BiP Urdu News Groups

۔170 کیلومیٹر طویل ’’نیوم ‘‘شہر میں آرٹیفیشیل انٹلیجنس کا اہم رول ہوگا

ریاض۔ سعودی عرب کے شہزادے اور ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ ایک ایسا شہر بسایا جا رہا ہے جس میں کوئی بھی کار یا سڑک نہیں ہو گی۔ اس نئے شہر میں صفر کاربن اخراج ہو گا۔ شہزادے نے نیوم پروجیکٹ کے تحت تقریبا 170 کلومیٹر کی لمبائی میں شہر کو بسانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس ڈیولپمنٹ کو ’ دی لائن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ نیوم شہر بنا کر تیل کی دولت سے مالا مال ملک سعودی عرب اپنے لئے بغیر تیل کا مستقبل بھی تلاش کر رہا ہے۔ اس شہر کی تعمیر اس سال کی پہلی سہ ماہی میں شروع ہو جائے گی۔ اس پروجیکٹ کی جانکاری ولی عہد نے ٹیلی ویژن کے ذریعہ دی۔سعودی عرب کے اس نئے شہر نیوم میں 10 لاکھ افراد کو بسایا جائے گا۔ اس میں اسکول، صحت مرکز اور سرسبز وشادابی جیسی سہولتیں ہوں گی۔ یہاں 3,80,000 لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ولیعہد نے بتایا کہ اس انفراسٹرکچر پر 100تا 200 بلین ڈالر کا خرچ آئے گا۔سعودی ولی عہد نے بتایا کہ نیوم شہر میں ایک اعلی رفتار والا عوامی ٹرانسپورٹ سسٹم قائم کیا جائے گا۔ اس شہر کو تیار کرنے میں آرٹیفیشیل انٹلیجنس کا اہم رول ہو گا۔ اسے 100 فیصد صاف ستھری توانائی کے ذریعہ چلایا جائے گا اور یہاں باشندوں کیلئے آلودگی سے پاک، صحت مند ماحول مہیا کرایا جائے گا۔سعودی عرب دنیا کا خام تیل برآمد کرنے والا اہم ملک ہے اور یہ سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والے ملکوں میں بھی شامل ہے۔ سعودی عرب نیوم شہر بنا کر بغیر تیل کے اپنا مستقبل تلاش کر رہا ہے۔ نیوم 26,500 مربع کلومیٹر کے علاقے میں پھیلا ہو گا اور اس کی سرحدیں اردن اور مصر کو چھوئیں گی۔ سال 2017 میں جب نیوم کی تعمیر کا اعلان ہوا تھا تو اس میں کافی دلچسپی لی گئی تھی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں