ممبئی 3؍فروری (یو این آئی) ممبئی کے مضافاتی علاقہ سے تعلق رکھنے والے مجلس اتحادالمسلمین کے ایک لیڈر نے خود کو ہندو بتلا کر ایک ہندو تاجر کے ساتھ دھوکہ دہی کی اور ہندو نام سے ہی بینک میں اکاونٹ کھول کر ایک کروڑ سے زائد کا فراڈ کیا ہے جس کے خلاف ممبئی کرائم برانچ نے ایف آئی آر درج کیا ہے اور ملزم کی تلاش جاری ہے جبکہ اس معاملے کی پیروی کرنے والے وکیل دفاع وہاب خان نے تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیئے گئے ہیں ۔

پولیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق مجلس کے لیڈر عمران اکرم قریشی نے شکایت کنندہگجرات کے سورت شہر سے تعلق رکھنے والے کپڑوں کے بیوپاری سشیل کمار جین اور راجیش جین سے تجارتی تعلقات قائم کیئے اور خود کو شرون لال بہاری چوہان کے نام سے متعارف کروایا اور یہ بتلایا کہ وہ سواستک امپیک نامی کمپنی کا مالک ہے ۔

شکایت کے مطابق ہندو تاجر کی حیثیت سے متعارف کرانے کے بعد اس نے سواست امپیکس کے نام سے بینک میں اکاونٹ بھی کھولا اور فرضی کاغذات کی بنیاد پر جی ایس ٹی نمبر بھی حاصل کیا ۔تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۰۶؍، ۴۲۰؍،۴۶۷؍،۴۶۸؍،۳۴؍،۱۲۰بی اور ۵۰۶(۲) کے تحت درج کیئے گئے معاملے میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ملزم نے جین برادران سے ایک کروڑ سے زائد کی مالیت کا ادھار کپڑا خریدا اور یہ بتلایا کہ اسے ایکسپورٹ کا ایک بڑا آرڈر ملا ہے نیز جلد ہی وہ اس کی ادائیگی کر دے گا ۔شکایت کے مطابق ملزم نے جین برادران کو چھ لاکھ روپیہ کے قریب پہلی قسط بذریعہ بینک روانہ کی اور اس کے بعد وہ ان سے ادھار لے کر کپڑے منگواتا گیا ۔بعد میں جب شکایت کنندہ نے روپیوں کا تقاضہ کیا تو ملزم نے اپنا موبائل بند کر دیا ۔

کرائم برانچ ذرائع کے مطابق کسی طرح سے شکایت کنندہ ملزم کے ٹھکانے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ خود کو ہندو تاجر شرون لال چوہان کے نام سے متعارف کروانے والے شخص کا نام عمران قریشی ہے اور وہ مضافات کے جری مری علاقہ میں مجلس اتحادالمسلمین کا لیڈر بھی ہے اور اس نے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا ۔ملزم عرفان کے خلاف ممبئی کرائم برانچ سمیت باندرہ ، اندور (مدھیہ پردیش )،احمدآباد (گجرات )، بھیونڈی اور دیگر عدالتوں میں دھوکہ دہی کے معاملات التوا میں پڑے ہوئے ہیں اور اس کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ بھی نکالا جا چکا ہے ۔