مدارس کے سروے کا فیصلہ باعث تشویش، دارالعلوم دیوبند کی جانب سے اہم کانفرنس 24 ستمبر کو

541

دیوبند: اتر پردیش کی یوگی حکومت کے ذریعہ مدارس اسلامیہ کا سروے کیے جانے کے فیصلہ پر پہلی مرتبہ اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ اترپردیش میں مدارس کا سروے کرائے جانے کا مسئلہ باعث تشویش ہے اور اس فیصلہ کا جائزہ لینے اور آئندہ کا لائحہ عمل بنانے کے لئے دارالعلوم دیوبند نے ذمہ داران مدارس کی اہم میٹنگ کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ ا

نہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز منعقد مجلس تعلیمی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ اترپردیش کے نمائندہ مدارس اسلامیہ کا طلب کیا جائے اور اس میں مدارس کا سروے کرائے جانے کے حکومت اتر پردیش کے اعلان کے تمام پہلوؤں پر غور و خوض کرنے کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائے۔مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ اس نمائندہ اجلاس کے لئے 24 ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق اس نمائندہ اجلاس میں اتر پردیش کے سینکڑوں مدارس کے ذمہ داران کی شرکت متوقع ہے۔ اس وقت تک حکومت کے اس فیصلہ کی تصویر بھی واضح ہو جائے گی۔ مدارس اسلامیہ کے اس نمائندہ اجلاس میں اتفاق رائے سے جو فیصلہ لیا جائے گا، دارالعلوم دیوبند کا موقف بھی وہی ہوگا۔

مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس سلسلہ میں کوئی نہ کوئی مثبت فیصلہ لیا جائے گا۔واضح ہو کہ حکومت اتر پردیش نے گزشتہ دنوں غیر منظور شدہ اور خود مختار مدارس اسلامیہ کا سروے کرانے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس کے بعد سے تمام ارباب مدارس اور ملت اسلامیہ کے ذمہ داران میں فکر و تشویش کی لہر ہے۔ اسی کے پیش نظر دارالعلوم دیوبند نے مدارس کے ذمہ داران کی اس کانفرنس کو منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ دارالعلوم دیوبند نے اس مسئلہ پر ابھی تک اپنے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ اب دارالعلوم دیوبند کی جانب سے اس نہایت اہم کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس پر پر ارباب مدارس اور ملت اسلامیہ کی نظر ہوگی اور انہیں اس اہم کانفرنس کے بعد نیا رخ ملے گا۔ دوسری طرف جمعیة علماء ہند کی جانب سے 6 ستمبر کو دہلی میں ایک اہم اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں یوپی کے مدارس کے سروے سے متعلق تبادلہ خیال ہوگا۔