متھرا شاہی عیدگاہ کاسروے، عدالت کے احکام غلط: اسدالدین اویسی

194

حیدرآباد: کل ہندمجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے پیر کے روز شاہی عیدگاہ مسجدکامپلکس کا سروے کرانے کے متھراکی عدالت کے احکام پرتنقیدکی اورکہاکہ دیوانی(سیول) کیس میں سروے آخری حربہ ہوناچاہئے۔حیدرآبادکے ایم پی نے کہاکہ میرے خیال میں عدالت غلط ہے‘وہ عدالت کے ان احکام سے متفق نہیں ہیں‘ماہرین قانون بہترجانتے ہیں اورانہوں نے مجھے بتایا کہ ٹائیٹل یاکسی چیز کوثابت کرنے کے لئے کوئی دستاویزی ثبوت نہ رہنے پرعدالت آخری حربہ کے طورپرسروے کے احکام جاری کرسکتی ہے۔

اسدالدین اویسی نے آج یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ عدالت نے سروے کو پہلا حربہ اپنایا ہے جبکہ ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ سروے عدالت کا آخری حربہ ہوناچاہئے۔ اویسی نے کہاکہ متھراکی سیول عدالت نے حیرت انگیزطورپرپلیسس آف ورشپ ایکٹ (مقامات عبادت گاہوں کا قانون) بابتہ 1991 کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔

اس قانون کے تحت بابری مسجد کے سوا ملک میں دیگر مذہبی عبادت گاہوں کی نوعیت کو تبدیل نہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ عدالت نے 12اکتوبر 1968 کوشاہی عیدگاہ ٹرسٹ اورسری کرشنا جنم استھان کے درمیان طئے پائے معاہدہ کویکسرنظرانداز کردیا ہے۔ اترپردیش سنی وقف بورڈکی منظوری کے بعد ہی ٹرسٹ نے یہ معاہدہ کیاتھا اور اس معاہدہ پردونوں فریقین نے دستخط بھی کئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاہدہ کے تحت عیدگاہ اورمندر کی اراضی کا واضح طورپر تعین کیا گیاہے تاہم 24دسمبر کومتھراکی ضلعی عدالت نے محکمہ ریونیوکے حکام کو شاہی عیدگاہ مسجد کامپلکس کے سرکاری معائنہ کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے 13.77 ایکڑ اراضی کی ملکیت کوچالنج کرتے ہوئے داخل کردہ تازہ درخواست پریہ احکام جاری کئے ہیں۔اس اراضی پرعیدگاہ تعمیر کیاگیا ہے۔

عدالت نے محکمہ ریونیوکے عہدیدارکواحاطہ کا معائنہ کرنے اور 20 جنوری تک نقشہ کے ساتھ تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ہندو سینانے دیوی بال کرشنا کے نام پرعیدگاہ کی انتظامی کمیٹی کے خلاف عرضی داخل کی تھی جس پر عدالت نے سروے کے احکام جاری کئے۔ایم پی اویسی نے یاددلایا کہ سپریم کورٹ کے بابری مسجدکیس کے فیصلہ کے بعد انہوں نے کہاتھاکہ اس سے ہندوتواعناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی ان کی بات درست ثابت ہوئی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹرسٹ‘ عدالت کے غلط احکام کے خلاف اپیل کرے گا اوراعلیٰ عدالت اس کا جائزہ لے گی۔ایک سوال کے جواب میں اسدالدین اویسی نے الزام عائد کیاکہ وی ایچ پی‘ آرایس ایس اور بی جے پی‘ملک میں 1980 اور 1990 کے نفرت کے ماحول کودوبارہ تخلیق کرناچاہتی ہیں۔ ملک پر بی جے پی کی حکومت ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی‘وی ایچ پی کوکنٹرول نہیں کرپارہے ہیں یاوہ ان کی بات ماننے کے لئے تیارنہیں ہیں یاپھر وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔