متھرا، 28 مارچ (یواین آئی) اترپردیش کے متھرامیں پولیس کے ساتھ مارپیٹ کرنے والے بی جے پی اورآرایس ایس کے کارکنان پر کارروائی نہ کی گئی تو کانگریس تحریک چلائے گی۔

اترپردیش کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر پردیپ ماتھر نے آج یہاں صحافیوں سے کہا کہ پولیس کے ساتھ مارپیٹ کرنے والے بی جے پی اورآرایس ایس کے لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی نہیں کی گئی تو ان کی پارٹی چار دن بعد دھرنے کے ساتھ اپنی تحریک شروع کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے ساتھ مارپیٹ اورسرکاری کام میں رکاوٹ پہنچانا افسوس ناک ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ پٹائی کرنے والوں پر تو کارروائی نہیں ہوئی اس کے برعکس ورنداون کے کوتوال انوج کمار (جنہیں پیٹا گیا )کو ہی لائن حاضر کردیا گیا اورورنداون کمبھ میلے کے وی آئی پی گھاٹ کے چوکی انچارج پی کے اپادھیائے، کانسٹیبل انل اور گوتم کو معطل کیاگیا اور دوہوم گارڈوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے ان کے محکمہ کو لکھاگیا ہے۔

مسٹر ماتھر نے کہا کہ بی جے پی اورآرایس ایس کے کارکنان نے جس طرح قانون اپنے ہاتھوں میں لے کر سرعام پولیس کی پٹائی کی اورانتظامیہ نہ صرف خاموش تماشائی بنی رہی اورکارکنان کی چیرہ دستیوں کو برداشت کیااس سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہرکیا کہ کہیں یہ پنچایت انتخابات میں بوتھ کیپچرنگ کرنے کی ریہرسل تونہیں ہے۔

کانگریس لیڈر نے ضلع انتطامیہ کی یکطرفہ کارروائی کئے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی کارروائی سے پولیس کے حوصلے پست ہوئے ہیں اورپولیس کی پٹائی کرنے والوں کی بے لگام سرگرمیوں کوفروغ ملاہے۔ ان کا کہناتھاکہ انتظامیہ کے خاموش رہنے کی وجہ سے ہی جمہوریت کی حفاظت کے لئے کانگریس کو تحریک کا راستہ چننے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی تاریخ میں متھرا میں اس طرح کا واقعہ بی جے پی/ آرایس ایس کے لوگوں کے ذریعہ دوسری مرتبہ ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ اس طرح کا واقعہ میونسپل کارپوریشن کے اس وقت کے ایک افسر کے ساتھ ہوا تھا۔ انہوں نے ایسے لوگوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت معاملہ درج کرکے راسوکا کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔