• 425
    Shares

مایا غزل ان لاکھوں شامی پناہ گزینوں میں سے ایک ہے جنھوں نے خانہ جنگی شروع ہوتے ہوئے اپنا ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ چھ برس قبل مایا کے خاندان کو برطانیہ میں پناہ مل گئی مگر مایا کو تعلیم حاصل کرنے میں اب بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ مایا نے اپنی کہانی بی بی سی کو سنائی کہ کیسے اس نے تمام مشکلات پر قابو پا کر ایک ماہر پائلٹ اور اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں سے متعلق ایجنسی کی خیر سگالی کی سفیر بھی بن گئیں۔

ہر بار جب میں جہاز میں داخل ہوتی ہوں تو میں بہت پرجوش ہو جاتی ہوں۔۔ میں اب ایک پائلٹ ہوں۔ یہ سوچنا ہی محال ہے کہ میں نے یہ سفر کیسے طے کر لیا۔ میں تو وہ تھی جسے سکولوں نے داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔مایا غزل 16 برس کی عمر میں اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ہمراہ دمشق چھوڑ کر برطانیہ چلی گئیں جہاں پہلے ہی سے ان کے والد شام سے فرار ہو کر وہاں پہنچ چکے تھے۔چھ سال بعد اب مایا پہلی شامی پناہ گزین ہیں جو اب نجی طیارے اڑانے کا لائسنس کی اہل ہیں اور اب وہ کمرشل فلائیٹس چلانے کے لیے تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ مگر یہ سب بہت مشکل سفر تھا جو مایا نے طے کیا۔

 

جب وہ برمنگھم آئیں تو اسے یہ امید تھی کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گی مگر اب اسے داخلہ لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔22 برس کی مایا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں مجھے اس وجہ سے بھی داخلے میں مشکلات کا سامنا تھا کہ میں ایک شامی ہوں، سکول والوں کے خیال میں ایک ان پڑھ لڑکی ہوں گی اور برطانیہ میں غیرقانونی طور پر آئی ہوں گی۔۔ مگر ایسا نہیں تھا۔داخلے کی درخواست مسترد ہونے پر دل ٹوٹ جاتا

جب مایا برطانیہ آئیں تو اس وقت کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ حاصل کرنا یا 16 سال کی عمر کے بعد تربیت حاصل کرنا لازمی شرط نہیں تھی۔ مایا نے اپنے ملک شام میں ثانوی درجے کی تعلیم مکمل کر لی تھی اور یوں انھیں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے آگے داخلہ حاصل کرنا کوئی لازمی شرط نہیں تھی۔مایا کا کہنا ہے کہ اس نے چار اداروں میں داخلے کے لیے درخواست دی اور فزکس اور ریاضی میں ٹیسٹ کے لیے بھی پیشکش کی مگر ان کی درخواست ہر بار مسترد کر دی گئی۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ مایا کی داخلے کی درخواست اس وجہ سے مسترد کر دی جاتی تھی کیونکہ شام سے حاصل کردہ تعلیمی اسناد کو برطانیہ میں تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔مایا کا کہنا ہے کوئی بھی میری کہانی سننے کی پرواہ نہیں کرتا تھا اور اس چیز نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ہر بار جب مجھے مسترد کیا جاتا تو میری ایسی کیفیت ہوتی تھی جیسے میرا دل ٹوٹ جاتا تھا۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں 66 لاکھ سے زائد شامی پناہ گزین رہ رہے ہیں۔ تقریباً 20 ہزار کو برطانیہ میں پناہ دی گئی ہے۔چھ برس قبل جب پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہوا تو ایسے میں ان پریشان حال پناہ گزینوں کی تصاویر میڈیا میں بھی شائع ہوئیں، جب وہ یورپ میں داخلے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ان تصاویر میں نفرت کے پیغامات بھی شامل ہو گئے۔مایا کا کہنا ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ میڈیا نے جس طرح کی کچھ لوگوں کی تصویر پیش کی اس سے یہ تاثر ملا کہ یہ پناہ گزین پیسے چوری کرنے آئے ہیں۔’میں اپنے بارے میں ایسا سوچنا بھی نہیں چاہتی کہ میں ان سے ایک ہو سکتی ہوں۔ پناہ گزین کوئی اچھا لفظ نہیں ہے جسے اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔‘

بہت تبدیلیاں رونما ہوئیں
بچپن میں مایا کا خواب سفارت کار بننا تھا اور وہ اس مقصد کے لیے سیاسیات کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں تا کہ وہ سفیر بن سکے۔تاہم مایا کی شام میں بچپن کی کئی اچھی یادیں ہیں، جہاں وہ اپنے اپنے رشتہ داروں کے درمیان گھری ہوتی تھی۔دمشق کے مضافات میں مایا کے والد ایک کپڑے کی فیکٹری چلاتے تھے مگر مایا کے مطابق جب اس علاقے کو فوج نے اپنے گھیرے میں لے لیا تو ان کے والد نے سوچا کہ اب اس ملک سے باہر چلے جانے اور کوئی متبادل کام تلاش کرنے سے بہتر حل اور کوئی نہیں ہے۔ جس کے بعد ان کے والد نے برطانیہ میں پناہ حاصل کر لی۔

کمسن مایا نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور شام میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے انھیں تین بار سکول تبدیل کرنا پڑا۔ایک نئی شروعات کی امید لیے سنہ 2015 میں مایا کا خاندان برطانیہ چلا گیا مگر وہاں پہنچ کر مایا کو احساس ہوا کہ جیسے اس پر سب دروازے بند ہوں۔مایا کے لیے کامیابی حاصل کرنے کے امکانات بہت مسدود ہو گئے تھے۔ دنیا بھر میں 83 ملین پناہ گزینوں کے لیے تعلیم تک رسائی بہت مشکل امر بن کر رہ گیا ہے۔

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ جب پناہ گزینوں کے بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کے لیے تیزی سے مواقع کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر 37 فیصد عام آبادی کے مقابلے میں صرف تین فیصد پناہ گزینوں کی تعلیم تک رسائی ممکن ہو پاتی ہے۔مایا کا کہنا ہے کہ بار بار رد کیے جانےاور میری صلاحتیوں کو کمتر سمجھنے جیسے رویوں نے مجھے اور طاقتور بنا دیا۔

ایک نئی سمت کا تعین

بالآخر مایا کو برطانیہ میں انجنئیرنگ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل ہی گیا۔ تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے مایا اپنی ماں کے ساتھ لندن گئیں تاکہ وہ مختلف یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے درخواست دے سکیں۔ مایا ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب ایک ہوٹل میں ٹھہریں۔اس ہوٹل سے مایا جہازوں کی اترنے اور پرواز بھرنے کے مناظر کو بہت شوق سے دیکھتی تھیں۔ اس کے بعد جیسے ایک نیا خواب آنکھوں میں آ بسا ہو اور مایا نے پائلٹ بننے کا فیصلہ کر لیا۔

مگر اس کے بعد بھی کئی طرح کے شکوک و شبہات سے واسطہ پڑ گیا۔ کچھ دوستوں اور رشتہ داروں نے یہاں تک بھی کہا کہ آپ ایک خاتون ہیں تو ایسے میں آپ پائلٹ کیوں بننا چاہتی ہیں؟ آپ کو ملازمت کون دے گا۔ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق کمرشل ایوی ایشن کی صنعت میں مرد حضرات کی تعداد نمایاں ہے اور عالمی سطح پر 20 میں سے صرف ایک خاتون پائلٹ ہے۔

اس سب کے باوجود مایا ثابت قدم رہیں اور لندن یونیورسٹی میں ان کا ایوی ایشن انجنیئرنگ میں سنہ 2017 میں داخلہ ہو گیا جہاں انھوں نے پائلٹ سے متعلق تعلم حاصل کی۔ مایا تعلیم کے ساتھ جزو وقتی ملازمت بھی کرتی تھیں۔ وہ تقریبات میں لیکچر دیا، پیسے ادھار لیے اور اپنی خواہشات کو قابو میں رکھ کر بچت کر کے کاک پٹ تک رسائی کو ممکن بنایا۔

مایا کا کہنا ہے کہ ان کا پہلی پرواز کا پہلا گھنٹہ شدید دباؤ والا تھا، جسے وہ بالکل پسند نہیں کرتیں۔ یہ بہت ہی جذبات والا گھنٹہ تھا۔ اور یہ وہ کچھ نہیں تھا جس کا میں نے تصور کر رکھا تھا۔میرے کان جیسے پھٹ رہے ہوں۔ میرے سر میں درد ہونا شروع ہو گیا اور اس کے علاوہ بہت کچھ ہو رہا تھا۔ ہم نے پرواز بھری اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ریڈیو کے ذریعے کیا پیغامات دیے جارہے ہیں۔مگر برطانیہ آنے کے چار برس بعد مایا نے اکیلے ہی پرواز کی۔ جیسے ہی وہ پرواز بھرنے کی تیاری کر رہی تھیں تو ایسے میں ایئرٹریفک کنٹرولر کی طرف سے اس نے ریڈیو پر اپنا نام سنا۔ یہ سن کر مایا کے رونگھنٹے کھڑے ہو گئے۔

مایا کے مطابق میری پہلی پرواز بہت مختصر دورانیے کی تھی۔ میں نے ایئرپورٹ کے گرد ایک چکر کاٹا اور پھر لینڈنگ کر لی۔ یہ بہت ہی خوشی والی پرواز تھی۔ مجھے اپنے اوپر بہت فخر ہو رہا تھا۔

ایک سننے کے قابل کہانی

مایا نے اپنی سند 2:1 کے تناسب سے امتیازی نمبرں سے حاصل کی۔ اب مایا ماسٹرز ڈگری حاصل کر کے کمرشل فلائیٹ کا لائسنس حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مایا کو 150 گھنٹے کا فلائینگ ہاورز کا ہدف حاصل کرنا ہو گا۔ مایا کی ہر گھنٹے کی قیمت 275 ڈالر (تقریباً 46 ہزار پاکستانی روپے) بنتی ہے۔

اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ مایا پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے بھی کام کر رہی ہیں۔ اس نے پناہ گزینوں میں نامساعد حالات کے باوجود ہمت سے آگے بڑھنے کے موضوع پر لیکچر بھی دیا اور اس سال یو این ایچ سی آر نے انھیں اپنا خیر سگالی کا سفر بھی مقرر کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے یو این ایچ سی آر کو یہ امید ہے کہ جب کورونا وائرس سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی جائے گی تو مایا کو پناہ گزینوں کے کیمپوں میں لے جایا جائے گا۔ یو این ایچ سی آر 2030 تک پناہ گزینوں کی آبادی میں سے 15 فیصد تک کے لیے اعلی تعلیم کے حصول کو ممکن بنانا چاہتی ہے۔ مایا کا اس بات پر قوی ایمان ہے کہ تعلیم کھانے پینے جتنی ہی اہمیت کی حامل ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ سب سے پہلے پناہ گزینوں سے متعلق لوگوں کے تاثر کو بہتر کرنا چاہتی ہیں اور ان کے لیے کمیونٹی کی مزید حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔ پناہ گزینوں کی مدد ایک بہت سادہ سے طریقے سے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ یہ حمایت صرف ان کی طرف دیکھ کر مسکرانے سے شروع ہو سکتی ہے، انھیں شہر کے بارے میں معلومات دے کر بہتر روزگار کی تلاش میں مدد دی جا سکتی ہے۔ مایا کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی دوسروں کے لیے حوصلے کا باعث بن سکتی ہے کہ وہ تمام مشکلات پر قابو پا کر تعلیم حاصل کریں۔ ان کے مطابق میں لوگوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ یہ سب آسانی سے نہیں ہو جاتا۔ میں شام سے آئی ہوں، میں ایک جنگ کے درمیان سے نکل کر یہاں تک پہنچی ہوں اور میں ایک پناہ گزین ہوں۔جب میں پہلی بار برطانیہ آئی تو مجھے ایک بہت اچھی کہانی کی تلاش تھی۔ میں کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھی جو ایسے نامساعد حالات سے گزرا ہو اور اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہو۔ میرے نکتہ نظر سے ایسا کر کے دکھانا بہت اہم ہے۔ ان لوگوں کو یہ دکھانا کہ ہمت کبھی نہیں ہارنی، اپنے اوپر یقین رکھیں اور اپنے آپ کو سخت محنت پر آمادہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب لوگ ان کی کہانی سنتے ہیں تو وہ حیران رہ جاتے ہیں۔ اور میری کہانی پناہ گزینوں سے متعلق منفی تاثر کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ’مجھے ایک دقیانوسی سوچ کی حامل کے طور پر دیکھا گیا کیونکہ میں ایک پناہ گزین تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے بارے میں اس وجہ سے کچھ بھی فرض نہ کریں کیونکہ میں ایک پناہ گزین ہوں، ایک مسلمان ہوں، ایک عرب ہوں اور ایک خاتون ہوں۔ کوئی بھی مفروضے پر مبنی سوچ اور عنوان مجھے تبدیل نہ کر سکا۔ میں ایسے ہی اپنی زندگی کو کنٹرول کرنے کے قابل ہوں جیسے میں ایک جہاز کو کنٹرول کرتی ہوں۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔