• 425
    Shares

نئی دہلی، 13اکتوبر (یوا ین آئی) بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیرمین اور آل انڈیا اقلیتی تعلیمی بورڈ کے سربراہ عبدالقیوم انصاری کی آسام میں سرکاری مدارس کو بند کئے جانے کے خلاف قومی اقلیتی کمیشن (این سی ایم)کو توجہ دلانے پر این سی ایم نے آسام حکومت کو اس ضمن میں نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہےاقلیتی کمیشن نے چیف سکریٹری حکومت آسام کے نام جاری نوٹس میں کہا ہے کہ آل انڈیا اقلیتی تعلیمی بورڈ کی طرف سے آسام حکومت کے سرکاری مدارس کو بند کئے جانے کے سلسلے میں میمورنڈم موصول ہوا ہے۔ اس ضمن میں این سی ایم نے حکومت آسام سے درخواست کی ہے کہ اس کی صحیح صورت حال اور اسٹیٹس رپورٹ سے قومی اقلیتی کمیشن کو واقف کرایا جائے۔ این سی ایم نے این سی ایم ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات کے تحت یہ نوٹس جاری کیا ہے۔

 

مسٹر انصاری نے گزشتہ دنوں قومی اقلیتی کمیشن کے چیرمین سے ملاقات کرکے اس جانب توجہ مبذول کرائی تھی اور کہا تھا کہ یہ اقلیتوں کی تعلیم کرنے کے حق کے خلاف ہے۔ساتھ ہی کہا تھا کہ اس ضمن میں انہوں نے حکومت آسام کے فیصلے کے خلاف گوہاٹی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔واضح رہے کہ حکومت آسام نے تمام سرکاری مدارس کو بند کرنے کا حکم جاری کردیا تھا اوربہت سے بند بھی کئے گئے تھے۔جس کے خلاف بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیرمین عبدالقیوم انصاری نے گوہاٹی ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے۔ ساتھ ہی کئی فریقوں نے حکومت آسام کے فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

 

دریں اثناء گوہائی ہائی کورٹ نے وہاں کے متعدد فریق کی رٹ پٹیشن پر حکومت آسام کے فیصلے پر مارچ 2022تک کے لئے روک لگادی ہے۔متعدد فریقوں نے 12فروری 2021 کے حکومت آسام کے جاری کردہ نوٹیفیکشن کو گوہاٹی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھاجس میں راحت کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت نے تمام فریق کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد اس پر 31مارچ 2021تک کے لئے اسٹے جاری کردیا۔ عدالت نے راحت دیتے ہوئے کہاکہ آسام کے سرکاری مدارس میں مالی سال 2021\\\\22تک اپنی تعلیم مکمل کرسکتے ہیں۔ مالی سال یعنی 2021-22کے امتحان اور اس کے نتائج آنے تک یہ راحت جاری رہے گی۔امتحان کے نتائج آنے کے بعد مدرسہ بورڈ تحلیل ہوجائے گا۔اس معاملے کی اگلی سماعت 17نومبر کو ہوگی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔