سری نگر : پی ڈی پی صدر و سابق چیف منسٹر محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو ملک کے لئے خطرہ قرار دے کر پاسپوررٹ فراہم کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں صورتحال نارمل ہونے کی سطح یہ ہے کہ ایک سابق وزیر اعلیٰ پاسپورٹ رکھنے سے ایک طاقتور ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ اُنھوں نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز اپنے ٹویٹس میں کیا۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ کے ساتھ پاسپورٹ دفتر سرینگر کا وہ حکمنامہ بھی پوسٹ کیا ہے جس میں ان سے پاسپورٹ کی عدم فراہمی کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ پاسپورٹ دفتر نے مجھے سی آئی ڈی کے اس رپورٹ کی بنیاد پر پاسپورٹ فراہم کرنے سے انکار کیا ہے کہ وہ انڈیا کی سیکورٹی کے لئے ضرر رساں ہوگا۔ یہ کشمیر میں اگست 2019 سے صورتحال میں آنے والی بہتری کی سطح ہے کہ ایک سابق وزیر اعلیٰ پاسپورٹ رکھنے پر ایک طاقتور ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ان کا ایک اور ٹویٹ میں کہنا تھا کہ پاسپورٹ آفس نے میری والدہ کے پاسپورٹ کی درخواست بھی خارج کر دی ہے۔ سی آئی ڈی کا دعویٰ ہے کہ میری والدہ، جن کی عمر ستر کے آس پاس ہے، قومی سلامی کے لئے خطرہ ہے لہٰذا پاسپورٹ کی مستحق نہیں ہے۔ حکومت ہند مجھے ہراساں اور مجھے سزا دینے کے لئے مضحکہ خیز طریقے استعمال کر رہی ہے کیونکہ میں ان کی لائن اختیار نہیں کر رہی ہوں۔بتادیں کہ محبوبہ مفتی نے ماہ رواں کے اوائل میں پاسپورٹ کی اجرائی میں مداخلت کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ان کا الزام تھا انہیں پاسپورٹ اجرا کرنے میں پولیس ویریفکیشن فراہم کرنے میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر غیر ضروری تاخیر کر رہی ہے۔ریجنل پاسپورٹ افسر سرینگر بی بی ناگر کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ محبوبہ مفتی کی پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست پر کاررائی شروع کی گئی ہے لیکن پولیس ویریفکیشن کی عدم فراہمی کی وجہ سے وہ التوا میں پڑ گیا ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں