مدھیہ پردیش میں مسجد کی توڑ پھوڑٗ مسلمانوں کو کاٹ دینے کے نعرے لگائے گئے

3,284

بھوپال:31۔اگست(ایجنسیز) دیواس ضلع کے ادے نگر میں اس وقت ہنگامہ مچ گیا جب ایک دلت لڑکی ایک مسلم نوجوان کے ساتھ گھر سے فرار ہو گئی۔ گھر والوں نے اغوا کا الزام لگاتے ہوئے ہنگامہ کیا۔ نوجوانوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے شہر کو بند رکھا گیا۔

تھانے کا گھیراؤ کرکے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ گاؤں میں جلوس بھی نکالا گیا۔ ملزم اور اس کے دو رشتہ داروں کے گھر پر پتھراؤ کیا گیا۔ ہجوم نے ایک مسجدمیں بھی توڑ پھوڑ کی۔ اس کے ساتھ ملزم کے خاندان کی دو بائک اور ایک کار کو بھی نقصان پہنچا۔ پولیس نے پہنچ کر صورتحال کو سنبھالا۔27/ اگست کوریالی کے دوران مقامی عوام نے فرقہ وارانہ نعرے لگائے اورمقامی جامع مسجد میں توڑپھوڑکی۔ اس گروپ کوایک ویڈیومیں یہ نعرے لگاتے ہوئے دیکھاجاسکتاہے کہ”مسلمانوں کوکاٹ دیاجائے گا“۔ہجوم نے مساجد کونقصان پہنچانے کی بھی اپیل کی۔

لڑکی کے بھائی نے پولیس رپورٹ درج کراتے ہوئے کہا کہ ہم چار بھائی بہن ہیں۔ ایک بہن اور بھائی اسکول گئے۔ والد اندور گئے ہوئے تھے۔ میں اور مغوی بہن جمعہ کی دوپہر 2 بجے اپنے کھیت میں کھاد ڈال رہے تھے۔ اسی دوران فرزان (20سال) وہاں آیا اورفریادی کی بہن( عمر19) کو آواز دے کر بلایا۔ اس کے بعد وہ بہن کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے گیا۔

ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے صبح سے ہی ادے نگر میں بند رکھا گیا تھا۔ پولیس نے ملزمان کو 24 گھنٹے میں گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد حالات معمول پر آگئے۔ باگلی کے ایس ڈی ایم ایس۔ سولنکی نے بھی موقع پر پہنچ کر صورتحال کو سنبھالا۔ شہر میں فلیگ مارچ کیا گیا۔ ایس ڈی ایم سولنکی نے متاثرہ خاندان سے بات کی۔

فی الحال ادے نگر میں حالات قابو میں ہیں، احتیاطی اقدام کے طور پر شہر میں پولس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ معاملہ جمعہ کا ہے۔ پولیس نے ملزم نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تخریب کاری کیس میں دو افراد کو ملزم بنانے کا معاملہ بھی سامنے آرہا ہے۔ تاہم پولیس نے ابھی تک اس معاملے پر کھل کر بات نہیں کی ہے۔