مدھیہ پردیش: مسجد کی زمین تنازعہ کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد،بی جے پی لیڈر کی جم کر پٹائی، کئی زخمی

ریوا:26۔ مئی(ایجنسیز) مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع میں متنازعہ زمین کو لے کر فرقہ وارانہ تصادم کی خبریں سامنے آ رہی ہیں جس میں کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس نے جمعرات کو بتایا کہ دو طبقات کے لوگ ایک سرکاری زمین پر دعویٰ کرتے ہوئے آپس میں متصادم ہو گئے۔ دونوں فریقین میں بحث شروع ہو گئی جس نے جلد ہی فرقہ وارانہ تصادم کی شکل اختیار کر لی۔

واقعہ ضلع ہیڈکوارٹر ریوا سے تقریباً 30 کلومیٹر دور منگواں علاقے میں بدھ کو پیش آیا۔ پولیس کے مطابق علاقے کے ایک سابق بی جے پی کونسلر لوکش گپتا متنازعہ زمین پر تعمیری کام شروع کرنے والے تھے۔ اس کی خبر ملنے کے بعد مسلمانوں کے ایک گروپ نے اس پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ زمین مسجد کی ہے۔ دونوں فریقین میں بحث کے دوران دونوں طبقات کے کئی لوگ وہاں جمع ہو گئے اور آپس میں مار پیٹ کرنے لگے۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا۔ ایک مقامی پولیس افسر نے بتایا کہ علاقے میں امن یقینی بنانے کے لیے سخت سیکورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ دونوں طبقات نے ایک دوسرے پر لاٹھی سے حملہ اور پتھراؤ کیا۔ فرقہ وارانہ تصادم کے دوران زخمی ہوئے لوگوں کو علاج کے لیے سنجے گاندھی میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

منگواں تھانے میں تعینات ایک پولیس افسر نے کہا کہ دونوں طبقات کے لوگوں نے ایک دوسرے کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے کثیر تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ منگواں تھانہ انچارج انسپکٹر ڈی کے دہیا نے کہا کہ زمین ریاستی حکومت کی ہے جہاں گزشتہ کئی سالوں سے ایک مندر اور ایک مسجد ہے۔بعد میں ریوا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ایس نونیت بھسین موقع پر پہنچے اور دونوں طبقات کے لوگوں سے بات چیت کی۔ بھسین نے کہا کہ اس معاملے میں 11 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ہم نے ریونیو افسران سے زمین کے بارے میں تحقیق کرنے کی گزارش کی ہے۔ معاملے میں جانچ کے بعد کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال حالات قابو میں ہیں۔

https://dainik-b.in/3SjeBaBHkqb