ماہرین کا فیرنیس کریمس استعمال نہ کرنے کا مشورہ

1,555

لکھنؤ: جلدی امراض کی روک تھام کے ماہرین نے فیرنیس کریمس کااستعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے کریمس جوکہ جلد پر لگائی جاتی ہیں نقصاندہ ثابت ہورہی ہیں۔کنگ جارجس میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) میں ڈپارٹمنٹ آف ڈرمیٹالوجی کی ڈاکٹر پرول ورما نے کہا کہ کئی مریض اوپی ڈی سے رجوع ہوتے ہوئے کریمس کے استعمال کی وجہ ہونے والے اثرات کی شکایت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چہرے کو فیربنانے اور زیادہ اچھا دکھائی دینے کیلئے جو کریمس استعمال کی جاتی ہیں، وہ بعض افراد کے جلد کیلئے مناسب نہیں ہوتی۔انہوں نے اسکین وائٹننگ کریمس کے استعمال کے تعلق سے مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسی کریمس کا استعمال نہ کریں جس کی وجہ سے نقصاندہ اثرات مرتب ہورہے ہیں۔اسٹیو رائڈ پر مبنی کریمس اکثر اسکین کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں۔اس سے جلدی امراض پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر ورما نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جلد کو صاف ستھرا اچھا اوراجلا بنانے کیلئے جو پروڈکٹس استعمال ہوتے ہیں وہ اپنے مقصد کی تکمیل نہیں کرتے کیونکہ جلد کا جو رنگ ہے وہ کسی صورت تبدیل نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ کیمیکلس یا وائٹننگ کریمس کا استعمال کرنے کی بجائے جلد کو حقیقی معنی میں صحت مند اور قدرتی طورپر بہتر رکھا جانا چاہئے‘جس سے عرصہ دراز تک جلد خراب نہیں ہوتی۔

جلدی امراض سے متعلق محکمہ کے صدر ڈاکٹر سواستیکا سویریہ نے کہا کہ جلدی خرابیوں کی وجوہات میں آلودگی بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ کریمس کا استعمال کرنے کی بجائے ماہر ڈاکٹروں کے مشورے پر ادویات کا استعمال کیا جانا بہتر ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طورپر ایسی غذائیں استعمال نہیں ہوتی جس سے جلد کی بہتر طورپر نشونما ہوتی ہے۔

جلد سے متعلق خرابیاں غذائی کھانوں کی عادتوں پربھی منحصر ہیں۔ صدر پیتھالوجی ڈپارٹمنٹ پروفیسر یوایس سنگھ نے کہا کہ جہاں تک جلد کی نشونما اور اس کو اچھا اور پرکشش رکھنے کا تعلق ہے اس سلسلہ میں ماہرین سے مشورہ کیا جانا چاہئے۔ڈاکٹر اتن سنگھائی نے کہا کہ جلدی امراض کا اثر علاقوں میں رہنے والوں پر ہوتاہے کیونکہ بعض علاقے بعض افراد کیلئے مناسب نہیں ہوتے۔ڈاکٹر پرول ورما نے کریمس کے نقصانات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک 20سالہ لڑکی کا چہرہ خراب ہوگیا جس کے بعد بتایا گیا ہے کہ وہ مرض جزام میں مبتلا ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ کے جی ایم یو ہاسپٹلس میں آنے والے 400 مریضوں میں 50فیصد ایسے ہوتے ہیں جو کریمس کے استعمال کے نقصاندہ اثرات سے واقف کرواتے ہیں۔