ماہ چوچک بیگم: مغل بادشاہ اکبر کے لیے ’دردِ سر‘ ثابت ہونے والی سوتیلی ماں

227

ماہ چوچک دوسرے مغل بادشاہ نصیرالدین محمد ہمایوں کی سب سے چھوٹی بیوی تھیں۔ ان کے والدین کا تذکرہ تو کسی تاریخ میں نہیں البتہ یہ ضرور پتا چلتا ہے کہ ارغن کے بیرم اوغلان اور فریدون خان کابلی ان کے بھائی تھے۔سنہ 1546 میں فوجی ذہن کی حامل ماہ چوچک سے شادی کے وقت ہمایوں، شیر شاہ سوری سے شکست کے بعد چھ سال سے ہندوستان سے باہر تھے۔جلاوطنی میں ہمایوں جہاں جاتے ان کی محبوب اہلیہ حمیدہ بانو ان کے ساتھ ہوتیں مگر ایک بار کابل گئے تو حمیدہ بانو کو قندھار چھوڑ گئے۔این میری شمل لکھتی ہیں کہ حمیدہ بانو کو شدید رنج پہنچا جب انھیں علم ہوا کہ کابل میں ان کے شوہر نے ماہ چوچک (دراصل ماہ چِچِک، مفہوم چاند کا پھول) سے بیاہ کر لیا ہے۔رنج کی وجہ شاید یہ تھی کہ بانو کو زعم تھا کہ ہمایوں ان سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ان کے بعد کسی اور کا نہیں سوچیں گے۔ یہ اعتماد بے وجہ نہیں تھا۔ ہمایوں بانو کو ایک بار دیکھ کر اتنے گرویدہ ہوئے تھے کہ انھیں شادی کے لیے قریباً چالیس روز تک کوشش کرنا پڑی تھی۔

ہمایوں کی بہن گل بدن بیگم نے اپنی کتاب ’ہمایوں نامہ‘ میں لکھا کہ ’حمیدہ بانو بیگم (شادی کے لیے) کسی طرح راضی نہیں ہوتی تھیں۔ آخر میری والدہ دلدار بیگم نے ان سے کہا کہ آخر کسی نہ کسی سے تو بیاہ کرو گی۔ پھر بادشاہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے؟ بانو نے جواب دیا، ہاں میں کسی ایسے آدمی سے بیاہ کروں گی جس کے گریبان تک میرا ہاتھ پہنچ سکے، نہ کہ ایسے شخص سے جس کے دامن تک بھی، میں جانتی ہوں میرا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔ میری والدہ نے۔۔۔ آخر کار انھیں راضی کر لیا۔‘

کابل کی اہمیت:کابل ہمایوں کی جائے پیدائش تھا۔ یہیں سے سنہ 1504 میں فتح اور عوامی عمارتیں اور باغات بنوانے کے بعد ان کے والد ظہیرالدین بابر 1526 میں ہندوستان کو زیرِ نگیں کرنے نکلے تھے۔بابر کا کہنا تھا کابل کی آب و ہوا اور اس کے پھلوں کی وجہ سے انھیں اس شہر سے پیار ہو گیا تھا۔ اپنی تدفین کے لیے بھی بابر نے اسی کو چنا۔بابر کی موت کے بعد ان کے بیٹے ہمایوں اور مرزا کامران کابل کے لیے کئی بار ایک دوسرے سے لڑے یہاں تک کہ 1550 میں ہمایوں کو فتح ہوئی۔

افیون اور بھیڑیں:ہمایوں کابل میں ڈیڑھ سال رہنے کے بعد ایک بار بلخ گئے۔ ہمایوں نامہ میں لکھا ہے کہ ’رواج (سرد پہاڑی علاقے کے سرخ پھولوں والے پودے) کے باغ کی جانب جاتے ہوئے پہلے افغانی آغاچہ گھوڑے سے گریں جس سے ایک گھنٹہ رکنا پڑا پھر ماہ چوچک بیگم کا گھوڑا بدکنے لگا۔ آپ (ہمایوں) ان باتوں سے بہت پریشان ہوئے۔ چہرے پر کلفت کے آثار ہویدا ہوئے۔ تو فرمایا کہ تم لوگ آگے جاؤ، میں ذرا افیون کھا کراور اپنی طبیعت درست کر کے آؤں گا۔ ہم لوگ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ آپ ہشاش بشاش چلے آئے۔‘
دوسری بار ماہ چوچک اور (ہمایوں کی پہلی بیوی) بیگہ بیگم کے سیر پر جانے کے لیے دیرسے تیار ہونے پر ہمایوں کی ناراضی کا ذکر ہے۔ پہاڑی وادیوں میں سیر کے بعد شام میں بھی ہنسی خوشی وقت گزارنے کی بات بتانے کے بعد گل بدن لکھتی ہیں کہ ’صبح نماز کے وقت آپ باہر تشریف لے گئے اور وہاں سے بیگہ بیگم، حمیدہ بانو بیگم، ماہ چوچک بیگم اور مجھے اور سب بیگمات کو الگ الگ خط لکھ بھیجے کہ اپنے قصور پر نادم ہو کر تحریری معذرت کرو۔۔۔ سب بیگمات نے عذر خواہی لکھ کر خدمت اقدس میں بھجوا دی۔۔۔ حمیدہ بانو بیگم نے ہم سب کے ہاں نو نو بھیڑیں بھیجیں۔‘ گل بدن بیگم نے نارنگیوں کے باغ کی سیر کا احوال بھی لکھا ہے جو ہمایوں، ماہ چوچک سمیت بیگمات کے ساتھ کرتے تھے۔ کابل ہی سے روانہ ہو کر ہمایوں نے ہندوستان میں اپنے حریفوں شیر شاہ سوری اور ان کے بیٹے اسلام شاہ کی وفات کے بعد حالات سازگار ہونے پر سلطنت دوبارہ حاصل کی مگر سنہ 1556 میں ہمایوں کو ہندوستان کا تخت دوبارہ سنبھالے ابھی چند ہی مہینے ہوئے تھے کہ سیڑھیوں سے گرنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔

’اکبر کو زخمی انگوٹھے کی طرح پریشان کیا‘:ماہ چوچک نے پہلے غنی خان کے رشتے دار فضائل بیگ سے کامیاب اتحاد کیا تاکہ غنی خان کو ہٹایا جائے پھر فضائل بیگ کو مروا دیا۔ ہمایوں کے دور کے ایک امیر شاہ ولی اتگا نے اس میں ان کی مدد کی۔ مرزا حکیم کو بھی انھی کی سرپرستی میں دے دیا۔ اتگا کے ارادے خطرناک لگے تو انھیں ہٹانے کو حیدر قاسم کوہبار کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ یوں اگلے چند سال میں وہ ایک سیاسی قوت بن کر ابھریں۔ ماہ چوچک بیگم کی سرگرمیاں اور ان کے سیاسی عزائم یقیناً سلطنت مضبوط کرتے بادشاہ اکبر کے لیے دردِ سر ثابت ہوئے اور بعض مورخین کے مطابق ’انھیں زخمی انگوٹھے کی طرح پریشان کیا۔‘ماہ چوچک کے اندازِ حکمرانی سے متعلق معلومات بہت کوشش کے باوجود نہیں مل سکیں کیونکہ تذکرہ نگار بادشاہ اکبر کے زیرِ سایہ تھے۔ گل بدن بیگم کا ’ہمایوں نامہ‘ جس میں ماہ چوچک کا کوئی تین چار بار ذکر ہوا ہے، ایسے اچانک ختم ہوا کہ آخری فقرہ بھی نامکمل رہا۔شاید انھوں نے بعد میں ان کی بات کی ہو یا کرنا چاہتی ہوں۔ ان کی کتاب کا اختتام ہمایوں کے چارو نا چار اپنے باغی بھائی مرزا کامران کی آنکھوں میں سلائی پھروانے کے واقعے پر ہوتا ہے۔ آخری جملہ یہ ہے کہ ’اس کے بعد حضرت بادشاہ ۔۔۔‘ جس سے لگتا ہے کہ کتاب مصنفہ کی بجائے کسی اور کے ارادے سے تمام ہوئی ہو گی اور بہت سی باتیں ان کہی اور انجانی رہ گئی ہوں گی۔ تاہم مونس فاروقی کہتے ہیں کہ ماہ چوچک کا سیاسی مقصد، جس کے حصول کے لیے وہ یکسو رہیں یہ تھا کہ مرزا حکیم اکبر کے لگائے ہوئے یا ان کے وفادار عمال کے زیر اثر نہ آسکیں۔اسی لیے سنہ 1563 میں کابل سے خوب واقف منعِم خان کی سربراہی میں اکبر کی بھیجی گئی فوج کے مقابل انھوں نے اپنے لشکر کی خود قیادت کی۔ جلال آباد کے قریب لڑائی میں ماہ چوچک فاتح رہیں۔ اس سے یہ یقینی ہو گیا کہ جب تک وہ زندہ ہیں کابل اکبر کے قبضے میں نہیں ہو گا۔

جس پر احسان کیا اسی نے جان لی:اکبر سے اختلاف کے جرم میں بند تِرمِذ کے سید خاندان سے ایک ہنگامہ خیز رئیس شاہ ابوالمعالی، لاہور کے قید خانے سے فرار ہو کر حفاظت اور پناہ کی تلاش میں کابل پہنچے اور ماہ چوچک بیگم کے پاس گئے۔بیگم نے اپنے مشیروں سے مشورہ کر کے ان کا خیر مقدم کیا، ان کے ساتھ فراخ دلی سے پیش آئیں۔ ماہ چوچک نے شاہ ابوالمعالی کو سیاسی پناہ دی اور اپنی بیٹی بخت النسا (فخر النسا) کی شادی ان سے کر دی۔مگر شاہ جلد ہی ماہ چوچک بیگم کے ’تسلط اور مداخلت‘ سے تنگ آ گئے۔شمل نے لکھا ہے کہ ’شاہ ابوالمعالی نے کابل کی سیاست پر اپنی مکمل بالادستی قائم کرنے کے لیے سازش کی اور 1564 میں ماہ چوچک بیگم اور ان کے مشیر حیدر قاسم کو قتل کر دیا۔اکبر نامہ کے مطابق ماہ چوچک کے بیٹے مرزا حکیم کو خوش قسمتی سے بدخشاں کے مرزا سلیمان نے بچایا جنھوں نے ابوالمعالی کو شکست دے کر قتل کر دیا اور کابل پر گرفت برقرار رکھنے میں مرزا حکیم کی مدد کی۔
اکبر نامہ میں درج اس واقعے کے چیدہ چیدہ نکات یہ تھے: ’بہترین واقعات میں سے ایک ابوالمعالی کی سزا تھی۔ اس بدبخت نے سندھ سے ایک درخواست مرزا محمد حکیم کی والدہ ماہ چوچک بیگم کو بھیجی جو کابل میں سب سے زیادہ طاقتور تھیں۔ اس درخواست میں اپنی بے بسی ایک شعر میں بیان کی جس کا مفہوم تھا کہ ہم عزت و جلال کی تلاش میں اس دروازے پر نہیں آئے، ہم یہاں تقدیر کے ہاتھوں تحفظ کے لیے آئے ہیں۔‘’مشیروں سے مشورہ کے بعد۔۔۔ سادہ لوح بیگم نے شاہ ابو المعالی کے خط کا نرم زبان میں جواب دیا اور انھیں پورے اعزاز کے ساتھ کابل لے آئیں۔ شہنشاہ کے دربار میں تحقیق کیے بغیر اپنی بیٹی فخر النسا بیگم کو ابوالمعالی کے نکاح میں دے دیا۔ اس کا پھل جلد ہی مل گیا کیونکہ تھوڑے ہی عرصے میں اس ملن کے نتیجے میں بیگم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔‘’ابوالمعالی جو ہمیشہ عقل کی کمی اور تنگ نظری اور دیگر برائیوں کا مظاہرہ کرتا تھا، جب اس گھر کا مالک ہوا تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ اس نے بیگم کے احسانات کو ٹھکرا دیا اور قتل کا ارتکاب کرنے کی تاک میں پڑا۔۔۔ جب بیگم کو حقائق کا علم ہوا تو انھوں نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا۔ ابو المعالی نے دو بدمعاشوں کی مدد سے دروازہ توڑا اور اندر داخل ہو کر بیگم کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ عبرت انگیز تباہی اپریل 1564 میں پیش آئی۔ بیگم کا خون بہانے کے بعد وہ مرزا محمد حکیم کی تلاش میں تیزی سے نکلا۔ اگلے دن اس نے حیدر قاسم کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔‘

’بدخشانیوں نے ان کا تعاقب کیا۔ وہ انھیں پکڑ کر مرزا سلیمان کے سامنے لے آئے۔ دو دن بعد انھوں نے ظالم کو زنجیروں میں جکڑ کر مرزا حکیم کے پاس بھیجا جنھوں نے گلا گھونٹنے کا حکم دیا۔۔۔ گلا گھونٹتے وقت اس کا ناپاک کردار ظاہر ہوا اور اس نے التجائیں اور فریادیں کیں تاکہ شاید ہزار ذلتوں سے وہ چند دن اور زندگی حاصل کر لے حالانکہ وہ موت سے بھی بدتر تھیں۔۔۔ خدا کی حمد ہو، دنیا اس کے نفرت انگیز وجود سے پاک ہو گئی۔‘
احکامات بیٹی کے نام سے بھی جاری ہوتے رہے:ابوالمعالی کی پھانسی کے بعد، بخت النسا بیگم (فخر النسا بیگم) کی شادی بدخشاں کے خواجہ حسن نقشبندی سے کر دی گئی۔ سنہ 1581 میں مرزا حکیم نے کابل میں بغاوت کے راستے میں پنجاب پر حملہ کرتے ہوئے لاہور کی طرف پیش قدمی کی۔ یہاں انھیں اس صوبے کے گورنر مان سنگھ نے روکا۔اکبر نے مرزا حکیم کے خلاف اعلان جنگ کیا اور کابل چلے گئے۔ مرزا حکیم بھاگ کر پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔ اکبر نے انھیں معاف کر دیا لیکن کابل کی گورنری اب ان کی بہن بخت النسا بیگم کو دے دی۔اکبر نے کہا کہ اگر مرزا حکیم نے آئندہ بدتمیزی کی تو ان پر کوئی مہربانی نہیں کریں گے۔این والٹ ہال لکھتی ہیں کہ ’اکبر کے کابل سے چلے جانے کے بعد مرزا حکیم کو اپنا پرانا عہدہ واپس مل گیا لیکن تمام سرکاری احکامات بخت النسا کے نام جاری ہوتے۔ مرزا حکیم کی موت زیادہ شراب نوشی کی وجہ سے ہوئی۔‘تزک جہانگیری میں ہے کہ مرزا حکیم کی وفات کے بعد بخت النسا بیگم اور ان کے بیٹے مرزا ولی شاہی دربار میں شامل ہو گئے اور بادشاہ اکبر نے انھیں خوش رکھنے کے لیے بہت کچھ کیا۔
یکم جون 1608 کو بخت النسا بیگم کا شدید بخار سے انتقال ہو گیا۔دربارِ اکبری میں مولانا محمد حسین آزاد لکھتے ہیں کہ ’حیف (افسوس) ہے کہ اکبر کا بھائی ایسا بے اقبال، بدعقل، کم ہمت تھا کہ جب تک جیا، نوکروں کے ہاتھوں میں چمچہ قلی بنا رہا۔ اگر وہ انسان ہوتا تو تمام خراسان زمین اس کا مال تھا۔ قندھار تو جیب کا شکار تھا۔ بلخ کو لاب، حصار، بدخشاں وغیرہ تک پھیلا کر عبد اﷲ خاں ازبک کو برسر حساب لیتا اور اکبر کا دائیاں ہاتھ بن کر ملک موروثی کو چھڑا لیتا اور اکبر بھی وہ عالی ہمت بادشاہ تھا کہ اسے اپنے تاج کا لعل اور ہار کا موتی بناتا مگر وہ بدنصیب اپنی بدنیتی اور نوکروں کی بدصلاحی سے جوؤں بھرا پوستین بنا رہا۔‘ماہ چوچک بیگم کے دیگر بچوں فرخ فال مرزا، سکینہ بانو بیگم اور آمنہ بانو بیگم نے نمایاں حیثیت حاصل نہیں کی۔سو مرزا حکیم کی موت پر ماہ چوچک اور ان کی اولاد کی مختصر حکمرانی کا سلسلہ تمام ہوا۔ اب شہنشاہ اکبر کے طویل دور کا آغاز تھا۔

وقار مصطفیٰ صحافی و محقق، لاہور