ۤآگرہ:ـ(یجنسی)اتر پردیش کے آگرہ میں اس وقت حالات کشیدہ ہو گئے جب سکندرہ تھانہ علاقہ کے رونکتا علاقے میں ہندو تنظیموں نے دو الگ مذاہب سے تعلق رکھنے والے لڑکا-لڑکی کی شادی سے ناراض ہو کر عاشق ساجد کے گھر سمیت 3 گھروں کو نذرِ آتش کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد رونکتا میں افرا تفری کا عالم ہے۔ حالانکہ پولیس نے لڑکی نکیتا کو برآمد کر لیا ہے۔ لڑکی نے اس سے پہلے ایک ویڈیو بھی جاری کیا تھا جس میں اس نے ساجد کے ساتھ اپنی مرضی سے شادی کرنے کی بات کہی تھی۔ الگ مذاہب سے معاملہ جڑا ہونے کے سبب شادی کے اس معاملے نے طول پکڑ لیا ہے۔ معاملے میں ہندو تنظیموں سے جڑے 9 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔اس شادی میں ایک الگ بات یہ بھی ہے کہ نوجوان ساجد نے اپنی معشوقہ نکیتا کے ساتھ آریہ سماج مندر میں ہندو رسوم و رواج سے شادی کی تھی، لیکن اس کے بعد بھی شہر کی ہندو تنظیموں کی ناراضگی دور نہیں ہوئی اور انھوں نے جمعہ کو ساجد، اس کے بھائی اور چچا کے گھر کو آگ کے حوالے کر دیا۔

واقعہ جمعہ کا ہے اور صبح سے ہی لاؤڈاسپیکر پر اشتعال انگیز تقریریں کی جا رہی تھیں اور ہندو تنظیموں نے رونکتا میں پنچایت بھی کی تھی۔آگرہ کے ایس ایس پی سدھیر کمار سنگھ نے بتایا ہے کہ آگ لگانے والی ہندو تنظیموں کے کارکنان کو نشان زد کیا جا رہا ہے۔ پولیس ان کے خلاف بے حد سخت کارروائی کرے گی۔ کچھ کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، جن پر این ایس اے کے تحت کارروائی ہوگی۔ انھوں نے بتایا کہ لڑکی کو برآمد کر لیا گیا ہے۔ اسے عدالت کی چھٹیوں کی وجہ سے پیش نہیں کیا جا سکا۔ عدالت کھلتے ہی ہم اسے پیش کرنے والے ہیں۔ پولیس لڑکی کو دہلی سے آگرہ لے آئی ہے۔جوڑے کی طرف سے دہلی کے ایک آریہ سماج مندر میں ہندو رسوم و رواج سے ہوئی شادی کا سرٹیفکیٹ بھی پولیس اور میڈیا کو بھیجا گیا ہے جس میں لڑکا اور لڑکی ’اگنی‘ (آگ) کو گواہ مان کر ایک دوسرے کو اپنا بنا رہے ہیں۔ نوجوان ساجد لڑکی نکیتا کی مانگ میں سندور بھر رہا ہے۔ لڑکی نکیتا کا کہنا ہے کہ وہ بالغ ہے اور اس کے گھر والے اسے اور اس کے شوہر ساجد کو پریشان کر رہے ہیں۔ لڑکا ساجد نے ہندو مذہب اختیار کر لیا ہے۔ حالانکہ لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ یہ دھوکہ ہے۔بہرحال، آگرہ میں آگ لگائے جانے کا یہ واقعہ جمعہ کی دوپہر پیش آیا۔ حالانکہ لڑکا-لڑکی ایک ہفتہ سے فرار تھے اور مقامی تھانہ میں لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ ملزم نوجوان ساجد اسی محلے میں ایک جِم چلاتا تھا۔ لڑکی سے اس کی جان پہچان پرانی بتائی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دونوں نے ساتھ میں پڑھائی کی ہے۔اس درمیان ایس ایس پی آگرہ نے رونکتا چوکی انچارج کو معطل کر دیا اور لاپروائی برتنے پر تھانہ انچارج سکندرہ کے خلاف جانچ بٹھا دی ہے۔ ایس ایس پی سدھیر کمار سنگھ نے بتایا ہے کہ اس واقعہ میں ’دھرم جاگرن سمنوے سنگھ‘ کے کارکنان شامل تھے۔ اس تعلق سے پولیس کی زبردست لاپروائی سامنے آئی ہے۔

مقامی باشندہ ندیم علی نے بتایا کہ جمعہ کو صبح 7 بجے سے ہی رکشے میں لاؤڈاسپیکر لگا کر اس معاملے میں ہاٹ بازار میں جمع ہونے کی اپیل کی جا رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر پنچایت کو لے کر لکھا جا رہا تھا۔ صبح 9 بجے سے لوگ جمع ہونے لگے۔ یہاں ہندوؤں کے جذبات کو مشتعل کرنے والی تقریریں کی گئیں اور بھیڑ نے ساجد اور اس کے چچا کے گھر میں آگ لگا دی۔ ندیم بتاتے ہیں کہ آگ لگانے کے نصف گھنٹے بعد صرف پہلے ایک داروغہ اور ایک سپاہی یہاں پہنچا اور اس کے بعد فوج پہنچی۔ مقامی رکن اسمبلی چودھری بابو لال نے بھی پولیس کی لاپروائی کا تذکرہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس چوکی کے سامنے سارا بازار بند ہو گیا، لیکن پولیس جائے واقعہ پر دیر سے پہنچی۔واضح رہے کہ جِم چلانے والے ساجد کے ذریعہ مبینہ طور پر لڑکی کو بھگا لے جانے کا یہ معاملہ کئی دن سے سلگ رہا تھا۔ اس تعلق سے ہندو تنظیموں کے کئی کارکنان مظاہرہ کر رہے تھے۔ اس میں ہندو مہاسبھا کے ضلع چیئرمین رونق ٹھاکر، ضلع پنچایت رکن بنٹی سکروار، بجرنگ دل سیکورٹی چیف دیپیش جین، ٹیٹو جین، ہری ٹھاکر، برجیش بھدوریا، سچن بھدوریا زیادہ سرگرم تھے۔ پولیس کے مطابق ان کے خلاف رپورٹ درج کی گئی ہے۔ اب اس معاملے میں مجموعی طور پر 20 لوگوں کے خلاف نامزد رپورٹ درج کی گئی ہے جب کہ 9 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اس واقعہ میں گرام پردھان انوج کمار کا کردار اہم بتایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی ساجد سے ذاتی رنجش بھی ہے۔ پولیس نے انوج کمار، ضلع پنچایت رکن شیوپال سنگھ، روی سنگھ ورما، اودھیش پنڈت، ٹیٹو جین، ہردیش ورما، منوج، اوتار اور سنجے چوبے کو گرفتار کرنے کی بات کہی ہے۔یہاں یہ بھی اہم ہے کہ ملزم نوجوان ساجد 11 اپریل کو نکیتا کو لے کر چلا گیا تھا اور اس کے بعد اس نے مذہب بدل کر اپنا نام ساحل رکھ لیا۔ یہاں ساجد نے ایک حلف نامہ بھی دیا جس میں لکھا ہے کہ وہ مسلمان سے ہندو مذہب میں اپنی مرضی سے شامل ہو رہا ہے۔ اس میں کسی کی کوئی زبردستی، دباؤ یا دھوکہ دہی نہیں ہے۔ وہ لڑکی کو سات سال سے جانتا ہے۔ سکندرہ کے رہنے والے عدنان قریشی نے آگ زنی کرنے والی ہندو تنظیموں کے کارکنان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دن بھر جس طرح سے 3 گھروں میں آگ زنی کی گئی اس سے مقامی لوگوں میں خوف کا ماحول ہے۔ پولیس کو ان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔