ہندوستانی چائے کو بدنام کرنے بین الاقوامی سازش۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا آسام میں دعویٰ
دھیکیا جولی ( آسام ) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ادعا کیا کہ ہندوستانی چائے کو بدنام کرنے کی ایک بین الاقوامی سازش کی گئی ہے ۔ آسام کے دورہ پر مودی نے یہ بات کہی جو ہندوستان میں سب سے زیادہ چائے پیدا کرنے والی ریاست ہے ۔ پندرہ دن میں آسام کے اپنے دوسرے دورہ کے موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ہر ریاست میں ایک میڈیکل کالج اور ایک فنی تعلیم کا ایسا ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں مقامی زبان میں تعلیم دی جاسکے ۔ وہ آسام مالا اسکیم کے آغاز کے موقع پر عوام سے خطاب کر رہے تھے ۔ یہ اسکیم ریاست کی شاہراہوں کو بہتر بنانے کیلئے شروع کی گئی ہے ۔ انہوں نے دو میڈیکل کالجس کا سنگ بنیاد بھی رکھا ۔ مودی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ چائے کے باغات کے ورکرس کی حالت کو ریاست کی ترقی سے جوڑا ہے ۔ تاہم کچھ دستاویزات ایسے سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی چائے کو بدنام کرنے بیرون ملک ایک سازش رچی رکھی گئی ہے ۔ انہیں امید ہے کہ آسام کے چائے کے باغات کے ورکرس اس کا منہ توڑ جواب دینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سازشوں کو آسام کا کوئی بھی چائے کا ورکر برداشت نہیںکرسکتا ۔ انہیں یقین ہے کہ ایسی سازشیں کرنے والوں کے خلاف ریاست کے عوام مقابلہ کرینگے اور ان کا منہ توڑ جواب دینگے ۔ یہ مفادات حاصلہ کی طاقتیں ہیں۔ وزیر اعظم این این جی او گرین پیس کی رپورٹ کا حوالہ دے رہے تھے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہندوستانی چائے میں کچھ جراثیم پائے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بجٹ میں چائے کے شعبہ کیلئے 1,000 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں اور چائے کے باغات میں کام کرنے والے ہر ورکر کو 3,000 روپئے کی امداد فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ چائے کے باغات میںموبائیل میڈیکل یونٹس بھی کام کر رہے ہیں۔ مودی نے مقامی و مادری زبان میں تعلیم کی بھی وکالت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ دلیرانہ خواب ہے کہ ہر ریاست میں کم از کم ایک میڈیکل کالج اور ایک فنی تعلیم کا ادارہ ایسا ہو جہاں مقامی زبان میں تعلیم دی جاسکے ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ آسام میں اسمبلی انتخابات کے بعد یہ ادارے قائم کئے جائیں گے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں