مالیگاﺅں 2006 بم دھماکہ معاملہ: خصوصی عدالت میں3 دسمبر سے باقاعدہ گواہوں کے بیانات کا اندراج شروع ہوگا

0 3

ممبئی:30نومبر(ورق تاز ہ نیوز(مالیگاﺅں 2006ءبم دھماکہ معاملے میں بھگواءملزمین کی جانب سے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کی طبی رپورٹ تسلیم نہیں کیئے جانے کے بعد خصوصی عدالت نے طبی رپورٹ تیار کرنے والے ڈاکٹروں کو گواہی کے لیئے طلب کیا ہے نیز انہیں اس تعلق سے باقاعدہ سمن جاری کیا گیا اور ۳ دسمبر سے ان کو یکے بعد دیگر گواہی کے لیئے طلب کیا گیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ونود پڈالکر نے مالیگاﺅں کے فاران اسپتال، نور اسپتال، علی اکبر اسپتال، سٹی کئیر اسپتال، بالاجی ایکسیڈینٹ اسپتال و دیگر اسپتالوں کے ان ڈاکٹروں کے نام سمن جاری کیا ہے جنہوں نے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کا علاج کیا تھا اور اس کے بعد ان کی میڈیکل رپورٹیں مرتب کی تھیں۔عدالت نے قومی تفتیشی ایجنسی NIAکے وکیل اویناس رسال کی درخواست پر متذکرہ ڈاکٹروں کو سمن جاری کرتے ہوئے انہیں تین دسمبر سے ممبئی میں گواہی کے لیئے طلب کیا ہے ۔

اسی درمیان ممبئی میںمتاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیةعلماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ بھگواءملزمین نے جان بوجھ کر میڈیکل رپورٹ پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے انہیں تسلیم نہیں کیا ہے تاکہ معاملے کو طول دیا جاسکے ، عام طور پر میڈیکل رپورٹ کو بغیر کسی تنازعہ کے قبول کرلیا جاتا ہے جس سے عدالت کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچتا ہے کیونکہ اوریجنل میڈیکل رپورٹ پہلے سے ہی عدالتی ریکارڈ میں موجود ہوتی ہیں ۔گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ اس معاملے کے کلیدی ملزمین بالخصوص کرنل پروہیت کو سپریم کورٹ سے راحت حاصل نہیں ہونے کے بعد اس نے یہ حربہ آزمایا ہے لیکن نچلی عدالت کے مسلسل دباﺅ کی وجہ سے بھگواءملزمین نا چاہتے ہوئے بھی عدالتی کارروائی میں حصہ لینے پر مجبور ہیں۔