مدارس کا سروے اگر ضروری ہے تو دوسرے تعلیمی اداروں کا سروے ضروری کیوں نہیں؟مولانا ارشدمدنی

270

نئی دہلی: جمعیۃعلماء ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین مولانا ارشدمدنی نے صاف لفظوں میں کہاکہ ہمارا اعتراض موجودہ حالات میں فرقہ پرست ذہنیت کے سلسلے میں ہے، مدارس کا سروے کرانے کے حکم پرنہیں ہے۔انہوں نے یہ بات آج یہاں نیوز ایجنسیوں اورمیڈیاکے نمائندوں کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے کہی انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھرمیں پچھلے کچھ برسوں کے دوران فرقہ پرست طاقتوں نے جس طرح نفرت کاماحول قائم کردیاہے اوراس سلسلہ میں حکومت کاجو کرداررہاہے اس کے پیش نظر مسلمان یہ یقین کرنے پر مجبورہوگیاہے کہ اس وقت ہرپالیسی اس کے وجودکو تباہ وبرباد کردینے کے لئے سامنے آرہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ دینی مدارس فرقہ پرستوں کی آنکھ کے کانٹے ہیں اس لئے ہمیں ان کی نیتوں کو سمجھناہوگا، مدارس کے نظام کو درست کرنے کی بات اپنی جگہ لیکن ہمیں ان کے لئے کمربستہ ہونا ہوگا کیونکہ کہ یہ مدارس قوم کی شہہ رگ ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ہمارے دینی اداروں کو دستورمیں دیئے گئے حق کی بنیادپر

چلنے دیا جائے لیکن فرقہ پرست انہیں ختم کرنے کی ناپاک سازش میں مبتلاہیں، مگر ہم ان شاء اللہ انہیں ایساہرگز نہیں کرنے دیں گے، مدارس اسلامیہ کاوجود ملک کی مخالفت کے لئے نہیں اس کی تعمیروترقی کے لئے ہے، مدارس کا ڈیڑھ سوسالاکرداراس کا گواہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں مولانا مدنی نے کہاکہ دوسری طرف ریاست آسام میں مدرسوں کو یہ کہہ کرڈھایاجارہاہے کہ یہ دہشت گردی کے مراکز ہیں اور بدامنی پھیلانے والی القاعدہ کے دفاتربنے ہوئے ہیں، یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہ سے اترپردیش میں جب تمام غیرمنظورشدہ مدارس کا سروے کرانے کا سرکلرجاری ہواہے تو مسلمانوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے خدشات اٹھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس طرح کا سرکلر جاری کرنے سے پہلے مسلمانوں کو اعتمادمیں لیاجاناچاہئے تھا، انہیں مطمئن کیاجانا چاہئے تھا، سرکارکی نیت پر شک کو کچھ اس لئے بھی تقویت مل رہی ہے کہ اترپردیش میں بڑی تعدادمیں غیر منظورشدہ دوسرے تعلیمی ادارے بھی چل رہے ہیں۔چنانچہ اگر غیر منظورشدہ مدارس کا سروے ضروری ہے تو دوسرے غیر منظورشدہ تعلیمی اداروں کا سروے ضروری کیوں نہیں؟ سرکارکی نیت اگردرست ہے تویہ امتیازکیوں؟ مدارس کہاں ہیں، کس زمین پر قائم ہیں اورانہیں چلانے والے کون ہیں اگر سروے کا مقصدیہی ہے تو ہم نہیں سمجھتے کہ اس میں کوئی غلط بات ہے، مسلمان تعاون کرنے کو تیارہیں، یوں بھی مدارس کے دروازے

تو ہمیشہ سے سب کے لئے کھلے ہیں، ان کے اندرچھپانے جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ سب کچھ آئینہ کی طرح صاف ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آسام کے وزیراعلیٰ بے بنیادالزام تراشی کرکے مدارس کے انہدام کو درست ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں، سوال یہ ہے کہ جو الزام وہ لگارہے ہیں، اس کا ان کے پاس ثبوت کیا ہے، میرادعویٰ ہے کہ وہ قیامت تک کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکتے، زبان سے آدمی توکچھ بھی کہہ دے۔

مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ آسام کے وزیراعلیٰ کانگریس کے دورمیں بھی وزیررہے ہیں، بی جے پی اقتدارمیں آئی تواس وقت بھی وزیرہوئے، مگراب جبکہ وہ خودوزیراعلیٰ بن چکے ہیں آسام کے مدارس انہیں القاعدہ کے دفترنظرآنے لگے، سوال یہ ہے کہ جب وہ وزیرتھے تب انہیں کہیں القاعدہ کیوں نظرنہیں آیا؟ایک اورسوال کے جواب میں مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ مدرسوں میں خالص مذہبی تعلیم دی جاتی ہے، اوراس کا اختیارہمیں ملک کے آئین نے دیاہے، آئین میں ہمیں اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اورانہیں چلانے کا مکمل حق بھی دیا ہے۔ مدارس میں قرآن وحدیث کی تعلیم میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔