیشہ بڑے گول پتھر اٹھا کر ان سے کھیلتے تھے۔ اور یہ عام بات تھی۔‘

پھر یہ ہوا کہ اس علاقے میں رہنے والوں نے ان گول پتھروں کو پوجنا بھی شروع کر دیا۔ لیکن یہ بات سمگلروں تک بھی پہنچ گئی اور جب تک محقق انھیں محفوظ کرتے، اس علاقے کے بہت سے فوسلز سمگلروں کے ہاتھ لگ چکے تھے۔

ویستا منڈولائی کی ایک دکان ہے اور اب وہ اس علاقے میں ان فوسلز کے تحفظ کا کام بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باہر سے بہت سے لوگ اس علاقے میں آنے لگے اور گاؤں والوں کو بڑے گول سائز کے پتھر فروخت کرنے پر آمادہ کرنے لگے جو دراصل ڈائنوسار کے انڈے تھے۔

اپنا تجربہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’کچھ عرصے بعد مختلف جگہوں سے لوگ آنے لگے اور کہنے لگے کہ اگر ایسا پتھر انھیں ملے تو وہ اسے ان کے ہاتھوں فروخت کریں۔ لیکن ہمیں ڈر لگنے لگا کہ وہ انھیں اپنے ساتھ لے جائیں گے اور ہم کسی پریشانی میں نہ پڑ جائیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، آنے والے نے کہا کہ یہ ٹکڑا مجھے دے دو، انڈا مجھے دے دو، ہم پیسے دیں گے۔‘

گل دگڑا یعنی شِولِنگ؟
دھر ضلعے کے دیہی علاقوں میں ڈائنوسار کے انڈوں کی پوجا کی روایت اب بھی جاری ہے۔ بہت سے لوگ اسے شِولِنگ مانتے ہیں۔

ویستا منڈولائی کہتے ہیں: ’ہمارے باپ دادا صدیوں سے اس کی پوجا کرتے آئے ہیں۔ ہم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے لیکن اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ گاؤں والے اسے ’گل دگڑا‘ کہتے ہیں، لیکن یہ صرف ڈائنوسار کا انڈا تھا اس لیے اسے شِولِنگ بنا کر کھیتوں کی مینڈھ پر رکھ دیتے ہیں۔ اس کے بعد پوجا کرتے ہیں۔ اس کے بعد جب مکئی کی فصل آتی ہے تو مکئی کھاتے ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد کا یہی طور تھا۔‘

سمیتا راجورا کہتی ہیں کہ جو کچھ بچ گیا ہے اس کا سہرا صرف ایک شخص کو جاتا ہے اور وہ مقامی محقق وکرم ورما ہیں۔ ان کی کوششوں سے گاؤں والوں کو معلوم ہوا کہ یہ ‘گل دگڑا’ پتھر نہیں بلکہ انمول ڈائنوسار کے انڈوں کے فوسلز ہیں۔ اور سطح پر بکھرے ہوئے بڑے پتھر یا چٹانیں ڈائنوسار کے گھونسلے ہیں۔ڈائنوسار کے گھونسلوں کے فوسل بھی باگ اور اس کے آس پاس کے کئی کلومیٹر کے علاقے میں چاروں طرف بکھرے پڑے ہیں۔ مختلف گھونسلوں میں ان انڈوں کی مختلف تعداد ہوتی ہے اور یہ مختلف انواع کے گھونسلے کے فوسلز ہیں۔ جب سائنسدانوں نے ان کی شناخت کی تو اب ایکو ٹورزم ڈیپارٹمنٹ نے ان سب پر نمبر لکھ کر ان کی فہرست بنا دی ہے تاکہ انھیں سمگل نہ کیا جا سکے

سیاحوں کو راغب کرنے کی کوشش
ایکو ٹورزم بورڈ کی جانب سے باگ میں ’ڈائنوسار فوسل پارک‘ بنایا گیا ہے، جس میں کئی قسم کے فوسلز رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 50 کلومیٹر دور مانڈو میں ڈائنوسار میوزیم بھی بنایا گیا ہے جہاں سیاح آنے لگے ہیں۔

ایکو ٹورزم بورڈ کی چیف ایگزیکٹیو افسر سمیتا راجورا کہتی ہیں کہ اب مقامی لوگوں کو یہ معلوم ہو گیا ہے کہ ان کی زمین اور جنگلات کی سطح پر بکھرا خزانہ کتنا قیمتی ہے اور زمین کی تاریخ کی تحقیق کے لیے یہ کس قدر اہم ہے۔ایکو ٹورزم بورڈ نے ملک بھر سے ماہرین ارضیات اور ماہرین حیاتیات کو دھر میں مدعو کیا ہے۔

یہاں پائے جانے والے سب سے بڑے گھونسلے میں 12 سے زائد انڈے ہیں جن کا ذکر سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں بھی کیا ہے۔
پھر ہم دھر کے ان پتھروں کو دیکھنے گئے جن میں زمین کے بہت سے راز موجود تھے۔ چٹانوں کی قسم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسٹر ورما کہتے ہیں کہ یہ اس وقت کے ہیں جب پوری زمین سے ڈائنوسار معدوم ہو رہے تھے۔

وہ کہتے ہیں: ’یہ چٹانیں ڈائناسار کی ‘آخری واک’ یا آخری بار چہل قدمی کی وضاحت کرتی ہیں۔‘۔پھر اوپر کی چٹانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ یہ سب اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جب دکن کے آتش فشاں پھٹ رہے تھے اور ہر چیز لاوے کے نیچے دب کر جل کر تباہ ہو رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈائنوسار اس عمل میں معدوم ہو گئے، اس لیے زمین پر ڈائنوسار کی آخری حرکت سے جڑی چٹانوں کا یہ سلسلہ تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سال پرانا ہے۔ اور اس میں ڈائنوسار کی باقیات رہ گئی ہیں۔ ان میں سے کچھ باقیات انڈوں کی شکل میں ملتی ہیں۔ کہیں گھونسلے اور کہیں ہڈیاں۔ ضلع دھر میں پائے جانے والے پتھروں کی پرت در پرت تہیں زمین کے وجود اور اس کی کئی بار تباہی کی گواہی دیتے ہیں۔‘

ہم نے صرف باگ کا ہی نہیں بلکہ ماہرین کے ساتھ ضلع دھر کے کئی علاقوں کا دورہ کیا، جہاں دنیا کی تخلیق اور تباہی کے شواہد موجود ہیں۔ ان کو محفوظ کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ بیسالٹ پتھر کنکروں میں تبدیل ہو رہے ہیں اور چونا پتھر سیمنٹ بن رہے ہیں۔قریب ہی موجود سیمنٹ فیکٹریوں نے نہ صرف ایکو ٹورزم بورڈ اور مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات بلکہ ماہرین کی بھی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ انھیں ڈر ہے کہ کہیں یہ سب کچھ تباہ نہ ہو جائے۔

مصنف,سلمان راوی نامہ نگار بی بی سی