متھرا میں ایک اور مسجد کو ہٹانے کیلئے درخواست

468

متھرا: متھرا کی ایک عدالت میں ایک درخواست داخل کی گئی ہے جس کے ذریعہ مغلیہ دور کی ایک اور مسجد ”مینا مسجد“ کو ہٹانے کی گزارش کی گئی ہے۔درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مسجد‘ شری کرشنا جنم بھومی کامپلکس کے مشرقی جانب ٹھاکر کیشودیوجی مندر کے ایک حصہ پر بنائی گئی ہے۔ اکھل بھارت ہندو مہا سبھا کے قومی خازن دنیش شرما نے یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔ متھرا کے سیول جج (سینئر ڈیویژن) جیوتی سنگھ کی عدالت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

متھرا کی مختلف عدالتوں میں کئی مقدمات دائر کئے گئے ہیں اور شاہی مسجد عیدگاہ کو اس کامپلکس سے ہٹانے کی گزارش کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں کا ادعا ہے کہ مندر کے 13.37 ایکڑ احاطہ میں لارڈ کرشنا کی جائے پیدائش پر مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ تازہ درخواست میں شرما نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ٹھاکر کیشو دیوجی مہاراج (بھگوان کرشنا کا ایک اور نام) کا کٹر بھکت ہے اور اس کیس میں درخواست گزار نمبر ایک ہے۔

شرما نے قبل ازیں شری کرشنا جنم بھومی سے متصل شاہی عیدگاہ مسجد کو ہٹانے کی درخواست داخل کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمہ کا بنیادی مقصد ٹھاکر کیشودیوجی مہاراج کی جائیداد کا تحفظ کرنا ہے جو متھرا شہر میں 13.37 ایکڑ اراضی رکھتے ہیں جس پر سری کرشنا جنم بھومی واقع ہے۔

اس نے کہا کہ ہم نے اب دیوتا کی ملکیت اراضی پر ورنداون ریلوے لائن کے قریب مینا مسجد کے نام پر تعمیرات کو ہٹانے کی گزارش کی ہے۔ اس مقدمہ میں اترپردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ لکھنو اور سکریٹری انتظامیہ کمیٹی مینا مسجد (ڈیگ گیٹ) کو مدعی علیہان بنایا گیا ہے۔ عدالت نے اس کیس کی سماعت 26 اکتوبر کو مقرر کی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل دیپک شرما نے یہ بات بتائی۔