• 425
    Shares

لکھنؤ:26ستمبر(یواین آئی)اترپردیش کے ضلع میرٹھ سے مبینہ تبدیلی مذہب کے الزام میں گرفتار کئے گئے معروف اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کے بعد اے ٹی ایس آج ان کے دیگر تین ساتھیوں کو مظفر نگر سے گرفتار کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ تفتیش میں کھاتوں سے 20کروڑ روپئے کی لین کی جانکاری ملی ہے۔

اے ٹی ایس کے مطابق مولانا سے پوچھ گچھ کے بعد جن تین ساتھیوں کا سراغ لگا اور اے ٹی ایس نے انہیں گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ان میں مظفر نگر کے فلت کے رہنے والے مولانا محمد ادریس قریشی،محمدسلیم اور عاطف عرف کنا اشوک چودھری شامل ہیں۔اے ڈی جی نظم ونسق پرشانت کمار نے بتایا کہ 10دنوں کی ریمانڈ پر لئے گئے مولانا کلیم صدیق سے پوچھ گچھ کے بعد ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ اے ٹی ایس کے دعوی کے مطابق اس نے مولانا کلیم کے تین ساتھیوں کو مولانا سے پوچھ گچھ کے بعد ملے سراغ کے ذریعہ گرفتار کیا ہے جبکہ مولانا کلیم کے اہل خانہ اور ان کے وکیل کے مطابق اے ٹی ایس نے جس رات مولانا کلیم کو گرفتار کیا تھا اسی وقت مولانا ادریس اور کنال چودھری عرف عاطف کے ساتھ دیگر دو طلبہ کو بھی گرفتار کیا تھا۔اے ٹی ایس نے اسی دن رات تک دونوں طلبہ کو چھوڑ دیا تھا لیکن ادریس اور عاطف کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تھا اور اب آج ان کی گرفتاری دکھائی گئی ہے۔

اے ٹی ایس کے دعوی کے مطابق مولانا سے پوچھ گچھ کے دوران کئی اہم جانکاریاں سامنے آئی ہیں اس میں کلیم کے ادارے جمیعتہ امام ولی اللہ الاسلامیہ ٹرسٹ سے وابستہ کھاتوں میں 20کروڑ روپئے آنے کی بات بھی شامل ہے۔جس میں سے بڑی رقم مولانا کلیم نے اپنے ساتھ تبلیغ اسلام کرنے والوں کو بھیجا ہے۔جو پیسے ٹرسٹ کے کھاتوں میں آئے ہیں مولانا کلیم ان کے ذرائع نہیں بتا سکے ہیں۔

اے ٹی ایس کے دعوی کے مطابق مولانا کلیم نے اپنے اقبالیہ بیان میں کہا ہے کہ وہ امت کو بڑھانے کی ذمہ داری کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور تبدیلی مذہب کے بعد بیرون ممالک بیٹھے اپنے معاونین کو اس بارے مطلع کرتے ہیں جہاں سے ان کو بدلے میں موٹی رقم ملتی ہے۔اے ٹی ایس نے جن تین افرا دکو گرفتار کیا ہے ان کے بارے میں اپنی پریس ریلیز میں لکھا ہے کہ مولانا کلیم جہاں بھی تبدیلی مذہب کے لئے جاتے ہیں ان کے ساتھ حافظ ادریس اور محمدسلیم اور کنال اشوک چودھری عرف عاطف ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔سلیم 17،ادریس 20سالوں سے مولانا کے ساتھ ہیں۔یہ دونوں لوگوں سے رابطہ کر کے انہیں اسلام میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔

میڈیا کو جاری پریس ریلیز کے مطابق کنال اشوک چودھری عرف عاطف نے اے ٹی ایس کو بتایا کہ اس نے روس میں رہ کر میڈیکل کی پڑھائی کے دوران اسلام کو قبول کیا ہے۔ وہ ہندوستان میں پریکٹس کے لئے ایم سی آئی امتحان پاس کرنا ضروری تھا جو پاس نہیں کرسکا اس کے باجود وہ ناسک میں کلینک چلاتا تھا۔گذشتہ دوسالو ں سے وہ مولانا کلیم صدیقی کے ساتھ رہتے تھے ۔اور میڈیکل پریکٹس کے دوران مریضوں کو قبول اسلام کی دعوت دیتا تھا۔اے ٹی ایس کے افسران نے دعوی کیا ہے کہ تبدیلی مذہب کے لئے ہوئی فنڈنگ سے مولانا ادریس نے مظفر نگر کے رہائشی علاقے میں 60لاکھ روپئے کا مکان بنوایا ہے۔ یہ مکان گذشتہ تینوں مہینوں کے اندر بن کر تیار ہواہ ہے۔اس کے علاوہ اس نے ڈھائی لاکھ روپئے کی موٹر سائیکل خریدی ہے ان املاک کے لئے ان کے پاس پیسے کہاں سے آئے اس کا ادریس ابھی جواب نہیں دے سکا ہے۔

الزام ہے کہ کلیم صدیق ایک جانب جہاں سماجی ہم آہنگی کے پروگرام کی آڑ میں طرح طرح کی لالچ دے کر مبینہ تبدیلی مذہب کا سنڈیکیٹ چلاتے تھے وہیں دوسری طرف اس سنڈیکیٹ کے ذریعہ کرائے گئے تبدیلی مذہب کے عوض میں بیرون ممالک سے موٹی رقم حاصل کی جاتی تھی اور اس رقم کا استعمال ذاتی زندگی اور غیر قانونی املاک کو حاصل کرنے میں کیا جاتا تھا۔ملحوظ رہے کہ مبینہ تبدیلی مذہب کے معاملے میں اے ٹی ایس نے ابھی تک 14افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اے ٹی ایس نے اس سے قبل 21جون کو مولانا عمر گوتم اور جہانگیر عالم کو گرفتار کر کے دعوی کیا تھا کہ یہ لوگ بڑے پیمانے پر جبری تبدیلی مذہب کا کام کررہے تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔