• 425
    Shares

غزہ۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی حکام کو سنہ 1967 کی جنگ میں قبضہ میں لیے گئے فلسطینی علاقوں بہ شمول مشرقی بیت المقدس سے نکلنے کے لیے ایک سال کی ڈیڈلائن مقرر کی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں سیشن سے پہلے ورچوئل خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک اس سال کے دوران سرحدوں کی حد بندی اور تمام حتمی حیثیت کے مسائل کو بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی خاطر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے لیے اسرائیل کو ایک سال کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ واپسی کے لیے اقدامات کرے۔فلسطینی صدر نے مزید کہا اگر اسرائیل ہمارے مطالبے پر 1967 کی حدود میں واپس نہیں جاتا تو ہم ان علاقوں میں اسرائیل کا تسلط کیوں کر تسلیم کریں؟ عباس نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ فلسطینی قوم کے لیے بین الاقوامی برادری کی طرف سے ضمانت دی گئی ریاست، آزاد اور بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے اقدامات کرے۔ جب عالمی برادری یہ تسلیم کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فلسطینیوں کو تحفظ، آزادی اور امن کی فراہمی لازمی ہے تو اب وقت آگیا ہے کہ فلسطینی قوم کو اس کے ضمانت شدہ حقوق دلائے جائیں۔ فلسطینی صدر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرائیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں