نواب علی اختر

اترپردیش کی بی جے پی حکومت نے حال ہی میں نام نہاد ’لوجہاد‘ کو ذہن میں رکھ کر قانون سازی کی ہے جس میں بین مذاہب شادیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں اس قانون کی آڑ میں مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور مسلم نوجوانوں کے ساتھ پولیس بربریت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اقلیتی طبقے کے خلاف انتظامیہ کی ذہن سازی کی جاری ہے اور آج عالم یہ ہے کہ پولیس اقلیتی طبقے کے خلاف غیر آئینی امور انجام دے رہی ہے جس کے شواہد موجود ہیں۔ اتر پردیش کے علاوہ بی جے پی زیر حکمرانی دیگر کئی ریاستوں میں بھی ’لوجہاد‘ کے خلاف قانون سازی عمل میں آئی ہے جس کا واحد مقصد اقلیتوں کو ہراساں کرنا ہے۔ ورنہ ’لوجہاد‘ کی زمینی حقیقت سے سرکاری ایجنسیاں انکار کر چکی ہیں اس کے باوجود اس قانون کا عمل میں لانا اس بات کی دلیل ہے کہ سرکار ملک کی حفاظتی ایجنسیوں کی رپوٹ کو قابل اعتبار نہیں سمجھتی۔ اس قانون سازی کا ہدف بھی اکثریتی طبقے کے بڑے حلقے کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ملک کا بڑا حلقہ یہ سمجھتا ہے کہ مسلمان ’لو جہاد‘ کو فروغ دے رہے ہیں اور ہندو لڑکیوں کو عشق کے جال میں پھنسا کر شادیاں کرتے ہیں اور پھر ان کا مذہب تبدیل کروا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہندوستان میں بین مذاہب شادیوں کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ سیکڑوں سال سے ایسا ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی ضروری نہیں کہ یہ سلسلہ ختم ہو۔ ہندو مسلمان لڑکیوں سے شادی کرتے رہے ہیں اور مسلمان ہندو لڑکیوں سے مگر کبھی ’لو جہاد‘ کی بات سامنے نہیں آئی بلکہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے پہلے کوئی اس اصطلاح سے واقف بھی نہیں تھا۔ آج اس فرضی اصطلاح کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے جو ملک کے عوام کے ساتھ فریب اور جعل سازی ہے۔ جمہوری نظام میں انسان اپنی پسند کی شادی، کھانے، پہننے کے لیے آزاد ہے مگر ہمارا جمہوری نظام یرقانی تنظیموں کے نفرت آمیز آئین کی زد پر ہے جس میں اقلیتی طبقے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ نظام برہمن واد کو فروغ دے رہا ہے اور اکثریتی طبقے کو گمراہ کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔

نفرت کا یہ کھیل اتنا فروغ پا رہا ہے کہ اب بی جے پی حکومت نے مدارس کے وجود کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آسام میں سرکاری مدارس زد پر ہیں اور انہیں تمام تر مراعات سے محروم کرنے کی تیاری ہے۔ ہمارا مؤقف تو یہ ہے کہ مدارس کو حکومت سے کوئی کمک ہی نہیں لینی چاہیے۔ اس کے لیے قوم میں بڑے بڑے مخیر حضرات موجود ہیں۔ دیکھا جائے تو جب سے ہمارے مدارس کے نظام میں حکومت دخیل ہوئی ہے، مدارس روبہ زوال ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ مدارس کی اصلی حیثیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مدارس کے موروثی ذمہ داران نے مدارس کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے حکومت کے حوالے کر دیا تاکہ ان کے اہل خاندان اور رشتہ داروں کو سرکاریاں نوکریاں مل سکیں، مگر انہوں نے کبھی یہ فکر نہیں کی کہ مدارس جو ملت کا سرمایہ ہیں، ان کا وجود خطرے میں پڑجائے گا۔ آج عالم یہ ہے کہ مدارس کا نظام درہم و برہم ہے اور سرکار ان کے وجود کو ختم کرنے کے لیے قانون پہ قانون بنا رہی ہے۔

یوگی حکومت بھی ایک آرڈیننس لانے کی تیاری میں ہے جس کے مطابق مذہبی و ذاتی زمینوں پر جو مذہبی عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں ان پر کنڑول کیا جاسکے۔ اس آرڈیننس کا اطلاق تمام مذہبی عمارتوں پر ہوگا جس میں مساجد، مدارس، امام بارگاہیں، درگاہیں اور خانقاہیں شامل ہیں۔ اس آرڈیننس کی آڑ میں مذہبی عمارتوں کے معاملات میں کس حد تک مداخلت کی جاسکتی ہے، اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، مگر ہماری مذہبی قیادت کی بے حسی اور مسلم لیڈروں کی بے ضمیری کا عالم یہ ہے کہ وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ وہ شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن ڈال کر خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں، جبکہ شکاری ان کے سروں پر مسلط ہے اور کبھی بھی ان کی گردن قلم ہوسکتی ہے۔ نفرت کی اس سیاست کا دائرہ بہت وسیع ہے جو اب خوردنی اشیاء کو بھی اپنے دائرے میں سمیٹ رہا ہے۔ گائے کے تحفظ کے نام پر کس قدر اقلیتی طبقے کو ہراساں کیا گیا اور ان کے جوانوں کو کس طرح بے دریغ قتل کیا گیا یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

اب مسلمانوں کے اقتصادی نظام کو بھی نقصان پہنچانے کی تیاری ہے۔ سال 2018 میں ملک کی راجدھانی کے مشرقی دہلی کی میونسپل کارپوریشن نے فیصلہ لیا تھا کہ تمام گوشت فروخت کرنے والی دوکانیں اور ریسٹورنٹ نمایاں طور پر گراہکوں کو یہ بتائیں کہ وہ کس قسم کا گوشت فروخت کر رہے ہیں۔ حال ہی میں جنوبی دہلی کی میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے بھی یہ تجویز پاس کردی جس کے مطابق ہر گوشت فروش کو نمایاں تحریر کے ذریعہ گراہکوں کو یہ بتانا ہوگا کہ گوشت حلال ہے یا جھٹکا۔ ان کے مطابق ہندو اور سکھ ’جھٹکا‘ کھاتے ہیں، ذبیحہ کا گوشت نہیں کھاتے لہذا گوشت فروشوں کو گراہکوں کے لیے اطلاعیہ تحریر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تجویز کے نقصانات اور اہداف بعد میں سامنے آٔییں گے لیکن کم از کم یہ حقیقت تو معلوم ہوگئی کہ ہندوﺅں کا بڑا طبقہ گوشت خور ہے۔ اب سرکاری تنظیموں کو یہ بھی بتا دینا چاہیے کہ ملک میں کتنے فیصد غیر مسلم آبادی بڑے کا گوشت کھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ انسان کی پسند و نا پسند پر منحصر ہے جس میں حکومت کی بیجا مداخلت آئین کے خلاف ہے۔

بہر کیف! ہندوستان کی سیاست نفرت اور تقسیم پر منحصر ہوگئی ہے۔ کھلے عام اجتماعی اور انفرادی زندگی میں مداخلت کی جا رہی ہے۔ آزادی اظہار پر قدغن لگایا جا رہا ہے اور مذہبی عبادت گاہوں اور عمارتوں کو بھی حکومت اپنے کنٹرول میں لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کہیں سے حکومت کے خلاف آواز اٹھتی ہے تو اس پر ’دیش دروہ‘ کا الزام عائد کرکے دبا دیا جاتا ہے۔ کیا یہی جمہوری نظام ہے جس پر ہمیں فخر ہے؟ ہرگز نہیں! تو پھر حکومت یہ اعلان کیوں نہیں کرتی کہ ملک میں جمہوری نظام ختم کر کے بی جے پی اور آر ایس ایس کے آئین کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کئی بار اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں مگر اب انہیں کھل کر اس حقیقت کا اظہار کر دینا چاہیے تاکہ شک و تردد ختم ہو جائے۔ کیونکہ اس گروہ کو ملک کی معیشت، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے، اسے تو بس سیکولر عوام پر اپنے منافرانہ نظریات تھوپنے کی فکر ہے خواہ عالمی سطح پر ملک کو کسی بھی نام سے پکارا جائے۔

 ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے حکومت کی ہر حکمت عملی نفرت آمیز سیاست کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ اکثریتی طبقے کے دل و دماغ میں اس قدر نفرت کا زہر بھر دیا گیا ہے کہ اب حکومت کو اپنی ہر پالیسی میں اس زہر کا ہلکا سا ڈوز ضرور شامل کرنا پڑ رہا ہے یا یوں کہا جائے کہ اب نفرت آمیز سیاست حکومت کی مجبوری بن گئی ہے۔ گزشتہ 50 سالوں میں نفرت کا جو بیج بویا گیا تھا اب اس کی فصل کاٹی جا رہی ہے۔ اس فصل کی کٹائی سے اقلیتی طبقے کو کتنا خسارہ ہوا ہے اس کا اندازہ تو مقرر کیا جاسکتا ہے مگر ملک کی سالمیت اور جمہوریت کو کتنا نقصان پہنچا، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔