وہ میرے سامنے بیٹھی تھی، دھان پان سی نازک سی لڑکی سر پر دوپٹہ اوڑھے نظریں جھکائے بیٹھی تھی اس کے قریب اس کا آٹھ ماہ کا بیٹا واکر پر گھوم رہا تھا جب کہ ڈھائی سالہ بڑا بیٹا اس کی گود میں بیٹھا اس سے چاکلیٹ کھول کر دینے کا تقاضا کر رہا تھا۔

میں نے ایک بار دوبارہ سے بات شروع کرنے کی کوشش کی۔ کیا تمھیں اپنے بیٹوں سے محبت نہیں ہے؟ میرا یہ جملہ سنتے ہی اس نے مجھے پتھرائی ہوئی نظر سے دیکھا، صرف 25 سال کی عمر میں بھی اس کی نظر میں بہت تجربہ اور پختگی تھی۔

بڑے بیٹے کو چاکلیٹ کھول کر دیتے ہوئے میرے سوال کے جواب میں اس نے ایک اور سوال پوچھ کر مجھے لاجواب کر دیا کیا کوئی ماں ایسی بھی ہو سکتی ہے جس کو اپنی اولاد سے محبت نہ ہو؟ میں جو بھی کچھ کرنا چاہ رہی ہوں یہ سب ان کی بہتری کے لیے ہی تو ہے-

گزشتہ سات ماہ سے جب سے میرے شوہر نے مجھے گھر سے نکالا اس نے ایک دن بھی ان بچوں کو پلٹ کر نہ دیکھا۔ ایک ماہ کے بچے کو گود میں لے کر جب آدھی رات کو میں اس گھر سے نکلی تھی تو جو آخری احسان میرے شوہر نے مجھ پر کیا تھا وہ گھر میں دو دو گاڑیوں کے ہوتے ہوئے مجھے ٹیکسی منگوا کر دینے کا تھا جس کا کرایہ بھی میرے بھائيوں نے ادا کیا-میں نے ایک بار پھر ان میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کی وجہ جاننا چاہی تو اس کے جواب نے مجھے گھما کر رکھ دیا کہ میرا شوہر مجھے بیوی کی حیثیت سے عزت دینے کو تیار نہیں ہے اس وجہ سے مجھے اس سے طلاق چاہیے۔

ایک عورت ہونے کی حیثیت سے میرا یہ پوچھنا بجا تھا کہ کیا وہ تمھیں خرچہ نہیں دیتا تو اس کا جواب تھا کہ وہ میرے اخراجات اور بچوں کے اخراجات بن مانگے پورے کر دیتا ہے البتہ خرچے کی مد میں اس نے کبھی مجھے کوئی پیسہ نہیں دیا مگر مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں۔

میرا دوسرا سوال تھا کہ کیا وہ وظیفہ زوجیت کے معاملے میں حقوق ادا نہیں کرتا تو اس کے جواب میں اس کی گود میں موجود آٹھ ماہ کا بچہ اس بات کا اشارہ کر رہا تھا کہ ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے پھر کیا وہ تمھیں مارتا پیٹتا ہے تو اس کا کہنا تھا کہ میرا شوہر صبح دس گیارہ بجے تک ناشتہ کر کے گھر سے چلا جاتا ہے اور رات اس وقت گھر واپس آتا ہے جب کہ سب سو چکے ہوتے ہیں۔ شوہر نے اس کو علیحدہ گھر لے کر دیا ہوا ہے سسرال کا بھی کوئی عمل دخل نہیں ہے- البتہ جب کبھی میں اس سے کوئی تقاضا کرتی ہوں یا وقت مانگتی ہوں تو اس کے جواب میں اس کے پاس میرے لیے گالیوں اور مار پیٹ کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے-

اس لڑکی کے ساتھ آئی ہوئی اس کی ماں بہت پر امید نظروں سے میری جانب دیکھ رہی تھی کہ شائد میں اس کے گھر میں الجھی اس گتھی کو سلجھا سکوں مگر میں تو خود اس میں الجھتی جا رہی تھی۔

وکیل ہونے کی حیثیت سے یہ میرے سامنے آنے والا کوئی پہلا کیس نہ تھا۔ بہت ساری لڑکیاں اس سے قبل بھی اپنے شوہروں کے خلاف اسی طرح ملتے جلتے مطالبات لے کر خلع کا دعویٰ کرتی نظر آتی رہی ہیں۔ طلاق کے بڑھتے ہوئے ان کیسز میں لڑکیوں کی جانب سے جو بنیادی مطالبات نان و نفقہ اوروظیفہ زوجیت کی ادائیگی کے علاوہ ہوتے ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہوتے ہیں-

1: میرا شوہر میری عزت نہیں کرتا ہے
گزشتہ کچھ سالوں سے وومن ڈے کے حوالے سے خواتین کی ہونے والی ریلیوں میں جو مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں انہوں نے کچے ذہنوں کی لڑکیوں کے ذہن میں عزت کو ایک ہاضمے کے سیرپ بنا کر رکھ دیا ہے- جس کی ایک چمچ صبح ایک چمچ شام پینا ضروری ہو گیا ہے اور وہ نظریہ کہ عزت دینے سے عزت ملتی ہے کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کل کی لڑکیوں کو خود بھی اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ان کی بے سکونی کی اصل وجہ کیا ہے اور ان کو شوہر سے کس طرح کی عزت درکار ہے-

2: شادی شدہ زندگی سے توقعات بہت بڑھ گئی ہیں
آج کل کے سوشل میڈیا کے دور میں جب کہ لڑکیاں مختلف جگہوں پر دوسری شادی شدہ خواتین کی ان کے شوہروں کے ساتھ طرح طرح کی تصاویر دیکھتی ہیں جن میں کہیں شوہر بیوی کو تفریح کے لیے لے کر جا رہا ہے اور کہیں پر شادی کی سالگرہ منائی جا رہی ہے اور کہیں پیار محبت جتلایا جا رہا ہے-

ان تمام پوسٹس کو دیکھ کر عام لڑکیوں کے نزدیک شادی کا مطلب ایک حسین خواب بن کر رہ گیا ہے اور زندگی کی حقیقتوں کو نظر انداز کر کے وہ صرف اور صرف شادی کو منہ میں گھلنے میں والی ایک چاکلیٹ کی طرح سمجھنے لگی ہیں۔

3: شادی غلامی محسوس ہونے لگی ہے
ایک اور نظریہ جو آج کل کی لڑکیوں کے اندر آزادی کے نام پر پیدا ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ ان کو شادی شوہر اور سسرال والوں کی غلامی محسوس ہونے لگا ہے ان کو یہ لگتا ہے کہ شادی کا مطلب ان کی شخصی آزادی کا خاتمہ ہے اس وجہ سے وہ شادی کو ایک قید سمجھنے لگی ہیں۔
ایسے وقت میں حقوق نسواں کا پرچار کرنے والی خواتین ان کو بار بار یہ احساس دلاتی نظر آتی ہیں کہ اپنی آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا اس پرچار نے شادی کے تعلق کی خوبصورتی کو ختم کر دیا ہے جہاں پر میاں بیوی ایک دوسرے کے لیۓ قربانیاں دیتے ہیں ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ جہاں حقوق و فرائض کا ایک توازن ہوتا ہے۔

سننے میں یہ سوال تھوڑا عجیب ہے کیونکہ عام طور پر نوجوان کسی کی ذمہ داری نہیں ہوتے بلکہ اپنے ملک اور خاندان کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں لیکن اگر باصلاحیت، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کو ان کے اپنے ملک میں روزگار کمانے کے مواقع ہی میسر نہ ہوں تو وہ بھلا کیا کریں؟ بے شک حلال رزق جس طرح بھی کمایا جائے افضل ہے لیکن کیا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کا حق نہیں کہ اسے بھی کسی اچھے ادارے میں نوکری ملے؟ یہ سوال ہے ان حکمرانوں سے جو آپس کی ان بن اور کرسی کی کھینچا تانی میں ووٹ دینے والے عوام کو فراموش کرکے صرف اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں

4: شوہر کی حیثیت صرف نوٹ چھاپنے تک محدود
آج کل کی مائیں بیٹیوں کا رشتہ دیکھتے ہوئے سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو دیتی ہیں کہ ان کا داماد پیسے والا ہو یہی نظریہ بچیوں کے اندر بھی پیدا ہو گیا ہے اس وجہ سے ان کے نزدیک اگر شوہر معاشی طور پر کسی وجہ سے کمزور ہو گیا ہے تو اس کے ساتھ زندگی گزارنا وقت کا ضیاع محسوس ہونے لگا ہے اور اس سے طلاق لے کر جان چھڑانا بہتر محسوس ہونے لگا ہے-

5: جب کما سکتی ہوں تو شوہر کی خدمت کیوں کروں
معاشی آزادی آج کل کی عورت کو اس کی قابلیت اور محنت کےسبب ملی ہے اسکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے مگر معاشی طور پر آزاد تنہا عورت فطرت کے اصولوں کے خلاف زںدگی گزار رہی ہوتی ہے-

آج کل کے دور کی معاشی طور پر آزاد عورت کے ذہن میں کہیں نہ کہیں یہ خیال موجود ہوتا ہے کہ جب میں کما سکتی ہوں تو مجھے پھر شوہر کی کیا ضرورت ہے یعنی ان کے نزدیک شوہر کا وجود صرف معاشی اخراجات کی تکمیل تک محدود رہ گیا ہے –