"محمد زبیر کا حق” از: شکیل رشید ( ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

119

گرفتاری کے بعد ، آلٹ نیوز کے شریک بانی ، محمد زبیر کے خلاف ایف آئی آر پر ایف آئی آر درج کیے جانے کو ، ’ انتقام کی سیاست ‘ کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتا ہے ! ’ انتقام ‘ ہندوتوادیوں کے سامنے نہ جھکنے کا ، اور مودی دور میں پھیلائے جا رہے ’ جھوٹ ‘ اور ’ فیک نیوز ‘ کی چھان بین کر کے ، یا باالفاظ دیگر ’ فیکٹ چیک ‘ کر کے ’ سچ ‘ کو سامنے لانے اور یرقانی پروپیگنڈے کی ہوا نکالنے کا ۔ دنیا جانتی ہے کہ آلٹ نیوز نے سیکڑوں بار فرقہ پرستوں کے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر پھیلتے تناؤ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو رفع کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے ، لیکن ان کارناموں کو ہندوتوادی ، یرقانی اور بھاجپائی اپنی ناکامی یا اپنی ہار سمجھتے رہے ہیں ، اور بار بار محمد زبیر ان کے نشانے پر رہے ہیں ۔ کئی بار سوشل میڈیا پر باقاعدہ تحریک چلائی گئی کہ محمد زبیر کے خلاف جگہ جگہ سے مقدمے درج کرائے جائیں ۔ اور ایسا کیا گیا ، اسی لیے اسے ’ انتقام کی سیاست ‘ کہا جا رہا ہے ۔

دہلی میں گرفتاری کے بعد یوگی کی ریاست یو پی میں ، کئی کئی مقدمات کا درج کرانا ’ انتقام ‘ ہی کی ایک شکل ہے ۔ سپریم کورٹ نے پیر کے روز ، محمد زبیر کو راحت دیتے ہوئے ’ انتقام ‘ کا لفظ تو استعمال نہیں کیا ، لیکن یو پی کی پولیس کے خلاف انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ عدالتِ عظمیٰ نے یوپی پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ محمد زبیر کے خلاف درج پانچوں ایف آئی آر پر کارروائی نہ کرے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے زبیر کو اُن پانچوں معاملات میں تحفظ دیا ہے ، جو یو پی میں درج ہیں ۔

کیس میں سپریم کورٹ کا یہ سخت تبصرہ قابلِ غور ہے کہ ’’ جب زبیر کو ایک کیس میں عبوری ضمانت مل جاتی ہے تو دوسرے کیس میں گرفتار کر لیاجاتا ہے ، جب تک ہم بدھ کو عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت نہ کریں ، ان کے خلاف کوئی جارحانہ قدم نہ اٹھایا جائے ۔‘‘ سپریم کورٹ نے یوپی حکومت پر بھی تبصرہ کیا کہ اسےدوسری عدالتوں کو ، حکم جاری کرنے سے نہیں روکنا چاہئے ۔

سپریم کورٹ نے ایک اور اہم بات کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ ، ’’ تمام ایف آئی آر کا مواد ایک جیسا لگتا ہے ۔ جیسے ہی دہلی اور سیتا پور میں محمد زبیر کو ضمانت ملی ، وہ ایک اور کیس میں گرفتار ہو گیا ، یہ شیطانی چکر پریشان کن ہے ۔‘‘ زبیر کی عرضی پر سپریم کورٹ نے یوپی پولیس کو نوٹس بھی جاری کیا ہے ، اور سالیسٹر جنرل سے اس معاملے میں مدد کرنے کو کہا ہے ۔ عدالتِ عظمیٰ کے مذکورہ تبصروں کا مطلب یہ ہے کہ اُسے خوب اندازہ ہے کہ ایک ہی طرح کی ایف آئی آر درج کرنے کا مطلب ضمانت کے دروازوں کا بند کرنا ہے ۔

یہ دیکھا جا رہا ہے کہ مرکزی اور ریاستی سرکاریں ، ان افراد پر ، جو ان کی پول کھولتے ہیں ، یا جو اس ملک میں جمہوری قدروں کو بچانے اور میڈیا کو آزاد رکھنے کے لیے کوششیں کرتے ہیں ، قدغن لگانے کے لیے ، اُن کے خلاف اندھا دھند مقدمے دائر کر دیتی ہیں ، یا لوگوں کو ایسا کرنے پر اکساتی ہیں ، اور لوگ ایک ضمانت کے بعد دوسری اور پھر تیسری ضمانت کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ یہ ایک فردکی شخصی آزادی کو پامال کرنے کا ایک انتہائی ظالمانہ اور افسوس ناک حربہ ہے ۔ محمد زبیر کے ساتھ یہی کیا جا رہا ہے ۔

یوپی میں جو مقدمے درج کرائے گیے ہیں ان سب کا مواد تقریباً یکساں ہے ، مطلب کسی کو سزا دلانا یا نہ دلانا نہیں ’’ شیطانی چکر ‘‘ میں پھنسانا ہے ، جیسا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے ۔ محمد زبیر کے معاملے میں تو ’ انتقام کی سیاست ‘ کا پہلو بہت واضح ہے ۔ گرفتاری ۲۷، جون کو ایک ایسے ٹوئٹ پر کی گئی جو ۲۰۱۸ء میں پوسٹ کیا گیا تھا ۔ اُس ٹوئٹ کو بھی ایک گمنام ٹوئٹر ہینڈل سے ری ٹوئٹ کیا گیاتھا ۔ یہ سچ سب کے سامنے تھا ، پولیس کے بھی اور عدالتوں کے بھی ، اور یہ سچ بھی سامنے تھا کہ اُس ٹوئٹ پر ۲۰۱۸ء سے لے کر اب تک کہیں کوئی فرقہ وارانہ تشدد تو دور ، فرقہ وارانہ کشیدگی تک نہیں ہوئی ہے ۔

لیکن محمد زبیر کو ، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگا کر ، گرفتار کر لیا گیا ! محمد زبیر سے شدید دشمنی کا ایک بڑا سبب ، گستاخ نوپور شرما کی گستاخی کو عیاں کرنا ہے ۔ محمد زبیر کے ’ فیکٹ چیک ‘ کی بدولت ہی ساری دنیا میں بی جے پی اور مودی سرکار کا منھ کالا ہوا ، عرب ممالک کھل کر سامنے آئے ، بھلا کیسے یہ ’ یرقانی ‘ محمد زبیر کو بخش سکتے تھے ! لیکن اس گرفتاری نے مودی سرکار کے چہرے کو مزید عیاں کیا ہے کہ جس نے ’ نفرت کی زبان ‘ پر سے پردہ ہٹایا وہ سلاخوں کے پیچھے ہے اور گستاخ عورت آج تک آزاد ہے ۔

نوپقر بھی تو مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی قصوروار ہے ۔ پولیس ، جو محمد زبیر کو قانون کے نام پر چھوڑنے کو راضی نہیں ہے ، نوپور پر ہاتھ ڈالنے کو آمادہ نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ کو ان سب باتوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا ، اسے سمجھنا ہوگا کہ جھوٹ کو بنیاد بنا کر شخصی آزادی کو کچلا جا رہا ہے ، اسے یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ایک مخصوص فرقے کو نشانے پر لیا گیا ہے ۔

اورپھر اسے ایسا فیصلہ کرنا ہوگا جو ’ انصاف ‘ کے عین مطابق ہو ۔ محمد زبیر کو راحت نہیں مکمل آزادی چاہیے ، یہ محمد زبیر کا حق ہے ۔