ممبئی:7اپریل ۔کورونا وبا کے جس تیزی سے معاملے بڑھ رہے ہیں اس نے جہاں غریب مزدوروں کے لئے مسائل کھڑے کردئےہیں وہیں مسلمانوں کےلئےبھی مسائل پیدا کر دئے ہیں۔ مسلمان پورےسال ماہ رمضان کا انتظار کرتے ہیں لیکن وبا کے بڑھتے معاملوں کو دیکھتےہوئے مختلف حکومتوں نےجوپابندیاں عائد کی ہیں اس سے ایسا لگتا ہے جیسے رمضان ایک مرتبہ پھر خوف کےسائے میں ہی گزریں گے۔

ممبئی میں ایک وفد نے وزیر صحت سےملاقات کی اور ان سے عبادت گاہوں کو لاک ڈاؤن سے باہر رکھنے کی درخواست کی ہے ۔ادھر رات کےکرفیو کی مدت میں بھی تبدیلی کرنے کی درخواست کی ہےیعنی رات 8 بجے سےلاگو ہونے والےرات کے کرفیو کورات 10 بجے سےنافذ کرنےکےلئے درخواست کی ہےتاکہ تراویح پڑھی جاسکیں۔
ادھر دہلی میں بھی کیجریوال حکومت نےکوروناکے بڑھتے معاملوں کے پیش نظر رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔دہلی کے مسلمانوں میں بھی یہ بےچینی ہے کہ رات کےکرفیو کی وجہ سےتراویح کےاوقات بھی متاثر ہوں گےکیونکہ جو لوگ اپنی مصروفیت کی وجہ سےدیر سےتراویح پڑھتے ہیں ان کا شیڈیول تو متاثر ہو گا ہی ساتھ میں سحری کےاوقات میں بھی لوگ گھر سےباہر نہیں نکل سکتے اورفجر کی نماز بھی ان کو گھرپر ہی ادا کرنی پڑےگی۔

یہ لگاتار دوسرا سال ہے جب کورونا کی وجہ سے ماہ رمضان کاشیڈیول بری طرح متاثرہو رہاہے۔رمضان سےبہت سارے لوگوں کا ذریعہ معاش جڑاہواہےجو بری طرح متاثر ہو گا۔ابھی تو یہ دیکھنا باقی ہےکہ کورونا کاقہر کیا اور کرواتا ہےاور اگر نئے کیسوں میں اضافہ جاری رہا تو مزید نئی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں جس سے عید بھی متاثر ہوسکتی ہے۔