ممبئی: مالیگاؤں بم بلاسٹ مقدمے کے گواہان کے مسلسل منحرف ہونے کے پیشِ نظر ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے یومیہ بنیاد پر ہورہی اس مقدمے کی پیروی اب اے ٹی ایس کے افسران وریاستی حکومت کے ماہرین قانون بھی کریں گے۔ یہ اطلاع آج یہاں ریاستی وزیرداخلہ دلیپ ولسے پاٹل نے کیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر وسابق وزیر نسیم خان نے وزیرداخلہ دلیپ ولسیے پاٹل اور ریاستی اے ٹی ایس کے سربراہ ونت اگروال سے ملاقات کرکے مطالبہ کیا تھاکہ مالیگاؤں بم بلاسٹ کیس کے مقدمات کی پیروی اے ٹی ایس کے افسران وماہرقانون سے کرائی جائے تاکہ بم بلاسٹ کے گنہگاروں کو قرارواقعی سزادی جاسکے، جسے وزیرداخلہ نے تسلیم کرتے ہوئے مذکورہ بالا اعلان کیا ہے۔

ریاستی حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ نہایت مناسب ہے جس کے لئے میں وزیرداخلہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔سچائی یہی ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے مالیگاؤں بم بلاسٹ کے ملزمین کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لئے این آئی اے کو آلہ کار بنایا گیا ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ جو این آئی اے پہلے اے ٹی ایس کی تفتیش کو حق بجانب قرار دے رہی تھی وہی اب ملزمین کو بچانے پر آمادہ نظر آرہی ہے۔ کیا یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ ابھی تک اس مقدمے کے گواہان اپنے سابقہ بیان پر قائم رہتے تھے لیکن چندماہ سے اچانک ان کے منحرف ہونے کی خبریں آنے لگیں؟ ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی منصوبہ بندی کام کررہی ہے اور وہ منصوبہ بندی یہی ہے کہ کسی نہ کسی طور پر ملزمین کو بچایا جائے۔

نسیم خان نے کہا کہ اگر ابتداء سے ہی اس مقدمے کی نگرانی اے ٹی ایس وریاستی حکومت کی جانب سے ماہرین قانون نے کی ہوتی اور گواہان پر نگاہ رکھی گئی ہوتی تو غالباًایک بھی گواہ منحرف نہ ہوا ہوتا۔ پھر بھی دیر آید درست آید، ریاستی حکومت نے اس مقدمے کی پیروی اپنے وکلا اور اے ٹی ایس کے افسران کے ذریعے کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو نہایت مناسب ہے۔ اس سے مالیگاؤں بلاسٹ کے ملزمین کونہ صرف قرارواقعی سزادلانے میں مدد ملے گی بلکہ بم بلاسٹ کے متاثرین کے ساتھ انصاف بھی ہوسکے گا۔